کورونا کی علامات میں اضافہ، لاکھوں نئے مریض سامنے آنے کا خدشہ

0
709

کنگز کالج لندن کے ریسرچرز کاکہناہے کہ کورونا کی علامات میں تھکان،گلے کی خراش ،سردرد اور ڈائیریا کو شامل کئے جانے سے کورونا کی شناخت سے بچ نکلنے والے لاکھوں مریضوں کاپتہ چلایا جاسکتاہے۔جرنل آف انفیکشن میں شائع ہونے والی یہ رپورٹ برطانیہ میں پی سی آر سواب ٹیسٹ سے گزرنے والے کم وبیش 122,000افراد سے کی گئی بات چیت اور معائنے کے بعد جاری کی گئی ہے۔ Zoe ایپ کے اہم سائنسداں اورکنگز کالج لندن کے جنیٹک وبائی امراض کے پروفیسر ٹم اسپیکٹر کاکہناہے کہ ہمیں روز اول سے یہ پتہ ہے کہ کورونا کا پتہ چلانے کیلئے ٹیسٹ میں صرف کھانسی، بخار اورسونگھنے کی طاقت ختم ہونے پر توجہ مرکوز کرکے کورونا کے پازیٹو مریضوں کی بڑی تعداد کو نظرانداز کیاجارہاہے ،ان کاکہناہے کہ ہم نے مئی میں سونگھنے کی طاقت کی نشاندہی کی تھی اور ہماری کاوشوں کی وجہ سے حکومت نے کورونا کی علامات میں اسے شامل کیاتھا لیکن اب یہ واضح ہوگیاہے کہ ان علامات میں ہمیں مزید اضافہ کرنا ہوگا،انھوں نے کہا کہ کورونا کی نئی علامات سامنے آرہی ہیں

خاص طورپر کورونا کے نئے مریضوں میں نئی علامات موجود ہوسکتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ عوام کیلئے ہمارا پیغام یہی ہے کہ اگر آپ اچھا محسوس نہ کررہے ہوں تو یہ کورونا کی علامت ہوسکتی ہےاو راس پر آپ کو کورونا کاٹیسٹ کرانا چاہئے۔کنگز کالج لندن کے سائنسدانوں نے مشترکہ طوپر ایپ استعمال کرنے والے 122,000 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ تو پتہ چلا کہ ان میں سے 1,202 کا ایک ہفتہ کے اندر خود کو بیمار محسوس کئے جانے پر پی سی آر ٹیسٹ مثبت آیا ،سائنسدانوں کے اخذ کردہ نتائج کے مطابق لوگوں میں کورونا کا پتہ چلانے کیلئے معمول کے 3 ٹیسٹ کے دوران صرف 69 فیصد جبکہ جن لوگوں کے ٹیسٹ پازیٹو آئے تھے ان میں بھی کچھ لوگوں کے ٹیسٹ منفی آگئے ،ریسرچرز کاکہناہے کہ کورونا کی علامات میں تھکان،گلے کی خراش ،سردرد اور ڈائیریا کو شامل کئے جانے کے بعد علامات کی بنیادپر 96 فیصد مریضوں کاپتہ چلایاگیا ،اس کے ساتھ ہی ریسرچرز نے یہ بھی پتہ چلایاہے کہ کورونا کی وجہ سے بیمار پڑنے والے 31 فیصد افراد میں بیماری کے اولین 3 دنوں کے دوران کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ریسرچرز کی ٹیم کاکہنا ہے کہ ان کی فائنڈنگز کو ویکسین کے موثر ہونے کے تجربات کے دوران بھی استعمال کیاجانا چاہئے Cepi میں کلینکل ڈیولپمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جیکب کریمر کا کہناہے کہ کورونا کی ویکسین کی صلاحیت کا اندازہ لگانے کے دوران کورونا کی بالکل درست تشخیص بہت ضروری ہے۔اس اسٹڈی سے حاصل ہونے والے نتائج سے کورونا کی تشخیص کے حوالے سے اہم اشارے سامنے آئے ہیں اور کورونا کا پتہ چلانے اور اس کی ویکسین کے حوالے اس اسٹڈی کے نتائج کو مد نظر رکھا جانا چاہئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY