بہتر ہے کہ سوچیں کم عمل زیادہ کریں؟۔۔۔؟شمس جیلانی

0
584

کل میں نے پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر یہ خبر سنی کہ پہلے صدر ِ مملکت نے اور اب اس کے بعد وزیر ِ خارجہ صاحب نے اس مسئلہ پر کہ پاکستانی طالبان کو معاف کیا جائے یا نہ کیا جائے یہ کہہ کربات کی ہے کہ افغانی طالبان کی اس خواہش پر بھی بات کی جاسکتی ہے یہ حالت ہے اس ملک کی ہ جہاں حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ جس کے بانی قائد اعظم محمد علی ؒ جناح نے شیخ الا سلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ سے اس وقت بڑے فخر سے کہا تھا جبکہ کانگریس کی دیکھا دیکھی انہوں نےقائد اعظم کے پاس آکر فرمایا تھا کہ کانگریس نے تو بھارت کے لئے اپنی دستور ساز کمیٹی بنا دی ہے کیوں نہ ہم بھی اپنے لئیے بنا لیں؟ تاکہ جب پاکستان بنے تو اس کا دستور بھی تیار ملے۔ قائد اعظمؒ کا جواب تھا کہ مولانا ان کے پاس تو دستور ہے نہیں اس لیئے وہ بنا رہے ہیں لیکن ہمارے پاس قرآن کی شکل میں بنا بنا یا دستور موجود ہے ہمیں بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ اور انہوں نے دستور کو پاکستان بننے کے بعد اتنی اہمیت دی کے اپنی صحت خراب ہونے کے باوجود گورنر جنرل بنتے ہی دستور ساز اسمبلی فوراً تشکیل دیکر جوکہ اراکین پارلیمان پر مشتمل تھی اس کی صدارت بھی اپنے پاس رکھی اور پارلیمان کوہی دستور ساز اسمبلی کانام دیدیا۔ لیکن ان کی عمر نے وفا نہ کی اور ان کے سعادت مند شاگردوں نے انہیں بلوچستان کے ایک انتہا ئی صحت افزا ء مقام تربت ریسٹ میں بھیجدیا تاکہ وہاں نہ ان تک کوئی خبر پہنچے اور نہ ہی کو بندہ ان کے پاس پہنچے۔کیونکہ اسوقت کا پاکستان آج جیساپاکستان نہیں تھا تربت تک پہنچنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ کہ نہ تو فوج کے پاس اتنے ہوائی جہاز تھے کہ سواری کے کام آئیں؟ نہ سرکاری ہوائی جہاز تھے اور نہ ہی پرائیویٹ تھے۔ نہ ہی اتنی ایر لائنیں تھیں، لے دے کے اگر کچھ تھا تو اورینٹ ایر ویز تھی جو اصفہانی والوں کی ملکیت تھی اور بہت پرانے چند ہوائی جہاز وں سے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا ان دنوں ابتدائی رابطہ قائم رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ صرف ایک ملٹری ڈاکر کرنل الٰہی بخش صاحب ان کی نگرانی پر معمور تھے جبکہ اس وقت دور دور کوئی ہسپتال نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ان کی حالت بگڑی تو وہاں سے کراچی لانے کی کوشش کی گئی کہیں سے ایک ہوا ئی جہاز فراہم کیا گیا۔ کراچی کے فوجی ہوائی اڈے ماری پور پر اس کو اتار ا گیا۔ جبکہ اس وقت کےوزیر اعظم لیاقت علی خان تو کیا کوئی ان کی کابینہ وزیر بھی قائد اعظم کے استقبال کے لئیے ہوا ئی اڈے پر موجود نہ تھا؟جو ایمبولینس انہیں لے کر آرہی تھی وہ اتنی بزرگ تھی کہ جناح اسپتال پہنچا نے کے بجائے اس کاراستے میں ٹائر پھٹ گیا اور اسی حالت میں قائد اعظم ؒ اسی جگہ ڈیرھ گھنٹے منتظر رہے۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس وقت کابینہ کیا سوچتی رہی اور کوئی ایکش فوراً کیوں نہیں لیا؟ یہ تھی پاکستان کی پہلی ناکامی سوچنے کی وجہ سے جس نے قائد اعظم ِکی جان لیلی اس کے بعد سے ناکامیوں کی ایک طویل فہرست ہے جو سوچنے میں ہی گزرگئی؟ جبکہ اس وقت قومی رہنما بجا ئے سوچنے کے اگر ایکشن لے لیتے تو آج اس ملک کے حالات کچھ اور ہوتے لیکن انہوں نے ہمیشہ سوچنے پر وقت ضائع کیا ایکشن لینے پر نہیں خرچ کیا؟ اگر میں اس کی تفصیل بتا ؤ ں جو کہ میرے علم میں ہے تو ایک ضخیم تاریخی کتاب تیار ہو جا ئے گی۔ اگر عوام چاہیں تو میں ان کی خاطرپاکستان کے بننے سےلیکر دو تکڑے ہونے تک کی تاریخ بتا سکتا ہوں۔ یہ سب کچھ میں آج اس لیئے دہرارہا ہو ں کہ اس مرتبہ اہلِ اقتدار پھر ایک مسئلہ پر سوچ رہے ہیں اور وہ ہے پاکستانی طالبان کا مسئلہ؟ جبکہ یہ ایکشن لینے کا وقت ہے سوچنے کا نہیں؟ کیونکہ اس سلسلہ میں کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے ان کے پاس کہ انہیں واپس لیں اور پاکستان کو بین الاقوامی قوانین تحت واپس ہر حالت میں لینا پڑا کیونکہ وہ پاکستان کے شہری ہیں؟ اگر افغانستان کے طالبان کوئی سمجھوتے کی کوشش کر رہے ہیں تو کہیں بہتر ہے کہ ان کے ذریعہ سے مسئلہ کو حل کرلیں ورنہ یہ دوبارہ پاکستان کے لئیے درد سر بن جا ئیں گے۔ نہ پاکستان امن اور چین سے رہ سکے گا نہ افغانستان۔ اور چاندی ہو جا ئیگی انڈیا کی کہ ایک اچھی خاصی نفری کی ٹولیا ں مختلف سرداروں کی سرداری میں اس کو بہت ہی سستی قیمت پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے مل جا ئینگی؟ کیونکہ بھوکا مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ ایسا کرنے پر مجبور ہونگے؟ اور جو کچھ پہلے ہوا اور جو کچھ اب ہونے جا رہا ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاس ہے جوکہ دستور میں لکھا ہونے کے با وجود عملی طور بہ یک وقت بہت سوں کے پاس ہوتی ہے؟ اس لیئے کہ وہ خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نہیں ہے۔ ورنہ قرآن میں توقدم قدم پر معاف کرنے کو کہا گیا ہے۔ اور اگر کوئی گھراؤ آنے سے پہلے توبہ کرلے تو آپ اس پر کوئی حد نہیں جاری کر سکتے ہیں یہ اللہ کا قانون ہے؟ اگر وہ بغیر گھیرے میں آئے ہتھیار ڈال رہے ہیں تو حکومت کو چاہیئے کہ انہیں بجا ئے بے یار و مدد گار چھوڑ نے کہ ان کی آبادکاری کی کوشش کرے تاکہ وہ کار آمد شہری بن کر اپنی زندگی گزار سکیں؟
میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں جو میں نے میٹرو پولیٹین کریکشن سنٹر س وینکور کی ایڈوائزیری کمیٹی کاممبر ہونے کی بناپر حاصل کیا ہے کہ کس طرح لوگ پہلی دفعہ جرائم میں پھنس جا تے ہیں اور جیلخانوں میں پہنچتے ہیں جنہیں کنیڈا میں کریکشن سنینٹر کہا جاتا ہے تو انہیں احساس ہو تا ہے کہ وہ کہاں آگئے؟ حالانکہ انہیں وہاں ہر آسائش میسر ہوتی ہے سوائے آزادی کے؟ تو اپنے ان اعترافات کو اپنے قلم سے لکھ کر جیل کی دیواروں پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ اور یہاں سے ان کی سزائیں ان کی نیک کی چلنی بنا پر روزانہ کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اورجتنی جلدی وہ اپنے کردار کو درست کرلیتے ہیں اتنی ہی جلدی انہیں جیل سے چھٹکارا مل جاتا ہے؟ پاکستان کی طرح نہیں ہے کہ جو ایک دفعہ جیل پہنچ گیا عادی ملزم بن کر نکلتا ہے اور پھر روز بروز پکا ہوتا جا تا ہے۔ بعضے تو مقدمے کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہوجا تے ہیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY