حضورﷺ نے حج کیسے ادا فرمایا (4)۔۔شمس جیلانی

0
1468

مناسک حج دیگر مصروفیات اور خم میں غدیر میں قیام
گزشتہ قسط میں ہم حضو رﷺ کے آخری حج کے با رے میں با تیں کر رہے تھے۔اور یہاں تک پہنچے تھے کہ آپ نے مقام ِ منٰی میں بھی خطبہ دیا۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔سب اس پر متفق ہیں کہ حضورﷺ منٰی میں ایام تشریق کے تینوں دن قیام پزیر رہے۔حا لانکہ یہ آیت نازل ہو چکی تھی کہ دو دن رہنا ضروری ہے البتہ جو تین دن رہنا چا ہیں وہ تین دن رہ سکتے ہیں۔لہذا حضورﷺ وہاں تین یو م قیام فر ما رہے اور منگل کے دن وہاں سے وادی ِ محصب کی طرف روانہ ہو ئے۔اس پر محد ثین میں اختلاف ہے کہ وہ ﷺوہاں قصدا “ قیام فر ما ہو ئے یا ضرور ت کے تحت تشریف فر ما ہو ئے۔ مجھے اس خیال میں زیا دہ وزن دکھا ئی دیتا ہے کہ حضورﷺ وہاں ضرو رت کے تحت ہی تشریف فر ما ہو ئے۔ کیو نکہ حتمی طو ر سے روانہ ہو نے سے پہلے مدینہ جا نے والوں کو یکجا کر نا ضروری تھاکچھ دو سرے امو ر بھی تھے جو انجا م دینے تھے۔جیسا کہ ام المو نین حضرت عا ئشہؓ کا عمرہ ۔ہم پچھلے صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ وہ مکہ آکر حا لت ِ ایام میں تھیں جب حج پر تشریف لے گئیں۔ لہذا انہیں حضورﷺ نے عمرہ کے لیئے ان کے بھا ئی حضرت عبد الر حمٰن ؓکے ہمرا ہ تنعیم روانہ فر ما یا جسے کہ آجکل چھو ٹا عمرہ کہتے ہیں۔ جبکہ مدینہ منورہ کے لیئے میقات کی حدود ذوالحلیفہ،اہل شا م کے لیئے حجفہ اور عراق کے لیئے ذات عرق اور یمن کے لیئے یلملم کو میقا ت مقررفرما یا گیاتھا۔لیکن بعض احا دیث میں ذکر ہے کہ تنعیم سے احرام با ندھنا صرف حضرت عائشہ ؓکی وجہ سے جا ئز ہوا کیو نکہ وہ کا فی نحیف ہو گئیں تھیں۔ بڑا عمرہ جو آجکل کہلا تا ہے وہ جدہ کی طرف قدرے مسا فت پر تھا۔ بہر حا ل وہ عمرہ سے فا رغ ہو کر حضو رﷺ سے وہا ں آکر مل گئیں۔مگر حضرت انسؓ سے جو حدیث روایت ہوئی ہے اس میں انہو ں نے فر ما یا کہ حضورﷺ وہاں جو قیام پزیر ہو ئے اور اس کا اتبا ع ان کے بعد خلفا ء بھی کر تے رہے اوروہ قصد اً تھا۔جیسا کہ حضرت امام ؒبخا ری نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے سفیا ن سو ری ؒ نے کہا کہ انہو ں نے بحوالہ عبد العزیز بن رفیع بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن ما لک ؓ سے پو چھا کہ کوئی ایسی با ت بتا ئیے جو کہ آپ بتا تے ہو ئے بھو ل گئے ہو ں (حضورﷺ کے حج کے بارے میں) پھر میں نے پو چھاآپﷺنے یو م ِ تر ویہ میں نما ز ظہر کہا ں ادا فرمائی تو انہو ں نے فر ما یا منٰی میں نے پھر پو چھا یوم ِ نفر کو عصر کی نما ز کہاں ادا فر ما ئی؟ انہو ں نے فرما یا کشا دہ نا لے (محصب) میں جس طر ح تمہا رے امرا ء کر تے ہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک اور حدیث حضرت قتا دہ سے ؓ مر وی ہے۔کہ حضرت عمرؓو بن حا رث نے بتا یا کہ عصر اور عشا کی نمازیں بھی وہیں ادا کیں،پھر تھو ڑا آرام فر ما یا اس کے بعد حضورﷺ طواف کے لیئے تشریف لے گئے۔اس سلسلہ میں حضرت مسلم ؒ نے تحریر کیاکہ زہریؒ نے ان سے بیا ن کیاجو کہ حضرت علی بن الحسینؒ سے مر وی ہے کہ حضرت زیدؓ بن اسامہ نے بتا یا کہ یہ روایت ان تک پہنچی ہے کہ انہوں نے حضورﷺ سے پو چھا کہ کل آپﷺ کہاں اترینگے تو آپﷺ نے فر ما یا کہ کیا عقیل نے ہمارے لیئے کو ئی گھر چھو ڑا ہے؟پھر فر ما یا کل ہمﷺ انشا اللہ بنی کنا نہ کی بلند جگہ پر اترینگے یعنی محصب میں اتر ینگے۔جہاں قریش نے کفر پر قا ئم رہنے کی قسم کھا ئی تھی۔اور جن کو اللہ نے ذلیل و خوار کیا اور اپنے نبی ﷺاور دین کو سر خرو کیا۔وہ واقعہ جس کی طر ف حضو ر ﷺ نے اشا رہ فر ما یا وہ اس طر ح تھا کہ بنی کنا نہ نے قریش کو قسم دی تھی کہ وہ نہ تو بنی ہا شم سے نکا ح کر یں۔ نہ خرید و فروخت کریں اور نہ انہیں پنا ہ دیں تا آنکہ رسول ﷺ اللہ کو وہ ان کے سپرد نہ کر دیں۔پھر آپ نے یہ بھی فر ما یا کہ ”نہ مسلمان کا فر کا وارث ہو گا نہ کا فر مسلما ن کا“ لیکن یہاں ایک اور حدیث بیا ن ہو ئی ہے جو کہ حضرت عا ئشہ ؓسے مر وی ہے کہ جس کو ابو داؤدؒ نے اما م احمدؒ حنبل سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اسے متعدد حوالوں سے بیا ن کیا ہے کہ حضرت عا ئشہؓ نے فر ما یا کہ یہا ں جو چا ہے قیام کر ے اور جو نہ چا ہے وہ قیا م نہ کر ے۔ اس لیئے کہ یہاں حضو رﷺ نے صرف کشا دگی کی وجہ سے قیا م فرما یا تھا اور آجکل حجا ج وہاں عمو ما ًقیام نہیں کر تے ہیں۔ واللہ عالم۔
غدیر خم میں قیا م:
اس کے بعد آپﷺ نے روانہ ہو نے کے بعد جو مشہو ر قیا م کیا وہ اٹھا رہ ذالحجہ کو تھا جس میں آپ نے حضرت علی ؓ کی فضیلت اور برا ء ت بیا ن فر ما ئی۔ حضرت ابن ِ اسحا ق ؒ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی ؓ کو حضورﷺ کے حج پر تشریف لے جا نے کی اطلا ع ملی تو وہ بھی ان کی معیت میں حج کر نے کے لیئے باسرعت روانہ ہو گئے اور اپنا نا ئب ایک شخص کو مقر رکر دیا کہ وہ لشکر کی دیکھ بھا ل کرے۔اس نے تما م لشکر کو کیتا ن کے تھا ن جو بیت الما ل میں تھے،تقسیم کر دیئے تا کہ اس کا لبا س بنا کر وہ لو گ پہن لیں۔پس جب آپ کی فو ج قریب آئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی کیتا ن کا حلہ پہنے ہو ئے ہے۔آپ نے اس پر باز پرس کی کہ تیرا برُا ہویہ کیا ہے؟ اس نے بتا یا کہ میں نے فو ج کو حلے پہنا دیئے ہیں تاکہ جب وہ لو گوں میں آئیں تو خو بصورت معلوم ہو ں۔حضرت علی ؓنے حکم دیا کہ رسول ﷺاللہ کے سامنے پہنچنے سے پہلے اسے اتاردو،فو ج نے اس سلو ک پر شکا یت کی۔ تو رسول ﷺاللہ نے ہمیں غدیر خم پر ایک شا میا نے کے نیچے کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ اور ہم نے حضو رﷺ کو یہ فرما تے سنا کہ ”اے لو گو! علیؓ کی شکا یت نہ کرو،خدا کی قسم وہ اللہ کی ذات کے بارے میں یا راہ ِ خدا میں سخت ہیں“۔ (اس سے پہلے ہم یمن کے ہی سلسلہ میں صدقہ کے اونٹوں کے استما ل کے با رے میں حضرت علی ؓ کے منع کر نے پر فو ج میں نا راضگی کا ذکرکر چکے ہیں)۔یہاں ہم ایک اور حدیث بیا ن کر نا چا ہیں گے جو کہ حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے اور نسا ئیؒ نے بہت سے حوالوں سے بیان کیا ہے کہ حضو رﷺ نے فر ما یا کہ ”یوں معلوم ہوتا ہے کہ مجھے مطلع کیا گیا اور میں نے جواب دیا کہ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں کتاب اللہ اور اپنی اولاد (اہل ِ بیت) چھو ڑے جا رہا ہو ں تا کہ دیکھوں کے تم ان کے سا تھ کیسی میری نیا بت کرتے ہو؟ یہ دو نوں چیزیں ایک دو سرے سے الگ نہیں ہونگی حتٰی کہ وہ حو ض (کوثر) پر آجا ئیں گے۔پھر فر ما یا اللہ میرا ﷺ علی مو لیٰ ہے اور میں ﷺ ہر مو من کا ولی ہو ں پھر آپﷺ نے حضرت علی ؓ کا ہا تھ پکڑ کر فر ما یا کہ جسے میں ﷺ محبو ب ہو ں یہ اس کا ولی ہے۔اے اللہ جو اس سے محبت کرے اس سے محبت کر اور جو اس سے عداوت رکھے اس سے عداوت رکھ۔اس وقت جو لوگ سا ئبا ن کے تلے تھے سب نے رسول ﷺاللہ کے یہ الفاظ سنے انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ہما رے شیخ ابو عبد اللہ ذہبی ؒ بیان کر تے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اس حدیث کو ابن ِ ما جہ ؒ، عبد الرزاقؒابن ِ جریر ؒ۔امام احمد ؒ نے بھی تحریر کیا ہے۔ اس حدیث کا حوالہ حضرت علی ؓ نے بھی رحبہ (صحن ِ مسجد کوفہ)میں خطبہ دیتے ہوئے دیا اور لو گوں سے تصدیق کرنے کے لیئے فر ما یا تو وہاں پر مو جو د آٹھ صحا بہ کرا مؓ نے جو کہ حج کے مو قعہ پر حضورﷺ کے ہمرا ہ تھے کھڑے ہو کر گوا ہی دی۔اس کے علا وہ بھی رحبہ میں اس گواہی کے سلسلہ میں احا دیث مو جو د ہیں ایک میں تعداد با رہ ہے۔لہذا یہ حدیث تو متفقہ علیہ ہے مگر یہا ں وہ ذکر نہیں ملتا، کہ حضورﷺ نے انہیں خلیفہ نا مزد کیا۔ہا ں اس سے پہلے کی ایک حدیث مو جود ہے جس میں حضورﷺنے فرمایا کہ ہم ﷺنبیوؑں کی ورا ثت ما ل میں نہیں بلکہ علم(رو حا نیت)میں چلتی ہے۔ لہذا وہ حضرت علی ؓ کو منتقل ہو ئی اور کو ئی فر قہ ایسا نہیں جو علیؓ کو ولی اللہ نہ ما نتا ہو۔اور اس حدیث پر یقین نہ رکھتا ہو کہ علیؓ مو لیٰ فھوامن کنت مو لیٰ۔ حضرت بیہقیؒ ؒنے یہاں ایک روایت اوربیا ن کی ہے جو حضرت ثعلبہؓ بن یزید سے ہے کہ عبد اللہ بن سبیع نے کہا کہ جب علیؓ زند گی اور مو ت کی کشمکش میں مبتلا تھے،تو انہو ں ؓنے کہا کہ آپ یہ بتا ئیے کس نے یہ کا م کیا ہے اور اجا زت دیجئے، کہ میں اس کے پورے خا ندان کو قتل کر دوں۔ مگر انہو ں ؓ نے فر ما یا کہ تجھے خدا کی قسم ہے تو کسی بے گنا ہ کو میرے لیئے قتل کر ے۔پھر اس نے پو چھا کہ آپؓ اپنے بعد خلیفہ کس کو مقرر کر کے جا رہے ہیں،تو فر ما یا کہ میں تم کو اسی طر ح چھو ڑونگا، جس طر ح رسول ﷺاللہ نے چھو ڑا تھا۔اس جو اب سے ان تما م با توں کی تر دید ہو جا تی ہے جس میں ان کے غدیر خم میں خلیفہ نا مزد کر نے کی با ت کی جاتی ہے۔البتہ یہ قرین ِ قیا س ہے کہ روحا نیت میں ورا ثت کی با ت حضورﷺ نے دہرا ئی ہو جس کا مفہو م غلط سمجھا، یا سمجھا یا گیا ہو؟اس کی مزید تر دید حضرت عمر ؓکے انتقال کے وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس جواب سے ثابت ہو جا تی ہے جوکہ انہوؓں نے دیا تھاکہ میں اگر خلیفہ نا مزد کروں، تو اپنے سے بہتر کی پیروی کرونگاؓ اور نا مزد نہ کروں تو ان سے بھی بہترﷺ کی پیروی کرونگا کسی مسلمان کے نزدیک کوئی اور ہوسکتا ہے ایسا سوائے حضور ﷺ کے لہذا یہ اشارہ لازمی طور پر حضور ﷺ کی طرف ہے۔ واضح رہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ کواپنا جانشین مقرر کیا تھا جب کہ ان کے اپنے ارشادات کے مطابق وہ خود کو حضرت عمر ؓسے اس لیئے بہترنہیں سمجھتے تھے کہ کوئی اپنے کو کسی سے وہاں بہتر نہیں سمجھتا تھا۔؟ اس کی وجہ حضور ﷺ وہ تعلیمات تھیں کہ ہر پکا مسلمان اپنی جگہ بہت بڑی شخصیت اور صاحب ِ کمال ہوتے ہوئے وہ تسلیم اس لئیے نہیں کرتا تھا کہ ان کا یہ فعل اظہار ریا کاری میں نہ آجائے؟ جب کسی کے بارے میں کبھی کچھ حضورﷺ فرما دیتے تھے تو لوگوں کواس کے وصف کا پتہ چلتا تھا۔ چونکہ دنیامیں وقت کا محافظ حضورﷺ سے زیادہ کوئی نہیں گذرا؟اگر وہاں ٹھہرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی تو پھر وہاں اچانک ٹھہرنے کی وجہ کیا تھی وہ کوئی اہم خبر ہی ہوسکتی تھی کوئی اہم تبدیلی ہی ہوسکتی کیا تھی وہ کیا وجہ تھی کوئی دنیا کو نہیں بتا سکتا ہے؟ کیا حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شکایت سننا اور وہ بھی عوام کے سامنے سننا؟ جیسا کہ ابن کثیر ِؒ اور دوسرے مورخین ؒ اور محد ثین نے لکھا ہے؟جسے سننے سے حضورﷺپہلے ہی کیئے مرتبہ صحابہ کرامؓ کو منع فرماچکے تھے یہ فرماکر کے کہ ًاس کی شکایت مت کر واس سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا کوئی نہیں ہے؟ اس بحث سے ثابت ہوتا ہے وہ راز تھا جوکہ راز ہی رہاممکن ہے وہ ًامام الاولیا ً ہو جس پر سب متفق ہیں۔ رہی حقیقت کیا ہے وہ وہی بتا سکتا ہے جو وہاں پر موجود تھا،ور نہ حتمی طورپر کچھ کہنے کی ہمت کوئی نہیں کرسکتا کیونکہ ہر ایک کے سامنے حضور ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی موجو د ہے جو بات میں نے نہیں کہی اگر کسی نے مجھ سے موسوم کردی تو اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے!لہذا میں بھی و اللہ عالم کہہ کر بات کو ختم کرتا ہوں؟

SHARE

LEAVE A REPLY