ندیم صدیقی ,ساتھ بھی چھوڑا تو کب، جب سب بُرے دن کٹ گئے

0
925

یہ مضمون علامہ حضرات ہرگز نہ پڑھیں
ناطق گلاؤٹھوی کی آج برسی ہے
ندیم صدیقی
ساتھ بھی چھوڑا تو کب، جب سب بُرے دن کٹ گئے
زندگی تٗو نے کہاں آکر دِیا دھوکا مجھے
سید ابوالحسن جو اُردو شاعری میں ناطق کہلائے ان کا آبائی وطن گلاوٹھی(ضلع میرٹھ) تھا، اسی نسبت سے ان کے تخلص میں گلاؤٹھوی کا لاحقہ شامل تھا ناطق کا سلسلۂ نسب ساداتِ گیلان سے ملتا ہے روایت ہے کہ ان کے مورثِ اعلیٰ سید منہاج الدین، ۔۔۔احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ہندستان تشریف لائے تھے۔غدر کے ہنگامے میں ان کی جدّی جائیداد ضبط کرلی گئی اور ان کے ایک تایا کو پھانسی بھی دی گئی۔ ناطقؔ کی تعلیم گلاؤٹھی ہی میں ہوئی،پھرانہوں نے دارالعلوم(دیوبند) سےعلوم ِعربیہ کی سند حاصل کی۔ ذاتی کوشش اور مطالعے سےانہوں نےانگریزی میں بھی خاصی استطاعت پیدا کر لی تھی۔
ناطق گلاؤٹھوی نے 1900 میں شاعری کا آغاز کیا اور سن 1904 میں میرزا داغ دہلوی کے حلقۂ تلمذ میں شامل ہوگئے، ابھی چار چھ غزلوں ہی پر اصلاح لی تھی کہ اُستاد، داغِ مفارقت دے گئے۔ اس کے بعد ناطقؔ نے کسی سے اصلاح نہیں لی،ہمیشہ اپنے کلام پر خود تنقیدی اور اصلاحی نظر ڈالی، مولانا ناؔطق تنقیدی وصف کے بھی حامل شخص تھے ، ناگپور کے ممتاز اور اُردو کے معروف محقق ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحلؔ لکھتے ہیں:’’۔۔۔( مولانا ناطق کا ) اشہبِ قلم تنقید کے میدان میں اس قدر تیزی سے دوڑتا کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لیتا، وہ زبان و بیان اور تاریخی واقعات کی غلطیوں کو اُجاگر کرکے رکھ دیتے۔۔۔ آتش لکھنوی،امیرمینائی،یاس یگانہ چنگیزی، حالی، اقبال،سیماب اکبر آبادی،نیاز فتح پوری جگر مراد آبادی، ماہر القادری پر ان کی بے لاگ تنقید میں یہی جذبہ کارفرما نظر آتاہے‘،اس حقیقت کو ان کی کتاب’ سبع سیارہ‘ میں دیکھا جاسکتا ہے جو فیض عام پریس لکھنؤ سے سن 1960 میں 144 صفحات پر شائع ہوئی ہے۔
اس میں تنقیدی مضامین شامل ہیں:
* آتش پرست،* کلیل میں غلیل، *جگر پارے* ماہرالقادری کا تعارف* مَیں نے داؔغ کا تلمذ کیوں اختیار کیا* علامہ کی تشریح اور بے رحم نقاد۔۔۔ اس کے علاوہ انہوں نے امیر مینائی کے شاگرد ثاقب ؔکانپوری کے داغ دہلوی پر اعتراض کے جواب میں ’شہاب ِ ثاقب‘ کے عنوان سے سَو صفحات کا ایک طویل مضمون بھی لکھا ، جس میں امیر مینائی کی شاعری کے معائب نمایاں کیے تھے یہ مولانا عبد الباری آسیؔ کے رسالے’ سخن وَر‘(لکھنؤ)1935 میں مسلسل شائع ہو چکا ہے۔
‘‘دور ِگزشتہ کے لوگ کس قدر ریاضت و مشق کی بھٹّی میں تپے ہوئے ہوتے تھے اس کی ایک شہادت نداؔ فاضلی کی زبانی پڑھیے:
’’۔۔۔ یہ وَن مین شو ناطقؔ صاحب کے اعزاز میں منعقد ہوا تھا۔ (ان سے سوالات بھی پوچھے جارہے تھے۔)۔۔۔ سوالات کرنے والوں میں ایک نوجوان حالیؔ کی زبان میں داغ( دہلوی) پر تنقید کر رہے تھے اور سوال پوچھ رہے تھے۔اُن کا سوال سنتے ہی ناطق صاحب نے بھاری آواز میں دریافت کیا: صاحب زادے آپ کی عمر کیا ہوگی؟ اس غیر متوقع سوال پر وہ پہلے گھبرایا پھر جواباً کہا : میری عمر تیس سال ہے حضرت ! لیکن عمر سے آپ کے جواب کا کیا تعلق ہے۔ ؟
(ناطقؔ نےکہا) ہے،برخودار ہے،کیونکہ جب مَیں سن 1904 میں حضرتِ داغؔ کا شاگرد ہوا تھا تو اُس وقت میری عمر 18 برس تھی اور مَیں ’آفتابِ داغ‘ کا حافظ بن چکا تھا۔ تب سےاب تک اُسی کو دُہرا رہا ہوں۔ داؔغ کا کلام آسانی سے ہر ایک کو منہ نہیں لگاتا۔ اس کی قربت حاصل کرنے کے لیے ریاضت کی ، محنت کی اور زبان کی تہذیب سے واقفیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ان تینوں سے آپ محروم ہیں۔
‘‘ندا فاضلی نے اپنی کتاب’’چہرے ‘‘ میں مطلع کیا ہے کہ ناطق صاحب غزل کے ساتھ نظمیں بھی کہتے تھے ،ان کی نظموں کا مجموعہ’ نطق ِ ناطق‘ سن 1913 میں شائع ہوا تھا۔
ناطق گلاؤٹھوی نے مرزا نوشہ کےکلام کی شرح بھی لکھی جو ’کنز المطالب‘ کے نام سے والیؔ آسی نے مکتبۂ دین وادب(لکھنؤ) سے شائع کی تھی۔ ناطق ؔکی غزلوں کے چند شعر ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں:
اپنی رسوائی کا غم تھا جب ہمیں، وہ دن گئے* اب تو یہ غم ہےکہ ایسی پھر نہ رسوائی ہوئی
تمہاری بات کا اتنا ہے اعتبار ہمیں*کہ ایک بات نہیں اعتبار کے قابل
جو چیز انہوں نے خط میں لکھی تھی، نہیں ملی* خط ہم کو مل گیا ہے،تسلّی نہیں ملی
شیخ جزائے کارِ خیر یہ جو بتا رہا ہے آج* بات تو ٹھیک ہے آدمی معتبر نہیں
ناطقؔ بسلسلۂ ملازمت عرصہ ٔدراز تک ناگپور میں مقیم رہے اور یہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ سیاست میں بھی حصہ لیا اور تیس برس تک ناگپور میونسپل کمیٹی کے رُکن رہے اورسن 1926 میں مرکزی اسمبلی کے رُکن منتخب کیے گئے۔عمر کے آخری زمانے میں خرابیٔ صحت کے باعث سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کی اور خانہ نشیں ہوگئے۔ اُن کی تاریخِ پیدائش سن1886 کی11 نومبر ہےسن1969 کی 27 مئی کو یعنی آج ہی کی تاریخ ناگپور میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔
(🌹ماخذ: مجلہ ’فن اور شخصیت‘ کا کوائف نمبر۔مدیر: صابر دت۔اشاعت: 1994)
**
ہم سب ایک مدت سے دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اہلِ ادب میں ایک بڑا طبقہ نام و نمود کے تعلق سے بڑا حساس ہو گیا ہے انہی میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سرکاری ہی نہیں غیر سرکاری انعام واعزاز کے پیچھے یوں بھاگتا ہے کہ جیسےیہ ایوارڈ ہی ادب کی سند کا درجہ رکھتے ہیں۔لکھنے والوں میں اکثر ایسے بھی ہیںجو ادب کے نام پر’ بھائی گیری‘ پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ ’اہل ِادب‘ کیوں کر سمجھے جاسکتے ہیں۔!
دورِ حاضر میں جو قلم گھسیٹنا جانتا ہے وہ بھی ادیب ہے ،جو مراسلے کے نام پر اخبارات کے کالم بھرتا ہے وہ بھی صحافی ہے، وہ شخص بھی جو اپنے مبتذل اور فاسد خیالات وتصوارت کو کہانی یا افسانے کا نام دینا جانتا ہے وہ بھی فکشن نگار ہے اور ہم جیسے موزوں طبع جو مروجہ بحروں میں مصرعے ڈھالتے یا بہت ہوا غزل کے ڈھیر لگالیتے ہیں وہ بھی شاعر ہی نہیں اپنے آپ کو شاعرِ اعظم سمجھ رہے ہیں اور شعری مجموعوں کا تو عالم یہ ہے اخبا ر کے دفتر میں تبصرے کے لیےقطارلگی ہوئی ہے ۔ ان کتابوں کو دیکھنے کے بعد اُردو کی بُری حالت کہنے والے کاذب ِ وقت لگتے ہیں۔
عوام کا حال یہ ہے کہ انھیں اِن شعری مجموعوں سے دور دور تک کوئی لینا دینا ہی نہیں۔ پھر یہ کتابیں کن لوگوں کے لیے چھپ رہی ہیں؟ یہ سوال غور طلب ہے، اگر آپ غور وخوض کریں تو یقیناً ہماری طرح اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ بس اس طرح ’شاعر نما حضرت‘ کے نفس کی تسکین ہوجاتی ہے۔
اس وقت محترم ناطق گلاؤٹھو ی کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، جن کی علمیت اور بزرگی ایک مثال سے کم نہیں ہے۔ مولانا ناطق گلاؤٹھوی کے حضور ایک قوال بڑی اُمیدوں کے ساتھ پہنچا کہ آج اُن کی خوشنودی حاصل کر ہی کے لوٹوں گا مگر ہوا جو کچھ وہ ہم سب کے لیے نمونۂ عبرت سے کم نہیں۔ قوال نے مولانا کے دروازے پر آواز لگائی۔ کسی نے باہر نکل کر برآمدے میں اسے بٹھایاکچھ دیر بعد مولانا ناطقؔ گھر سے بر آمد ہوئے تو آنے والے نے سلام کیا مولانا نے اسے بیٹھنے کا اشارہ اور آنے کا مقصد دریافت کیا۔
قوال گویا ہوا کہ حضرت مولانا میں نے آپ کی فلاں فلاں غزل( اُس زمانے کی مشہور ریکارڈنگ کمپنی) ایچ ایم وی میں ریکارڈ کروادِی ہے اور اب آپ کچھ اچھی اچھی غزلیں مجھے اور دیدیجئے کہ میں اسے بھی ریکارڈ۔۔۔!!
قوال کو اُمید تھی کہ مولانا میرے اس عمل پر شاداں و فرحاں ہو جائیں گے اور میری خاطر تواضع کریں گے مگر ہوا اِس کے برعکس قوال کے بیان پر مولانا کے چہرے پر خوشی کے تاثر کے بجائے ایک پُرا سرار قسم کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی مولانا ناطق نے کوئی جواب نہ دیتے ہوئے اسے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود اندر چلے گئے کچھ دیر بعد مولانا لوٹے تو اُن کے ایک ہاتھ میں لاٹھی دوسرے میں قدرے بڑی پوٹلی تھی۔ مولانا نے وہ پوٹلی قوال کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسے کھول۔۔۔ اس نے وہ پوٹلی کھولی تو اس میں سے مولانا ناطق کی شعری بیاضیں برآمد ہوئیں۔ مولانا، قہرآ ؔلود نظروں سے قوال کویکھتے ہوئے گو یا ہوئے :
’’بتا، ان بیاضوں میں کتنی غزلیں بُری ہیں۔۔۔ اور یہ بھی بتا کہ کیا تونے میری جوغزلیں ریکارڈ کروائی ہیں کیا وہ غزلیں میں نے تجھے دی تھیں، اور کس کی اجازت سے تونے انھیں ریکارڈ کروایا۔۔۔ اوراب تیری گلو خلاصی اسی میں ہے کہ ان غزلوں کے ریکارڈ فوراً سے پیشتر منسوخ کروادے ۔‘‘۔۔۔۔
ورنہ کہتے ہوئے مولانا نے اپنی لاٹھی کی طرف دیکھا۔
مختصراً عرض ہے کہ مولانا ناطق نے اُن غزلوں کے ریکارڈ منسوخ کروا کے ہی دَم لیا۔اب ہمارے دور کے شاعرانِ عظام ہیں جو پطرس بخاری کے مضمون کی مخلوق کی طرح گلے سے آوازیں نکالتے رہتے ہیں اور اگر انعام کی ہڈی اُن کے آگے ڈال دی جائے تو سارا معاملہ کچھ اور ہو جائے گا۔ کیسے تھے حفیظ میرٹھی کہ پریشاں حالی میں اُنھیں سرکار کی طرف سے لاکھ روپے کی امداد دِیے جانے کا مژدہ سنایاگیا تو اُنہوں نے نہایت حقارت سے اسے ٹھکرا دِیا۔
ہم جو تخلص کا تمغہ اپنے نام کے ساتھ لگائے پھرتے ہیں کیا کبھی ایسی جرأت کر سکتے ہیں۔؟
اسی کے ساتھ ناطق گلاؤٹھوی کا ایک خط بھی پیش کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے
’علامہ‘
جیسے لفظ کے تعلق سے جو کچھ لکھا ہے اگر ہم میں ذرا بھی فہم و ذکا ہے تو
ان کی یہ تحریر ہمارے لیے ایک سبق اور عبرت بنی ہوئی ہے۔** 🌼🌼🌼🌼
علّامہ بد وضع اور چالاک عورت کو کہتے ہیں
از :ناطق گلاؤٹھوی
بندہ نواز!آپ نے تولفظ علّامہ پر بحث ہی شروع کردِی۔حالاں کہ اس موضوع کوابتداہی میں ختم ہوجانا چاہیے تھا کہ آپ نے مجھے علّامہ لکھا اورمیں نے لکھ دیا کہ ازراہِ کرم میرے لیے یہ لفظ نہ استعمال کیا جائے۔بات ہو گئی اس میں دریافت وجہ کی ضرورت ہی نہیں تھی،کہ ایک شخص اپنے لیے کسی نام سے خطاب کوپسند نہیں کرتا تواسے وہی کہنا ، چِڑانے کے برابر ہوتاہے۔آپ سمجھے بربنائے انکسار ہے۔ اچھا انکسار ہی سہی تواس کی کیاوجہ کہ آپ نے سوال بھی کیا اور اسی خط کے پتے میں پھر علّامہ لکھا۔تومیں نے بھی لکھ دیا کہ یہ انکسارنہیں حقیقت ہے کہ اوّل تومیری شان نہیں جس بنا پر بعض علمائے سلف کو علّامہ کہاگیا۔ دوسرے یہ کہ یہ تفضیل ہندُستان میں اُن لوگوں کی ایجاد ہے جو فیصلہ کر چکے ہیں کہ یہاں خدا نے ایک ایسا شاعر پیدا کیاجس کا ثانی کوئی کبھی تھا بھی نہیں اورکبھی ہوبھی نہیں سکتا، چنانچہ اس کا استعمال اُسی شاعر کے لیے ہوا،اور ہوتا چلا جا رہا ہے،تومیں سمجھتا ہوں کہ یہ اس شاعر کی شانِ یکتائی میں دست اندازی ہے۔اس پربھی آپ کوتسلی نہ ہوئی،تومیں نے بڑی لاپروائی کے ساتھ لکھ دیا کہ اب ہر کہ ومہ کے لیے لکھا جا رہاہے ،اس لیے میں پسند نہیں کرتا تو بھی آپ نے اسے ختم نہ کیا،اورپھر خدا جانے کیا کیالکھ دیاتواب مجھے بھی اس پر زیادہ لکھنا پڑگیا۔
سینے بندہ نواز! قرونِ اولیٰ یا زمانہ متقدمین میں کسی کوعلّامہ نہیں کہا گیا۔اس وقت ہماری آپ کی عربی علمی قابلیت والے لوگ عالم بھی نہیں کہلاتے تھے، بلکہ انہیں مُلاّ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ مولانا جامیؔ کی جیسی ہستی کوبھی مُلا جامیؔ اب تک لکھا جاتاہے،اور شرح جامی کو شرح ملا کہتے ہیں۔سلطان محی الدین اورنگ زیب کے اُستاد،جنہوں نے اورنگ زیب کو اورنگ زیب بنا کر فتاویٰ ٔعالم گیری جیسی کتاب کا مصنف بنادیا،اورجنہوں نے اصولِ فقہ میں ’نورالانوار‘جیسی وقیع ومستند کتاب لکھی ہے ۔ملاجیون کہتے ہیں پہلے لوگ بڑی قابلیت والی ہستی کو عالم کہتے تھے۔جو اپنے زمانے میں یا کسی خاص فن میں فردِواحدہوتا تھا،اس کےلیے لفظ امام استعمال ہوتاتھا،جیسا کہ مولانا ابو الکلام آزادؔ کے لیے اس وقت یہ لفظ استعمال ہو رہا ہے ۔علّامہ پہلے کسی کو نہیں کہا گیا۔یہ نئی اُپج میر سید شریف مصنف قطبی کی ایجاد ہے کہ انہوں نے اپنے منطقی استاد تفتزانی کوعلّامہ کہا،اور دوسروں نے اس کے بعد علامہ تفتزانی لکھا۔ان استاد شاگرد میں بوجہ اختلاف عقائد جو چبھتی ہوئی چوٹیں ہوا کرتی تھیں۔ان کا بیان اب تک مدارسِ عربیہ میں موجود ہے۔بہت ممکن ہے کہ میر سید شریف نے علّامہ کی ’’ۃ‘‘کالحاظ کرتے ہوئے جو علامت تانیث ہو کرحالت وقفی میں ’’ہ ‘‘ہو گئی ہے۔اس لفظ کو بوجہ اشتراک تفضیل علّامہ تفتزانی کے لیے مزاحاً شروع کیا ہو،جو بعد میں تفتزانی پرچپک کر رہ گیا ہو مگر اسکے بعد دوسرے لوگوں کوعلّامہ نہیں کہاگیا۔
ہمارے ملک ہندستان میں بلحاظ ِعلم و فن میں سب سے بڑا خاندان دہلی والوں کاتھا۔جن میں شاہ ولی اللہ صاحب کو اگرامام بھی کہا جائے توبجا ہوگا۔اس کے علاوہ شاہ عبدالعزیز صاحب کی ہستی بھی
بہت بڑی ہستی تھی۔ان لوگوں کی خاک ِپا ہونے میں فخربھی آج کسی بڑے سے بڑے عالم کے لیے وجہِ ناز ہو سکتا ہے مگر یہ لوگ بادشاہ کہلائے،یا مولانا، مولوی، علّامہ کا استعمال ان کے لیے کسی عالم نے نہیں کیا۔اس کے بعد بلحاظ منقول مولانا رشید احمد گنگوہی ومولانا محمد قاسم نانوتوی ہندوستان کے آفتاب وماہتاب ہوئےمگر کسی نے انہیں بھی (علاّمہ)نہیں کہا۔مولانا شیخ الہند کو بھی یہ خطاب نہیں ملا۔ بلحاظ منقول خیرآباد کا خاندان امام فن تھا،مگر نہ مولانا افضل امام علامہ بنے،نہ مولانا فضل حق وعبدالحق۔ہندستان میں ایک اوربڑی ہستی صدیق حسن خاں کی تھی۔جن کی تصانیف تمام بلادِ اسلامی میں مروج ومقبول ہیں اورعلمائے فرنگی محل میں مولانا عبدالحئی صاحب کاتبُّحر علوم مسلم ہے،مگر یہ لوگ بھی علّامہ نہیں بنائے گئے۔علامہ بنے اوربنائے گئے توکون؟
شاعر!جن کے لیے علّامہ ہونا کوئی خاص بات نہیں ہوتی۔یہاں ذہن ِرسا و فکر ِسلیم کی ضرورت ہے۔جس پر علم سے صیقل ہوتی ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ خسرودکن نے حضرتِ جلیل(مانکپوری) کوامام الفن کا خطاب دیا۔علّامۂ فن نہیں بنایاکہ لفظ امام سے شانِ اجتہاد پیدا ہوتی ہے۔جو مضمون آفرینی کا دوسرا نام ہے۔اس کے بعد لفظ علّامہ کے معنی وترکیب ملاحظہ کیجیے۔تواسے لفظ عالم کی تفصیل کا صیغہ کہہ سکتے ہیں،مگر اس کے لیے لفظ اعلم مستعمل ہے کہ آپ نے واللہ اعلم کا استعمال بہت زیادہ سنا اور دیکھا ہوگا۔یہ لفظ علّامہ جس طرح تفضیل کا صیغہ ہے اسی طرح تانیث کا بھی صیغہ ہے۔جس کی تائے تانیث حالت وقفی میں ’’ ہے ‘‘ہو گئی ہے۔اس واسطے کسی مرد کے لیے اس کا استعمال کم از کم مجھے تو گوارا نہیں ہوتا۔خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ اُردو کے استعمال میں لفظ علّامہ نے مہند ہو کر اپنے تانیثی معنیٰ کے ساتھ کچھ زیادہ مفہوم بھی پیدا کر لیاہے۔اب اس کا استعمال ایسی عورت کے لیے کیاجاتا ہے جو مکاّرہ ہو۔آپ نے سنا ہوگا کہ کسی بدوضع اورچالاک عورت کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بڑی علّامہ ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب آپ کو تسکین ہو جائے گی،اوراس کے بعد مجھے علّامہ بنانے کا خیال نہ آئے گا۔ہمارے شعراء گرامی کا کچھ حال نہ پوچھیے۔انہیں ہر طرزِ تخاطب کو جو کہیں بھی نظرآئے ہتیا لینے کابڑا شوق ہے۔
میں نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا کہ حضرت کا لفظ صرف ریاضؔ خیرآبادی کےلیے لکھا جاتاہے۔رفتہ رفتہ یہ عام ہو گیا۔مولانا شروع ہوااور وہ بھی اس حال کوپہنچا۔اب علّامہ کا دور ہے اور ایک درجن سے زیاد ہ علّامات ہو گئے ہیں۔ دیکھیےاس کے بعد کیا ہوتاہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ فن اورجوہر شناس ندارد ہو رہے ہیں اور خودبینی اورخودستائی کا دَور ہے۔
(یہ مراسلہ تقریباً 49 سال قبل پہلی بار رِسالہ’’ادبی دنیا ‘‘ میں چھپاتھا جسے بعد میں شمس کنول نے بھی
اپنےمجلے ’’گگن‘‘ میں شائع کیا، ہم نے ’’ گگن‘‘ ہی سے یہاں نقل کیا ہے ۔شمارہ نمبر45 ستمبر تا دسمبر 1971ء)

SHARE

LEAVE A REPLY