وزیراعظم نے ہفتے میں 2 سرکاری تعطیلات ختم کر دیں۔ شہباز شریف نے سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں تبدیلی کر دی۔ دفتر صبح 10 بجے کے بجائے صبح 8 بجے کام شروع کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان بازاروں کی سخت مانیٹرنگ یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی میں غفلت برداشت نہیں کروں گا۔ شہباز شریف نے پینشنرز کی پینشن میں اضافے، کم از اکم اجرت 25 ہزار کرنے کے اعلانات پر فی الفور عمل درآمد کا حکم بھی جاری کر دیا۔
شہباز شریف کی وزیراعظم آفس کے افسران اور عملے سے ملاقات ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف سے عملے کا تعارف کرایا گیا۔ اس موقع پر کا کہنا تھا کہ کمر ہمت کس لیں، عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، ایک لمحہ مزید ضائع نہیں کرنا، ایمان داری، شفافیت، مستعدی، انتھک محنت ہمارے راہنما اصول ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے ملک کے 23ویں وزیراعظم کا حلف اٹھالیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لئے مدمقابل تھے، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے اور قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا اعلان کیا گیا جبکہ جی ڈی اے نے استعفے دینے سے انکار کردیا۔
پی ٹی آئی کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے جبکہ اس سے قبل قاسم سوری نے اجلاس کو چلانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ اس عمل کا حصہ بنوں۔
شہباز شریف کو ووٹنگ کے بعد پاکستان کا وزیراعظم منتخب کیا گیا، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چودھری سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ نے بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کو ووٹ دیا۔
شہباز شریف کے وزیر اعظم منتخب ہونے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے شہباز شریف کے وزیر اعظم منتخب ہونے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، نوٹیفیکیشن سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین کی طرف سے جاری کیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت شہباز شریف ایوان کی اکثریت کے ووٹ لیکر وزیراعظم منتخب ہوئے، شہباز شریف نے وزارت اعظمیٰ کے انتخاب میں 174 ووٹ حاصل کیے۔













