اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی نشاندہی کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ڈیٹا سینٹر، مالیاتی نگرانی یونٹ (ایف ایم یو) کا افتتاح کردیا ہے۔
یہ یونٹ وزارت خزانہ کا مالیاتی انٹیلی جنس یونٹ ہے جس کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کرنا ہے۔
برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلمپنٹ کی مالی امداد کے نتیجے میں اس یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور یہ ڈیٹا سینٹر خصوصی جانچ کے سوفٹ ویئر (گومیل) کا استعمال کرے گا جو اقوام متحدہ کے دفتر برائے ڈرگز اینڈ کرائم (یو این او ڈی سی) کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔
سابق صوبائی وزیر خزانہ اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ صابر زیدی کے مطابق مالی لین دین میں غلط بیانی اور زائد رقم، انتظامیہ کو ممکنہ طور پر منی لانڈنگ کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں گے۔
ڈیٹا سینٹر میں ایف ایم یو کے ذریعے مشکوک مالی لین دین کی جانچ اور اس حوالے سے معلومات جمع کی جائیں گی، جو پاکستان میں موجود بینکس، ایکسچینچ کمپنیز اور دیگر مالیاتی اداروں سے منتقل ہوں گی۔
اس کے علاوہ یہ نظام منی لانڈرنگ یا دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات کرنے والے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی مدد فراہم کرسکے گا۔
ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے ڈائریکٹر عابد قمر کا کہنا تھا کہ ڈیٹا سینٹر معمول کے بینکنگ نظام کے تحت ہونے والی منی لانڈرنگ کا پتہ لگا سکے گا۔
انھوں نے بتایا کہ اس کے ذریعے سے غیر قانونی طریقوں سے ہونے والی منی لانڈرنگ کی جانچ کرنا ممکن نہیں، کرنسی نوٹوں کی بین الاقوامی سرحدوں پر منتقلی جیسی کارروائیاں اس زمرے میں شامل نہیں۔
اس سے قبل خود مختار ایف ایم یو کے ذریعے ڈیٹا کی جانچ کا کام دستی طور پر کیا جاتا تھا جو کافی وقت طلب کام تھا۔
تاہم اب ڈیٹا سینٹر میں انتہائی جدید سوفٹ وئیر اور آلات نصب کیے گئے ہیں جس کے ذریعے ایف ایم یو کے جانچ کے طریقہ کار میں تیزی آئے گی۔
تقریب میں اسٹیٹ بینک کے گورنر اشرف محمود واتھرا کے ہمراہ برطانوی ہائی کمشنر اور یو این او ڈی سی کے نمائندے بھی موجود تھے۔












