امریکی سینیٹ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی جاری ہے ۔ سابق صدر کے وکلا کی جانب سے دلائل پیش کئے جا رہے ہیں جن کے مطابق امریکی کیپیٹل پر حملے کی زمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد نہیں کی جا سکتی اور انہیں اپنے عہدے سے سبکدوشی کے بعد چھ جنوری کے واقعات کے لئے مورد الزام ٹہرانا غیر آئینی ہے ۔
ٹرمپ کے وکلاٗ نے سابق صدر کا دفاع کرتے ہوئے ڈیمو کریٹک اراکین کی اس دلیل سے اتفاق کیا کہ چھ جنوری کو ہونے والا تشدد غیر قانونی اور ناقابل قبول تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا چھ جنوری کو کیپیٹل ہل کی عمارت پر حملے کے ذمہ داروں کو اکسانے میں کوئی کردار نہیں تھا۔
دفاعی وکلاٗ نے کہا کہ کیپیٹل ہل پر ایک متشدد ہجوم کی چڑھائی سے پہلے سابق صدر کا اپنی تقریر میں اپنے حامیوں سے کہنا کہ فائٹ لائیک ہیل یعنی پوری جانفشانی سے لڑیں، آزادی اظہار کے زمرے میں آتا ہے ، جس کی اجازت موجودہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم دیتی ہے۔
سابق صدر اپنے مواخذے کی کارروائی میں پیش ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز ، دونوں پارٹیوں کو اپنے شواہد اور دلائل پیش کرنے کے لیے سولہ سولہ گھنٹوں کا وقت دیا گیا تھا، لیکن سابق صدر کے وکلاٗ نے کہا تھا کہ انہیں اپنے دلائل پیش کرنے میں ایک ہی دن لگے گا۔
جمعرات کو تین ریپبلکن سینیٹرز ٹیڈ کروز، لنڈسے گراہم اور مائیک لی نے سابق صدر کے وکلاٗ سے ملاقات کی تھی۔ سی این این کے مطابق ٹرمپ کے ایک وکیل ڈیوڈ سخون نے ان قانون سازوں کو بتایاتھا کہ ٹرمپ کی دفاعی ٹیم “طریقہ کار سے واقف”ہے۔
ڈیموکریٹک اراکین کی ٹیم نے جمعرات کو اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے۔ ان کی پراسیکیوشن ٹیم کا کہنا تھا کہ سابق صدر ٹرمپ نے چھ جنوری کو کیپٹل ہل کی جانب مارچ کرنے کے لیے اپنے حامیوں کو اکسایا تھا جس کے بعد ہجوم نے کانگریس کی عمارت پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے عمارت کی کھڑکیوں کو توڑا، افسران کو یرغمال بنایا اور محافظوں سے ہاتھا پائی کی۔
ڈیفنس ٹیم کے رکن مائیکل وین ڈیر وین نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ سینیٹ کے سامنے پیش کیا جانے والا مواخذے کا آرٹیکل ایک غیرآئینی اور سیاسی انتقام پر مبنی اقدام ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کو ڈیموکریٹس کی طرف سےالزام تراشی اور سزا دلوانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “ڈیمو کریٹک اراکین نے چھ جنوری کے واقعات کی ہولناک ویڈیوز دکھانے کے لئے مواخذے کی کارروائی تک کا انتظار کیوں کیا”۔ ان کے بقول، مواخذے کے ڈیمو کریٹک مینیجرز کی ذمہ داری تھی کہ ایسے شواہد سینیٹ کے فورم پر لانے سے پہلے سابق صدر کے وکلا کو دکھائے جاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے حامیوں کے لیے ٹرمپ کے بیانات صرف یہ اس چیز کی یقین دہانی تھی کہ جمہوری عمل کو قانون میں درج الفاظ کے مطابق چلنا چاہیے۔ یہ کسی شخص کی جانب سے تشدد پر اکسانے والے الفاظ نہیں تھے۔
جمعرات کے روز اپنے اختتامی کلمات میں ریاست میری لینڈ سے کانگریس کے رکن جیمی راسکن نے سینیٹ کے 100 رکنی ایوان سے کہاتھا کہ وہ جیوری کے ارکان کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انہیں اس بارے میں کامن سینیس کو استعمال کرنا چاہیے کہ اس روز یہاں کیا ہوا تھا۔
سو نشستوں پر مشتمل سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے 50-50 ارکان ہیں۔ صدر کے مواخذے یا انہیں مجرم ثابت کرنے کے لیے ایوان کے دو تہائی یعنی 67 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈیموکریٹ کو سابق صدر کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ری پبلکن جماعت کے 17 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ یہ ہدف بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔













