کہتے ہیں کہ جنگ میں عورتوں کو چھپایا جاتا ہے ، ڈھال نہیں بنایا جاتا ، جب جنگی حالات میں عورت کی حرمت کا یہ عالم ہے تو سوچئے عام حالات میں عورت کی عزت ، حرمت کس پائے کی ہونی چاھئے ۔ مگر صد افسوس کہ کچھ نا عاقبت اندیشوں نے اپنی غرض کی خاطر اخلاقیات کا مفہوم بدل کر رکھ دیا ہے ۔
منزہ سہام مرزا ایسی ہی ایک باحرمت اور عزت دار خاتون ہیں ، ان کا وقار ان کی آبرو کسی بدخواہ کے لئے ہتھیار نہیں بن سکتا ، آج کل وہ جس ذہنی اذیت اور کرب سے گزر رہی ہیں ایک عورت ہونے کے ناطے ہم اس کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں مگر حیف اس بے بسی پر کہ ہمارے اختیار میں ماسوائے چند الفاظ کے اور کچھ نہیں ہے ، مگر دل کو اس بات سے تسلی دیتے ہیں کہ قلم کی طاقت دولت اور عہدے کی طاقت سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے ۔ ، لہذا اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہم حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ حکومت ادارہ دوشیزہ اور سچی کہانیاں کی مدیرہ منزہ سہام مرزا کو تحفظ فراہم کرے اور ان کو بے بنیاد جھوٹے کیسز ، دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے ذریعے دی جانے والی ذہنی اذیت سے نجات دلانے میں ان کی مدد کرے ۔
ایک عورت کی پکار پر سندھ فتح کرنے والے غیور محمد بن قاسم کی تاریخ پرانی سہی لیکن قوم کی غیرت ہمیشہ لازوال ہوتی ہے جسے وقت کی دھول اور سرکشی کبھی نہیں مٹا سکتی ، حرف آخر کے طور پر میرا حکومت سے یہ کہنا ہے کہ جس عزم کا آپ منشور لے کر آئے تھے اس پر پڑنے والے ایک بے بس عورت کے آنسوؤں کے چھینٹے بھی اگر آپ کی غیرت کو نہ جگا سکیں تو اپنے ضمیر پر فاتحہ پڑھ لیں ۔
فرح اسلم قریشی
کراچی













