میں کینوس پہ وہ منظر بنانے والا ہوں , صفدر ھمدانی

0
879

صفدر ہمدانی
میں کینوس پہ وہ منظر بنانے والا ہوں
پروں کو کاٹ کے اک پر بنانے والا ہوں

ملا ہے اذن جو تخلیق کا تو اب دیکھو
خود اپنے جیسا ہی خود سر بنانے والا ہوں

نہیں ہے کوئی ضرورت منافقوں کی مجھے
میں اپنی ذات میں لشکر بنانے والا ہوں

نہ جانے حال میرا کیا کریں خدا والے

میں دل کے کعبے میں مندر بنانے والا ہوں

غنیمِ جاں کو ہے کب سے تلاش سر کی مرے

سو اپنی طرح کے کچھ سر بنانے والا ہوں

تمام عمر مجھے زر سے خوف آیا ہے

یہ کس نے تم سے کہا زر بنانے والا ہوں

تمہیں تو یاد ہے اک روز یہ کہا تھا تمہیں

مکاں تمہارا ہے میں گھر بنانے والا ہوں

جو صرف میرے بدن کو ہی پارہ پارہ کرے

کچھ اس طرح کا میں پتھر بنانے والا ہوں

فلک پہ حشر کے دن ہو سکے گا کیا انصاف

زمیں پہ اس لئے محشر بنانے والا ہوں

کبھی کسی نے یہ ابلیس سے بھی پوچھا تھا

بشر کے روپ میں کیا شر بنانے والا ہوں

جو نام ہے میرا صفدر وہ وصف بھی ہے میرا

میں در بدر نہیں خود در بنانے والا ہوں

SHARE

LEAVE A REPLY