اپنی اپنی کربلاوں میں سانس لیتی ہوئ دنیا ، ماہِ محرّم کے طلوع ہوتے ہی اپنے غم فراموش کرتے ہوئے اُس مظلوم و بےکس کے لیے اشکبار ہو جاتی ہے جس کا اسمِ گرامی تڑپتی اور بلکتی ہوئ مخلوق کا واحد سہارا ہے۔ علامہ رشید ترابی کا خوبصورت شعر ہے۔
جب کسی غم میں کسی دل نے کہا ہائے حسین ؑ
دور تک عالمِ غربت میں نظر آئے حسین ؑ
ایک بار دنیا کے ہنگاموں سے کٹ کرکسی گوشہ تنہائی میں یا ابھی بیٹھے بیٹھےسچے جذبے سے ” یا حسینؑ” کہہ کے تو دیکھیں ،آنسووں کی جھڑی تو ضرور لگ جائے گی لیکن دل کو وہ تسکین کا مرہم بھی میسّر آئے گا جو ہر زخم کو مندمل کر سکتا ہے۔
یہ ماہ محترم” محرم الحرام” عہدِ جاہلیت کے تمدن میں بھی اُن چار حرمت والے مہینوں میں شامل تھا جس میں قتل وغارت ممنوع تھی۔
اس حوالے سے اختر حسین جعفری کی نظم “امتناع کا مہینہ”دیکھیے، ،
اس مہینے میں غارتگری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے تیر بکتے نہ تھے
بے خطر تھی زمیں مستقر کے لیے
اس مہینے میں غارتگری منع تھی، یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے
قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینوں کی حرمت کے اعزاز میں
دوش پر گردن خم سلامت رہے
کربلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکوں کا پانی امانت رہے
میری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہ
اس مہینے کئی تشنہ لب ساعتیں، بے گناہی کے کتبے اٹھائے ہوئے
روز و شب بین کرتی ہیں دہلیز پر اور زنجیر در مجھ سے کھلتی نہیں
فرش ہموار پر پاؤں چلتا نہیں
دل دھڑکتا نہیں
اس مہینے میں گھر سے نکلتا نہیں
افسوس اس بات کا ہے کہ امن کمیٹیاں اسی مہینے میں ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کیلئے بنائ جاتی ہیں ۔رحمت اللعالمین کو ماننے والے دہشتگرد بھی ہوسکتے ہیں؟ دل تو نہیں مانتا، مگر ایسا ہے۔
میرے ایک ملنے والے نے باتوں باتوں میں بڑا عجیب جملہ کہہ دیا۔عجیب اس لیے کہ ہم تو حسرت کے انداز سے ہر دعا میں یہی کہتے نہیں تھکتے کہ کاش ہم اُس وقت کربلا میں ہوتے۔ لیکن اُس نے یہ کہا کہ شکر ہے ہم کربلا میں نہیں تھے، کیا خبر ہم بھی سعد بن ابی وقاص جیسی شخصیت کے بیٹے عمر سعد کی طرح ملکِ رے کی حکومت کے لالچ میں آ کر صراط مستقیم امام حسین ؑ سے منہ موڑ لیتے۔ ۔
کربلا کو صرف ایک مقتل نہ سمجھا جائے بلکہ کربلا ایک عظیم مکتب ہے۔یہاں کا ہر کردار اپنے اندر ایک ایسی چمک دمک رکھتا ہے جس کی روشنی سے سورج کی آنکھیں چندھیا جائیں ۔
ایک لمحے کے لیے سوچیے یزید ابنِ معاویہ نے کائنات بھر کی لعنت کا طوق اپنے گلے میں کیوں پہنا؟ صرف چند روزہ حکومت کے لیے، عارضی مفاد، حصولِ دنیا ،اس کے علاوہ کیا تھا؟ اب کہاں ہے وہ تخت وہ تاج وہ شاہی وہ حکومت! !
ذرا گردن جھکا کر گریبان میں جھانکیے،کیا ہم بھی عارضی چمک دمک کے اسیر تو نہیں ؟ہمارا جھکاؤ دنیا کی طرف کتنا ہے اور دین کی طرف کتنا؟ ہم جس قدر دنیا سے قریب ہیں اتنےہی یزید کے قریبی۔ اور جس قدر ہم دین سے دور ہیں اس قدر حسین ؑ سے لا تعلق۔ ۔
عمر سعد اور حر کے پاس شبِ عاشور کی صورت میں بس ایک فیصلہ کن رات تھی۔ دنیا وآخرت کی کشمکش میں دونوں مبتلا ۔آخر کار عمرِ سعد اپنے بد ترین فیصلے کی بدولت جہنم واصل ہوا۔ اور حر نے دین کے قدموں میں جامِ شہادت نوش کرکے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوا۔
کچھ اوڑھا دیجیے مولا مجھے نیند آتی ہے
ہم سب اپنی اپنی کربلاوں میں موجود ہیں ۔طبلِ جنگ بج چکا، دونوں طرف کی فوجیں برسرپیکار ۔فیصلے کے لیے درمیان میں صرف ایک شبِ عاشور۔ دین اور دنیا یعنی حسین ؑ اور یزید میں سے کسی ایک کا انتخاب۔
عقل و شعور سے آراستہ ہم صاحبِ اختیار ہیں ۔جنت یا جہنم۔ رحمت یا لعنت کا طوق، حرؑ کی طرح ٹھیک فیصلہ کرکے مقدر کا دھنی بننا ہے یا عمرِ سعد کی طرح جہان بھر کی لعنت سمیٹ کر ہاتھ ملتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جانا ہے۔
کربلا ہوگئی تیار خدا خیر کرئے! !
پروفیسر شاہد عباس ، ملتان












