تیسری قسط
مگر وہ شان بے نیازی سے کھڑی رہی. انوشے تمہارا رڑلٹ تمہاری توقع کے مطابق نہیں آیا. سویرا نے اسے تنگ کرنے کے انداز میں کہا. وہ قہقہ لگا کر ہنسی اور بولی ناممکن اتنا اعتماد ہے سویرا کے پوچھنے پر اس نے شانے اچکائے.سویرا نے اسے گلے لگا کر مبارک دی اس نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا
اسے اپنی ذہانت پر بہت ماں تھا. اللہ تعالیٰ نے اس کا خود پر بھروسہ کبھی کو نہیں دیا. اس کا اللہ کے ساتھ تعلق ااتنا مظبوط تو نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ ہمیشہ اس کے بندوں کی خاموش مدد کرتی بغیر کسی وجہ اور لالچ کے. وہ یونیورسٹی سے سیدھا جلال صاحب کے پاس ان کے آفس گئی. وہ راستے میں ہمیشہ کی طرح رکی اوردارلامان میں یتیم اور غریب بچوں کے ساتھ وقت گزارا وہ ان کے لئے تحفے تحائف لے کر جاتی.باجی جان نے اسے ہمیشہ کی طرح دعا دی. اللہ تمہارا نصیب بلند کرے وہ ہمیشہ سوچ میں پڑ جاتی کہ اس سا نصیب تو پہلے سے اتنا بلند ہے اس کے کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں مگر خاموش رہتی. اسکی اس عادت سے آنا بی اور جلال صاحب نا واقف تھے. وہ آفس پہنچی جلال صاحب میٹینگ مں تھے سب انوشے کے انداز سے واقف تھے اس لیے اسے کسی نے روکا نہیں. وہ جب دفتر کے اندرونی حصے میں داخل ہوئی تو جلال صاحب نے اسے آتے ہوئے دیکھ لیا اور میٹینگ معطل کر دی.وہ یقیناً جانتے تھے کہ اس کا رذلٹ ہمیشہ کی طرح بہت اچھا رہا ہو گا. لیکن وہ اس کے منہ سے سننا چاہتے تھے. انھوں نےتمام ملازمین کے لیے بونس کااعلان کیا. یوں انوشے ہمیشہ دعاؤں کے حصار میں رہتی. واپسی پر انھوں نے مٹھائی لی.انا بی بھی اس کی خوشی میں خوش ہوئیں. جب رات کا کھانا کھانے کے لیے ڈائینگ ٹیبل پر آئے تو انوشے نے اپنے باپ سے کچھ کہنے کی اجازت مانگی بیٹا آپ کو کب سے اجازت کی ضرورت پڑ گئی جلال صاحب بولے
بابا مجھے گاڑی چاہیے اپنی گاڑی.وہ تھوڑی دیر کے لیے ماضی میں چلے گئے ان کی بیوی بھی ایک کار حادثے میں جاں بحق ہو گئیں تھیں انھوں نے ایک گہری سانس لی روحی کا خون سے لت پت چہرہ ان کی آنکھوں کے سامنے آگیا.وہ اپنے باپ کو کبھی پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اور بولی بابا کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیا. ڈرائیور لے تو جاتا ہے جہاں بھی جانا ہو انا بی نے احتجاج کیا انوشے منہ بسورنے لگی. جلال صاحب بولے کیوں نہیں ضرور لے کر دیں گے اس کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگئیں. وہ صبح باپ کے ساتھ شو روم گئی جب وہ بلیک فراری کی چابی پکڑ رہی تھی تو جلال صاحب نے اس سے ایک وعدہ لیا بیٹا کبھی بھی گاڑی تیز رفتار میں نہیں چلاؤ گی. اس نے وعدہ کیا جلال صاحب جانتے تھے کہ وہ وعدوں کا پاس رکھنا جانتی ہے اس لئے وہ مطمئن ہو گئے. اس کے باپ نے اسے ڈرائیونگ سیکھائی. وہ روز باپ کے ساتھ شام کو جاتی. بہت تھوڑے عرصے میں وہ بہت اچھی ڈرائیوربن گئی.
بابا میں سویرا کی طرف جاؤں جب اس نے پوچھا تو ماضی کی تلخ یادوں میں کھوئے ہوئے تھے
بی اے پاس کرنے کے بعد اس نے ذبیدہ بیگم سے کہا مجھے ہر صورت آگے پڑھنے کے لئے بیرون ملک جانا ہے یہاں رکھا ہی کیا ہے کمال بیٹا یہاں سب کچھ ہے اپنے سارے رشتے ناتے اپنی مٹی اپنی زمین اس مٹی سے الگ ہو کر ہمارا کوئی وجود نہیں تم گوروں کے ملک جا کر ان کی چاکر ی کرنا چاہتے ہو. ذبیدہ بیگم اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہہی تھیں.جلال تم ہی اسے سمجھاؤ تم دونوں ہی میرے لئے سب کچھ ہو.
کمال اماں ٹیھک کہہ رہی ہیں ادھر جا کر تم جتنی بھی ترقی کر لو رہو گے تو دوسرے درجے کے شہری ہمارے باپ نے ورثے میں اتنی زمین چھوڑی ہے ہم اس کو استعمال میں لا کر بہت ترقی کر سکتے ہیں ویسے بھی ہم دو ہی تو بھائی ہیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ ساتھی. میں نے بھی تو اپنی تعلیم ادھر ہی رہ کر مکمل کی ہے تو تم کیوں نہیں کر سکتے
آپ نے کر لی میں نہیں کر سکتا مجھے اپناکیریر بناناہے اورادھر رہکر نہیں بن سکتا.آپ لوگ مجھے میرا حصہ دیں جایئداد میں اگر آپ میری مرضی کے مطابق مجھے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دیں گے تو ……… ذبیدہ بیگم کو دھچکہ لگا اب تم بٹوارہ کرو گے آنا بی بولیں. آپ چپ رہیں ملازم ہیں ہمارے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کا کوئی حق نہیں. انا بی کی آنکھوں میں آنسو آگئے.جلال احمد نے کمال کے منہ پر تھپڑ مارا بکواس مت کرو وہ ملازم سہی مگر بڑی ہیں اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی ہیں وہ ہمیں تمہاری ہمت کیسے ہوئی ان سے بد تمیزی کرنے کی.
کمال احمد کمرے سے باہر نکل گیا .انابی بھی دوسرے کمرے میں چل دیں. ذبیدہ بیگم نڈھال ہو کر صوفے پر گر گئیں.شام کو کمال احمد گھر آیا میں جاں چکا ہوں کہ میری کیا اہمیت ہے آج اک ملازم کی وجہ سے میرے اوپر ہاتھ اٹھایا ہے کل کو پتا نہیں کسی اور وجہ سے کیا کریں گے. تم غلط سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے وہ غصے میں ہو گیا تم جانتے ہو ہم لوگ کتنا پیار کرتے ہیں. ٹیھک ہے تم پڑھائی کے لئے جانا چاہتے ہو چلے جاؤ مگر یوں سب رشتے ناطے ختم کر کے مت جاؤ
میں فیصلہ کر چکا ہوں میں ہمیشہ کے لیے جانا چاہتا ہوں اب کبھی واپس نہیں آؤں گا. ذبیدہ بیگم کمال کی طرف بڑھئیں. کمال نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا میں کوئی بحث نہیں چاہتا یہ میرا آخری فیصلہ ہے.صبح وکیل صاحب کو بلایا گیا اور کمال احمد کو اس کا حصہ دے دیا گیا. وہ اپنا حصہ لے کر امریکہ چلا گیا ہمیشہ کے لئے ذبیدہ بیگم نے بیٹے کی جدائی کو ل سے لگا لیا جلال ان کو خوش رکھنے کو خوش رکھنے کی ناکام کوشش کرتے.اسی وجہ سے انھوں نے شادی کا فیصلہ کا کہ شاید گھر کا ماحول بدلنے سے ذبیدہ بیگم کی طعبیت کوئی سدھار آئے.روحی بہت اچھی بہو ثابت ہوئی وہ ذبیدہ بیگم کا بلکل اپنی ماں کی طرح خیال رکھتی. وہ جتنا عرصہ ذندہ رہی گھر کا ماحول خوشگوار رہا انوشے کی پیدائش کے دو سال بعد ایک کار حادثے میں وفات پا گئیں. ذبیدہ بیگم کو بلکل چپ لگ گئی.جلال احمد نے کمال سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر اس سے رابطہ نہ ہوا
پانچ سالوں میں اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا. ایک دن اچانک اس کا فون آیا کہ اس نے ایک گوری سے شادی کر لی ہے ذبیدہ بیگم نے اس کی منت کی کہ اک بار بس مل جائے.پتہ نہیں کیا سوچ کر اس نے آنے کا وعدہ کر لیا. ذبیدہ بیگم اس کے آنے کے انتظار میں دن گننے لگیں.وہ آیا اس کے آنے کا کسی کو یقین نہیں تھا. وہ سب خوش ہونے کے ساتھ حیران بھی تھے. وہ جلال احمد سے نہیں ملا اس کا غصہ نفرت میں بدل چکا تھا. میں صرف اپنی ماں سے ملنے آیا ہوں پہلی اور شائد آخری بار…….
حلال احمد کو دکھ تو ہوا مگر وہ خوش تھا کہ اسے اپنی ماں کا احساس تو ہے جو ان کے کہنے پر ملنے آ گیا ہے. ذبیدہ بیگم تو جیسے اس کے بس آنے کی منتظر تھیں. وہ اس سے ملیں آنا بی کو بلایا اور اپنے بچوں کی ذمہ داری سونپی میرے بچوں کا خیال رکھنا رشیدہ بی بی…
جلال احمد بت بنے کھڑے رہے ذبیدہ بیگم جہاں فانی سے رخصت ہو گئیں حلال احمد ڈاکٹر کو بلاؤ دیکھو بی بی جی کو کیا ہوا وہ بول نہیں رہیں حلال احمد کی تو جیسے دنیا ہی لٹ گئی.وہ تو اپنا دکھ کسی سے بانٹ بھی نہیں سکتے تھے ایک ہی بھائی تھا جو ان کو اپنا دشمن سمجھتا تھا. ماں کا قل کر کے کمال امریکہ واپس چلا گیا.. وہ گاؤں میں اکیلے رہ کر کیا کرتے وہاں سب کی یادیں تھیں ان کو گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا..انھوں نے زمینوں کو حصہ داری میں دے دیا.
خود مری سے اسلام آباد آگئے پڑھے لکھے تھے اور اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ تھا انھوں نے ٹیکسٹائل کا بزنس شروع کیا جس میں اللہ نے بہت برکت دی اور انکے کاروبار نے بہت ترقی کی. اب ٹیکسٹائل کی دنیا میں ایک نام تھا آنا بی نے ان سے بہت کہا کہ دوسری شادی کر لو لیکن وہ نہیں مانے.انوشے کو ماں کی ضرورت تھی اس کےباوجود وہ شادی کے لیے رضا مند نہ ہوئے. انھوں نےاپنی بیٹی کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا.
جلال احمد بیٹا کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہے ہو سب خیریت ہے نا .انوشے کے جانے کے بعد انا بی نے جلال صاحب سے پوچھا جی انا بی سب خیریت ہے بس کمال احمد کے بارے میں سوچ رہا تھا اتنے عرصے میں اس کا دل صاف نہیں ہوا اور کوئی رابطہ کرنے کی اس نے کوئی کوشش ہی کی اگر میرے پاس اس کا کوئی نمبر ہوتا یا مجھے اس کے ٹھکانے کا پتا ہوتا تو میں ضرور اس کے پیچھے جاتا آخر وہ میرا ایک ہی تو بھائی ہے اس کے علاوہ میرا کوئی ماں جایا نہیں وہ مجھ سے چھوٹا ہے لیکن غصے میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ پلٹ کر دیکھا ہی نہیں کہ میرا بھائی کس حال میں ہے مجھے کئی موقعوں پر اس کی ضروریات محسوس ہوئی لیکن میری کمر ایک بھائی کی چھاؤں سے ہمیشہ کے خالی رہی جلال صاحب کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں آنا بی انہیں تسلی دینے لگیں بیٹا جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گاتو لوٹ آئے گا اللّٰہ پر بھروسہ رکھو
کوئی پاگل ہے کیا جو زور زور سے ہارن دے رہا ہے.سویرا کی امی دروازے کی طرف آئیں. انوشے بیٹا تم اسے دیکھ کر مسکرا دیں. ہاے آنٹی کیسیں ہیں آپ سویرا کدھر ہے. ارے سارے سوال ادھر ہی کھڑے ہو کرو گی آؤ اندر آؤ. انھوں نے جواب دیا اس نے جینز شرٹ کی بجائے کھلا ٹراوزر اور شارٹ شرٹ پہن رکھی تھی اس نے بالوں کو بہت سلیقے سے باندھا ہوا تھا.
وہ بہت معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی.کیا دیکھ رہی ہو اس نے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی ہوئی سویرا کو پکڑ کر گھمایا نظر لگاؤ گی کیا.اس نے پہلی بار انوشے کو اس طرح کے لباس میں دیکھا تھا وہ اسکی خوبصورتی کی قائل تو پہلے ہی تھی مگر آج نظر نہیں ہٹ رہی تھی اس کے چہرے سے..سویرا ادھر آؤ وہ اسے باہر اپنی گاڑی دکھانے کے لیے لائی..
بابا کی طرف سے گفٹ میرے پہلے سمیسڑ کے رڑلٹ کی خوشی میں. مبارک ہو بہت اچھی ہے وہ دنوں اندر آ گئیں. اچھا تو پرنسیس آئیں ہیں میں بھی کہوں کہ ہمارے غریب خانے پر اتنی خوبصورت گاڑی میں کون آ گیا. حماد نے ہمیشہ کی طرح اسے تنگ کرنے کے انداز میں کہا.حماد تم نے کسی دن مار کھا لینی ہے مجھ سے بتا رہی ہوں پہلے سےہی
حماد سوہرا سے چھوٹا اور ثانیہ سے بڑا تھا. ویسے کبھی کبھی مجھے اس انجانے اور اندیکھے شخص پر بہت رشک آتا ہے جس کے نصیب میں اللہ نے آپ کو لکھا ہے. ہائے کاش وہ میں ہوتا اس نے اک بار پھر شرارت کی.شرم کرو بڑی ہے تم سے اس بار سویرا کی امی بولیں.اتنی بڑی بھی نہیں ہیں. کیوں انوشے آپی سوچنے والی بات ہے نا. دفعہ ہو جاؤ انوشے نے اس کی طرف کشن اچھالا. کبھی کبھی چھوٹے بھی بڑے کام آجاتے ہیں اس نے جاتے جاتے پھر جملہ کسا.
چائے پر ہی ٹرہاؤ گی کیا مجھے بہت بھوک لگی ہے میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا آج.کیوں نہیں کیا کھائے گی میری بیٹی سویرا کی امی انوشے سے بہت شفقت سے پیش آتیں تھیں. آنٹی میں سبزیوں والا پلاؤ کھاؤں گی اچھا میں بناتی ہوں وہ آٹھ کر چلی گئیں سویرا اور انوشے باتوں میں مصروف ہو گئیں.کھانا تیار ہے بیٹا آ جاؤ سب کافی دیر ہو گئی ہے اب مھے چلنا چاہیے آنا بی پریشان ہو رہی ہوں گی کھانے کے بعد وہ گھر کے لئے روانہ ہو گئی
سویرا کے گھر سے واپسی پر ایک موٹر سائیکل سوار نے اس کی گاڑی کو ٹکر مار دی اس کا قصور نہیں تھا اس لئے اسے غصہ تو بہت آیا مگر جب وہ گاڑی سے اتری موڑ سائیکل سوار پندرہ سے سولہ سال کا بچہ تھا.معاف کر دیں آپی میری امی بیمار ہیں میں جلدی میں دوائی لینے جا رہا تھا اس لئے……..
انوشے نے اسے کچھ نہیں کہا.کوئی بات نہیں تم جاؤ لیکن دھیان سے اس کی گاڑی کا کچھ خاص نقصان نہیں ہوا تھا وہ لان سے گزرتے ہوئے ہال میں داخل ہوئی وہ کچھ اداس سی لگی انا بی کو. وہ آنا بی کے ساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی. وہ پریشان ہو گئیں.کیا ہوا کسی سے کوئی لڑائی ہوئی کسی نے کچھ کہہ دیا انوشے کیا ہوا میرا دل بیٹھا جا رہا ہے وہ پیار اس کے گال سہلانے لگیں.
وہ نم آنکھوں سے بولی آنا بی ماں کا پیار کیسا ہوتا ہے مجھے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا مگر جب سے فائزہ آنٹی ( سویرا کی امی) ملی ہوں تو سو چتی ہوں اگر میری ماما بھی ہوتیں تو کیا وہ بھی سویرا کی امی کی طرح میرے ناز اٹھاتیں….جاری












