ہمارے ملک نے مکمل آزادی حاصل کرلی، امریکی انخلا پر طالبان کا بیان

0
684

امریکا نے افغانستان سے انخلا ڈیڈلائن سے قبل ہی مکمل کیا اور وہاں موجود آخری امریکی فوجی بھی پیر کی رات 12 بجے سے پہلے ہی کابل ائیرپورٹ سے روانہ ہو گئے اور اس طرح امریکا کی 20 سالہ طویل جنگ کا خاتمہ ہوا ۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ آخری امریکی فوجی دستہ 12 بجے کابل ائیر پورٹ سے چلا گیا ہے اور ہمارے ملک نے اپنی مکمل آزادی حاصل کرلی ہے ، خدا کا شکر ہے’۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوج کے انخلا مکمل ہونے پر طالبان کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور جشن منایا گیا ۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘کابل میں فائرنگ کی آوازیں امریکی فوجیوں کے انخلا پر خوشی کا اظہار ہے شہری پریشان نہ ہوں’ ۔

…………………………

افغانستان کے لیے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کو اب افغانستان کو محفوظ امور خوش حال مستقبل کی طرف لے جانے کے امتحان کا سامنا ہے۔

جاری کیئے گئے ایک بیان میں افغانستان کے لیے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زادنے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی جنگ ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہادر امریکی فوجیوں نے امتیاز اور قربانی کے جذبے سے خدمات انجام دیں، امریکی انخلاء کے بعد اب افغانوں کے لیے فیصلے کا لمحہ ہے۔

زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ افغانستان کا مستقبل افغانوں کے ہاتھ میں ہے، افغان عوام مکمل خود مختاری کے ساتھ اپنا راستہ منتخب کریں گے۔

افغانستان کے لیے امریکی خصوصی نمائندے کا مزید کہنا ہے کہ طالبان کو اب ملک کو محفوظ اور خوش حال مستقبل کی طرف لے جانے کے امتحان کا سامنا ہے۔

زلمے خلیل زاد کا یہ بھی کہنا ہے کہ پر امن و مستحکم افغانستان اور اس کے خوش حال مستقبل کے لیے ہماری نیک تمنائیں ہیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

افغان دارالحکومت کابل میں ائیر پورٹ کے قریب کھڑی گاڑی سے راکٹ حملے، میزائل ڈیفنس سسٹم نے ناکام بنا دیئے۔

افغان تفتیشی حکام نے جیو نیوز کو بتایا کہ کابل ائیرپورٹ کے قریب گاڑی سے 6 راکٹ داغے گئے، پانچ ہوائی اڈے کی جانب گئے جبکہ ایک راکٹ سے گاڑی تباہ ہو گئی۔

امریکی حکام نے بھی کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ میزائل ڈیفنس سسٹم سے راکٹوں کو روک دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق مشیر قومی سلامتی اور چیف آف اسٹاف نے صدر جو بائیڈن کو راکٹ حملوں کے حوالے سے بریف کیا اور بتایا کہ راکٹ حملوں میں کابل ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن میں خلل نہیں پڑا۔

دوسری جانب ترجمان افغان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو دہشت گردی کا خدشہ ہے تو اس حوالے سے طالبان کو آگاہ کیا جائے۔

ادھر ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکی فورسز کی افغانستان سے انخلا کی آخری تاریخ یعنی31 اگست تک کابل میں انٹیلی جنس انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاں سے بھی حملے کی منصوبہ بندی کی اطلاع ملے گی اس جگہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی امریکا نے کابل میں ایک ڈرون حملے میں داعش خراسان کے خودکش بمبار کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ فضائی حملے میں 6 بچوں سمیت دیگر 8 افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

اس حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل بھی امریکا نے ایک ڈرون حملے میں کابل ائیرپورٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے داعش خراسان کے دہشتگرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY