ایران میں حجاب کے معاملے پر زیرِ حراست ہلاک ہونے والی لڑکی مہسا امینی کی پہلی برسی کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا نے 29 ایرانی شخصیات اور اداروں پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ یورپی یونین نے 4 ایرانی عہدیداروں کو بلیک لسٹ میں شامل کرلیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ایران کے عوام ہی اپنے ملک کی قسمت کا فیصلہ کریں گے، امریکا ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کے لیے پُرعزم ہے۔

یاد رہے کہ مہسا امینی ایرانی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 16 ستمبر کو پولیس کی حراست میں ہلاک ہوگئی تھیں جس کے بعد ایران بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

مہسا امینی کی موت کے بعد مظاہروں میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Published on: 13 Nov 2022

ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں ہلاک مظاہرین کی تعداد326 ہوگئی۔

ناروے سے تعلق رکھنے والے ایرانی انسانی حقوق گروپ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 43 بچے اور 25 خواتین شامل ہیں۔

ایرانی انسانی حقوق گروپ نے عالمی برادری سے ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران میں زیرحراست لڑکی مہسا امینی کی موت کے خلاف 17 ستمبر سے مظاہرے جاری ہیں۔

22 سالہ مہسا امینی 16 ستمبر کو پولیس کی حراست میں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی تھی۔

مہسا امینی کو حجاب پہننے کے قانون کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY