برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے سروے میں نسل پرستی کے حوالے سے تشویشناک انکشاف ہوا ہے۔

لندن سے موصولہ سروے رپورٹ کے مطابق این ایچ ایس کیلئے کام کرنے والے اقلیتی ڈاکٹروں کو نسل پرستی کا سامنا ہے۔

سروے کے مطابق 75 فیصد اقلیتی ڈاکٹروں کو گزشتہ 2 برس میں ایک سے زائد بار نسلی تعصب کا تجربہ ہوا۔

17.4 فیصد ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق کام پر باقاعدگی سے نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چیربی ایم اے ڈاکٹر ناگ پال نے کہا کہ نسل پرستی مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔

میڈیکل ڈائریکٹر پرائمری کیئر نکی کنانی نے کہا کہ این ایچ ایس میں نسل پرستی اور تعصب ناقابل قبول ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق آن لائن سروے میں دو ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY