وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے صوبائی وزیر حسنین بہادر دریشک کا استعفیٰ نامنظور کر دیا۔
حسنین بہادر دریشک نے چند روز قبل ایک اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے تلخ کلامی کے بعد انہیں اپنا استعفیٰ بھجوا دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے اجازت کے بغیر گفتگو کرنے سے روکا تو صوبائی وزیر غصے میں آگئے تھے اور استعفے کی دھمکی دیکر اجلاس سے چلے گئے تھے۔
تاہم اب اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے حسنین بہادر دریشک کا استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسنین بہادر دریشک میری کابینہ کے قابل وزیروں میں سے ہیں۔
پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ حسنین بہادر دریشک میرے لیے ویسے ہی ہیں جیسے مونس الٰہی، حسنین بہادر دریشک کی پرفارمنس بہت اچھی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ حسنین بہادر دریشک بطور صوبائی وزیر اپنے محکمےکو بڑے اچھے طریقے سے چلا رہے ہیں، حسنین بہادر دریشک بطور صوبائی وزیر ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
……………………….
وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی سے تلخ کلامی کے بعد صوبائی وزیر سردار حسنین بہادر دریشک نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔
سردار حسنین دریشک نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ کو بھجوادیا جس کی انہوں نے تصدیق بھی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روزکابینہ اجلاس میں حسنین بہادردریشک کی وزیراعلیٰ پنجاب سےتلخ کلامی ہوئی تھی جس پر صوبائی وزیر احتجاجاً کابینہ اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ کابینہ اجلاس میں ایک ہی وقت میں متعدد وزرا بات کرنا چاہتے تھے مگر وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ میں ڈسپلن کےساتھ کابینہ اجلاس چلاؤں گا، ایک وقت میں ایک ہی وزیر بات کرسکتا ہے، وزیراعلیٰ کی ہدایت کے باوجود سردار حسنین بہادر نے گفتگو جاری رکھی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے اجازت کے بغیر گفتگو سے روکا تو صوبائی وزیر غصے میں آگئے اور استعفے کی دھمی دے کر اجلاس سے چلے گئے۔













