پاناما پیپرز کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

0
966

سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کیس میں جسٹس گلزار نے جماعت اسلامی کے وکیل سے سوال کیا کہ شریف خاندان کے کاروبارسے وزیراعظم کا تعلق کیسے بنتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا کہ نواز شریف کا مؤقف ہے کہ ان کا نام پاناما میں کہیں نہیں،پھرنواز شریف پر کیسے پاناما پیپرز کی ذمہ داری ڈال سکتے ہیں؟

پانامہ پیپرز کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل ججز نے جماعت اسلامی کے وکیل سے پے در پے سوالات کیے تو وہ بوکھلا گئے، بولے ایک وقت میں ایک سوال کا جواب دے سکتا ہوں۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ یہ پانچ رکنی بینچ ہے ، یہاں ایسے ہی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف ایڈووکیٹ کو دوسرے روز بھی ججز کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ اپنی آئینی درخواست میں اٹھائے گئے نکات کی نفی میں دلائل دے رہے ہیں۔

دوران سماعت جماعت اسلامی کے وکیل نے اسپیکر قومی اسمبلی سے وزیراعظم کی تقریر کا ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا کی تو جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کیا عمران خان نے تقریر کا جو ٹرانسکرپٹ لگایا ہے وہ غلط ہے؟

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ تقریر کے متن سے کسی فریق کا اختلاف نہیں تو ریکارڈ کیوں منگوایا جائے؟

توفیق آصف ایڈووکیٹ بولے،ممکن ہے ترجمہ کرتے وقت کوئی غلطی ہو گئی ہو۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر تو اردو زبان میں ہی تھی۔ جسٹس کھوسہ نے کہا ہم آپ کی جمع کرائی ہوئی تقریر کو درست مان لیتے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا لگتا ہے باتیں دوہرا کر آپ سماعت میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔ آپ عدالت سے کم اور میڈیا سے زیادہ مخاطب لگتے ہیں۔ہمارے سوالات کے جواب دیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہم سوالات صرف سمجھنے کے لیے پوچھتے ہیں، عدالت کے سوالات فیصلہ نہیں ہوتے۔

پاناما پیپرز کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی

SHARE

LEAVE A REPLY