منزہ سہام کو تحریک انصاف سے انصاف چاہیئے ۔ڈاکٹر نگہت نسیم

1
1259

کراچی کے مرحوم سہام مرزا کے معروف اشاعتی ادارے “ دوشیزہ ڈایجسٹ “ اور “ سچی کہانیاں ڈائجسٹ “ کی مدیر اعلی اور سرپرست منزہ سہام مرزا کے حوالے سے گذشتہ چند روز سے اخبارات اور سوشل میڈیا اور یو ٹیوب کے چینلز پر ایک نہایت افسوناک خبر سامنے آئی ہے کہ موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے ایک ممبر قومی اسمبلی فوج کے سابقہ کپتان جمیل احمد خان انہیں دس برس سے ہراساں کرنے کا ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں ۔ ذہنی اور مالی تکلیف کے ساتھ ساتھ ان کی عزت اور شہرت کو داغدار کرنے کا بھی کوئی موقع تحریک انصاف کے اس رکن نے ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

منزہ سہام مرزا نے بتایا ہے کہ برسوں پہلے شدید اور مسلسل خانگی تشدد کے باعث انہوں نے جمیل احمد خان سے خلع حاصل کی تھی جس کی میں مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتی کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ خانگی تنازعات کا سارا بوجھ عورت پر ڈال دیتے ہیں جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عورت پر تشدد کے حوالے سے عورت کا کم علم ہونا ، ان پڑھ ہونا، اور اعلی تعلیم یافتہ ہونا ایک ہی جیسا ہے ۔ یہ ایک ایسا بے عمل اور انسان کش معاشرہ ہے جس میں دروغ بر گردن راوی اس ملک کی خاتون وزیر اعظم کے بارے میں بھی ان کے شوہر کی طرف سے تشدد کی باتیں سامنے آتی رہیں ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہمارے اسلامی معاشرے میں اس دعوے کے باوجود کہ اسلام نے عورت کو عزت دی ۔۔ تو ۔۔۔ کیا واقعی مسلمانوں کی اکثریت نے عوت کو بیوی ، بیٹی ، بہن ، بہو کی شکل میں عزت دی ؟

ایک طب کے شعبے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اور دوسرا سماجی کاموں کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا میں فعال ہونے کے ناطے میں روزانہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں ایسی کتنی ہی عورتوں کی کہانیاں سنتی ہوں کہ جن کو سننے کے بعد میں کئی مرتبہ راتوں کو سو نہیں پائی ۔ میں سوچتی ہوں کہ کیا ایک عام مسلمان بھی اتنا ظالم اور جابر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی اولاد پیدا کرنے والی عورت کے ساتھ ایک ایسا بدترین سلوک کرے۔۔۔۔ اسے رسوا کر دے ۔۔ اسے دوسروں کی نظروں میں گرا دے ۔۔ اسے ہراساں کریں ۔۔ اس پر مقدمات کی بوچھاڑ کر دے ۔۔ اسے کنگال کر کے نفسیاتی مریض تک بنا دے ۔۔ کیسے کوئی اتنا ظلم کر سکتا ہے لیکن میں ہر بار غلط ہو جاتی ہوں اور ہر بار پتہ چلتا ہے کہ انسان غرور ، انا اور طاقتور ہونے کے نشے میں ہر دشمنی کر سکتا ہے ۔

جمیل احمد خان صرف ایک نام ہے ورنہ یہ اس معاشرے کا ایک ایسا بد نما کردار ہے جس کا عکس آپ کو ہر شہر ، ہر محلے ، ہر گلی میں ملے گا ۔ اب لڑکیوں کی تربیت کے تناظر میں والدین کے اس ظلم کا بھی کیا کریں جو ہمیشہ لڑکی کو یہی سمجھاتے رہے کہ بیٹی تمہاری ڈولی جا رہی ہے اب سسرال سے جنازہ ہی آئے ۔ اور کتنے ہی واقعات میں واقعی جنازہ ہی آیا۔ والدین نے اپنی بچیوں کو نہ یہ شعور دیا اور نہ ہی تربیت اور نہ ہی ہمت طاقت دی کہ وہ ایک بیوی کی حثیت سے اپنے تمام فرائض بحسن و خوبی ضرور ادا کرے لیکن عزت نفس اور تشدد کی صورت میں کوئی سودے بازی نہ ہو۔ اگر شوہر تشدد کرے تو اس کے دوغلے پن اور مکروہ چہرے کو سامنے لایا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری پڑھی لکھی عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد شوہروں کے ظلم سہہ رہی ہیں ، دفتروں میں کام کاج کر کے گھر کے خرچ چلاتی ہے ، بچے پالتی ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ ہر قسم کا تشدد بھی سہتی ہیں ۔

منزہ سہام مرزا اسی دو چہرے والے معاشرے کی پڑھی لکھی ، فعال ، اور صحافت کے شعبے سے منسلک خاتون ہیں ۔ اور ان کے سابقہ شوہر جمیل احمد خان پاکستان کی روایتی سیاست کے روایتی غنڈہ عناصر جیسا ایک کردار ۔ ہماری سیاست میں ایسے بے رحم ، ظالم ، اور جابر غنڈوں کی ضرورت ہر عہد میں رہی ہے ، یہاں تک کہ زیڈ اے بھٹو کی پیپلز پارٹی کو بھی اپنے قیام کے وقت ہی لاہور کے مشہور بدنام زمانہ بدمعاش “ تاری “ کا سہارا لینا پڑا ۔ ہماری سیاست میں زمینداروں ، جاگیرداروں ، وڈیروں ، صنعت کاروں ، حرام کا سرمایہ کمانے والوں کی ہمیشہ سے اکثریت رہی ہے۔ اور یہ لوگ بھی اپنے کرائے کے غنڈے اسی طرح سے پالتے ہیں ۔

مجھے افسوس صرف موجودہ حکومت کے نام پر ہے ۔ کہ جسے تحریک انصاف کہا جاتا ہے ۔ اور جس نے اپنی حکومت کے تین سال کے عرصے میں تادم تحریر انصاف کرنے یا انصاف کا ساتھ دینے کا ایک واقعہ بھی اپنے نام نہیں لکھا۔ میں سوچتی ہوں ایسی جماعت کواپنا نام جماعت قاتلٍ انصاف رکھ لینا چاہیئے ۔ میں جانتی ہوں کہ یہ ایک جمیل احمد خان ہیں جن کے مظالم سامنے آ رہے ہیں ۔۔ ابھی حال ہی میں پنجاب کے ایک گاؤں میں بکری چوری ہونے پر حکومتی جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی نے اپنے مزارعے کے بیٹے کو مار مار کے مارڈالا۔ اورایسی کئی مثالیں ہمارے چاروں طرف بکھری پڑی ہیں لیکن کیا کریں ملک کا نظام عدل مفلوج ہے ۔۔ جرائم کا قلع قمع کرنے والے انہی کے پشت پناہ ہیں ۔

عمران خان صاحب اگر مدینے کی ریاست قائم نہیں ہو سکتی تو اللہ کے رسول ص کے مدینے کو بدنام تو نہ کریں ۔ ہم یہ کہانیاں سن سن کر تھک چکے ہیں کہ ایک عورت کی پکار پر محمد بن قاسم بجلی کی طرح کوند کر آیا ۔۔ ہماری نسلیں ان کہانیوں کو سن سن کر اپنی سماعت کھو رہی ہیں ۔۔ اور اب تو ہنستی ہیں ۔

کیا پاکستان کا کوئی ایک فرد آپ سے ، آپ کی جماعت سے یہ امید کر سکتا ہے کہ آپ خود منزہ سہام مرزا کی بپتا سنیئے اور اسے انصاف دیجئے ۔۔۔ ایسے میں ایک موقع ملا ہے آپ کو اور آپ کی تحریک انصاف کو ۔۔ تاکہ اگلے انتخابات میں عوام آپ کے انصاف کے نعرے کو سچا سمجھے ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. بہت عمدہ۔۔۔۔
    اللہ ظالم کو ضرور کیفرِ کردار تک پہنچاتا ہے اللہ منزہ سہام کو اپنا حفظ و امان دلوا عطافرمائے اور ان کی آواز حکام ِ بالا تک پہنچا کر ان کی پریشانی کا جلد بہترین حل دلوا کر چھوڑے۔آمین

LEAVE A REPLY