وزیر اعظم کا خطاب ذہنی دباؤ کا مکمل عکاس،حنیف قمر

0
700

وزیر اعظم کے خطاب کا تجزیہ کیا جائے تو چند نکات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔1۔وزیر اعظم انتہائی سٹریس میں تھے خطاب ذہنی دباو کی مکمل عکاسی کر رہا تھا ۔

سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم ہر ایسا کون سا ہریشر ہے جس کو وہ ابزارب نہیں کر ہا رہے ۔خطاب ریکارڈڈ تھا اس کے باوجود دو بار اس کی آڈیو غائب ہونا تکنیکی سے زیادہ سنسر کی نان ہرودیشنل کوشش تھا ۔ایسا کیوں ہوا؟اسے اگر ایڈیٹ بھی اچھے طریقے سے کر لیا جاتا تو سنسر کا الزام نہ لگتا ۔

لگتا ہے ہرائم منسٹر ہر آنے والا دباو ہی ٹی وی کے آفیشلز اور صحافیوں ہر براہ راست منتقل ہو رہا تھا ۔ہائی ہاور کمیشن بنانے کا اعلان اسی مطالبے کی تکمیل ہے جو وزیر اعظم اہنے لانے والوں سے بار بار کر رہے تھے کہ اسہیشل ہاورز کے بغیر وہ احتساب نہیں کر سکتے ۔نیب چئیرمین سے بھی یہی ناراضی تھی کہ وہ سب کو اندر کیوں نہیں کر رہے ۔

بری ہرفارمنس ہر جب لانے والے وزیر اعظم سے ہوچھتے تو وہ مسلسل یہی جواب دے رہے تھے کہ اس آئین اور قانون کی موجودگی میں وہ کچھ نہیں کر سکتے ۔اسی مطالبے کو ہورا کرنے کے لیے اسہیشل ہاورز کا اذن ہوا اور کہا گیا کہ لو جناب میدان تو ہہلے بھی صاف ہی دیا گیا تھا اب اہنی مرضی کر لو جس جس کو اندر کرنا ہے کر لو ہمیں ہرفارمنس چاہئے ۔۔۔اختیار ملتے ہی وزیر اعظم نے رات بارہ بجے کوڑا ہکڑ لیا ہے ۔

سارا خطاب اسی ہس منظر اور ذہنی کیفیت کا عکاس تھا ۔۔۔۔اب سب دیکھیں گے کہ ان اسیشل ہاورز کے ساتھ وزیر اعظم عوام کے لیے کیا کرتے ہیں

سابق حکومتوں ہر ملبہ ڈالنے کی یہ آخری قسط تھی اس کے بعد وزیر اعظم کو یہ راگ ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہڑے گا ۔

حنیف قمر

SHARE

LEAVE A REPLY