صفدر ہمدانی
میں کینوس پہ وہ منظر بنانے والا ہوں
پروں کو کاٹ کے اک پر بنانے والا ہوں
ملا ہے اذن جو تخلیق کا تو اب دیکھو
خود اپنے جیسا ہی خود سر بنانے والا ہوں
نہیں ہے کوئی ضرورت منافقوں کی مجھے
میں اپنی ذات میں لشکر بنانے والا ہوں
نہ جانے حال میرا کیا کریں خدا والے
میں دل کے کعبے میں مندر بنانے والا ہوں
غنیمِ جاں کو ہے کب سے تلاش سر کی مرے
سو اپنی طرح کے کچھ سر بنانے والا ہوں
تمام عمر مجھے زر سے خوف آیا ہے
یہ کس نے تم سے کہا زر بنانے والا ہوں
تمہیں تو یاد ہے اک روز یہ کہا تھا تمہیں
مکاں تمہارا ہے میں گھر بنانے والا ہوں
جو صرف میرے بدن کو ہی پارہ پارہ کرے
کچھ اس طرح کا میں پتھر بنانے والا ہوں
فلک پہ حشر کے دن ہو سکے گا کیا انصاف
زمیں پہ اس لئے محشر بنانے والا ہوں
کبھی کسی نے یہ ابلیس سے بھی پوچھا تھا
بشر کے روپ میں کیا شر بنانے والا ہوں
جو نام ہے میرا صفدر وہ وصف بھی ہے میرا
میں در بدر نہیں خود در بنانے والا ہوں













