مشہورڈائجسٹ سچی کہانیاں اور دوشیزہ کی مدیرہ منیزہ سہام جو ایک مشہور اشاعتی ادارے کی مالک بھی ہیں جن کا ادارہ پچاس سالوں سے کراچی میں نشر و اشاعت کا کام کررہا ہے جس سے ادبی حلقہ بخوبی واقف ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ منیزہ سہام ایک صحافی ہونے کےباوجود عام پاکستانی عورت کی طرح پچھلے دس سالوں سے انصاف کی تلاش میں سرگرداں ہیں – سوال یہ ہے کہ مردوں کےاس معاشرہ میں جہاں معاشی طور پر مضبوط ایک عورت اتنی پریشان ہے تو یہاں عام عورت کو کون انصاف دے گا ؟ ان حالات میں کوئی عام اور کمزورعورت تو شاید خودکشی ہی کرسکتی ہے کیونکہ اس کے پاس اپنے بچاؤ کا کوئی دوسرا راستہ نہ ہوگا – عام طور پرکہا جاتا ہے مرد، عورت کے سر کا سائباں ہوتا ہے اسے تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن افسوس کچھ مرد ایم این اے جمیل خان جیسے بھی ہوتے ہیں جو شادی شدہ زندگی میں عورت کو خلع پر مجبور کر دیتے ہیں اور خلع کے بعد صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے ایک عورت پر زندگی محض اس لئےتنگ کردیتے ہیں کہ وہ ان کی سابقہ بیوی تھی جبکہ اس کی اجازت نہ ہمارا مذھب دیتا ہے اور نہ ہی معاشرہ – منیزہ سہام کو ایک کمزورعورت سمجھ کر پچھلے دس سالوں سے ہراساں کیا جارہا ہے ان پر زندگی تنگ کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی جس کے لئے ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے جن کے ذریعہ انہیں معاشی طور پر کنگال کرنے کی سازش کی گئی انہیں ذھینی نقصان پہنچایا گیا – اس سب کے باوجود وہ خوف زدہ نہ ہوئیں اور جمیل خان کے مدمقابل اپنی بقا کی یہ جنگ پچھلے دس سالوں سے تنہا لڑتی رہی ہیں جس میں انہیں اپنی جان کا خطرہ بھی تھا مگراب وہ تنہا نہیں ہیں ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہیں اورحکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ منیزہ کو تحفظ فراہم کیا جائے – ہم امید کرتے ہیں انصاف کی جلد فراہمی میں حکومت کی جانب سے منیزہ سہام کا ہرممکن ساتھ دیا جائےگا تاکہ وہ اپنی باقی زندگی سکون سے بسر کرسکیں
نفیسہ سعید
کراچی













