زادِ سفر۔۔نویں قسط،مریم عالم

0
788

نویں قسط
وہ ایک اچھی بزنس ویمن بن چکی تھی اس نے تھوڑے عرصے میں سارا کام سیکھ لیا تھا. بابا میں آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہوں. جی بولو بیٹا کیا بات ہے انھیں لگا کہ وہ کچھ اپنے بارے میں بات کرے گی انہیں اس کے اندر اک خلا سا محسوس ہوتا تھا جیسے کچھ ایسا تھا جو وہ نہیں جانتے تھے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ انکی گڑیا اتنی مضبوط ہو چکی تھی کہ اپنے دکھ چھپانا سیکھ گئی تھی
بابا سویرا کی شادی ہے ایک مہینے کے بعد وہ شادی کے بعد کینڈا چلی جائے گی وہ افسردگی سے بولی یہ تو خوشی کی بات ہے اس میں افسردہ ہونے والی کیا بات ہے انہوں نے اسے اپنی بازوؤں کے گیھرے میں لیتے ہوئے کہا بابا میری اس کے علاوہ کوئی اور دوست بھی تو نہیں
وہ اتنی دور چلی جائے گی. بیٹا اگر انسان دل سے دور نہ ہو تو یہ مصنوعی فاصلے کیا معنی رکھتے ہیں دعا کرو اللّٰہ اسکا نصیب اچھا کرے اور اسے ہمیشہ آباد رکھے. وہ اسے سمجھانے لگے. اک دن آپ بھی تو مجھے چھوڑ کر اپنے گھر کی ہو جاؤ گی. اس نے نظریں اٹھا کر ان کے چہرے کی طرف دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں
یوسف بیٹا میں بھی تمہارے سر پر سہرا دیکھنا چاہتی ہوں تم میرے ایک ہی تو بیٹے ہو کیامیں یہ ارمان لئے دنیا سے چلی جاؤں گی میرے ساتھ کی ساری میری سہیلیاں دادیاں بن گئی ہیں وہ اپنی ماں کی سادہ دلی پر زور سے قہقہ لگا کر ہنسا اور انہیں تنگ کرتے ہوئے انداز میں بولا اچھا تو آپ کی سہیلیاں دادی بن گئی ہیں تو اس لئے میں بھی قربانی کا بکرا بن جاؤں
اماں آپ کیوں میری آزادی کی دشمن ہیں میں اپنے وطن پر قربان ہونے کے لیے پیدا ہوا ہوں میں نہیں پڑنا چاہتا ان جھمیلوں میں وہ رسان سے بولتا چلا گیا تو اس کا مطلب ہے تم میری بات نہیں مانو گے وہ معصوم بچے کی طرح بگڑتے ہوئے بولیں
تو آپ صباحت کی شادی کر کے اپنا یہ ارمان پورا کر لیں صباحت . یوسف کی چھوٹی بہن تھی جو گریجویشن کے امتحانات کے بعد نتیجے کے انتظار میں تھی. بیٹا وہ تو بیاہ کے اگلے گھر چلی جائے گی تم تو ڈیوٹی پر چلے جاتے ہو ہم لوگ پھر اکیلے ہو جائیں گے
اچھا اماں سوچوں گا اس بارے میں کیا! وہ خوشی سے بولیں اتنے میں احمد خان آگئے جی سنتے ہیں اپنا یوسف شادی کے لیے راضی ہو گیا ہے احمد خان یوسف کے والد تھے جو ایک چھوٹے سے زمیندار تھے ان کی شدید خواہش تھی کہ ان کا بیٹا فوج میں بڑا افسر بنے انہوں نے یوسف پر بہت محنت کی تھی یوسف نے بھی انکا بھرپور ساتھ دیا اور خوب محنت کی اسکے والدین کی دعاؤں اور اسکے محنت سے وہ فوج میں کیپٹن بھرتی ہو گیا
یوسف جب سے انوشے سے ملا تھا اسے اپنی ذات سے مکمل سی لگنے لگی تھی انوشے کے ساتھ کا احساس اسے راحت دینے لگا تھا لیکن وہ اسے کہاں ڈھونڈتا اسے اس کے بارے میں کچھ بھی تو نہیں معلوم تھا سوائے اس کے وہ اسلام آباد میں رہتی ہے اتنے بڑے شہر میں وہ اسے کیسے ڈھونڈتا.
اسے کوفت ہونے لگی کہ اس دن وہ اس سے کیوں نہیں مل سکا اس نے کیوں دیر کر دی کیا اس نے اسے ہمیشہ کے لئے کھو دیا اس خیال سے ہی اسے اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی
بابا میں نے پراجیکٹ کے لیے پروپوزل تیار کر لیا ہے مجھے یقین ہے کہ ٹینڈر ہمیں ہی ملے گا. وہ جلال صاحب کو بڑی خوش سے بتا رہی تھی وہ اس کا اعتماد دیکھ کر بہت خوش ہوئے
وہ جلال صاحب کے ساتھ بزنس میٹنگ میں گئی تمام بزنس راوئیولز نے اپنے اپنے پروپوزل دئیے لیکن انوشے کا پروپوزل بہت اچھا اور کم قیمت میں تھا اس نے پریزینٹیشن بہت خوبصورت انداز میں دی سب کو اسکا کا پروپوزل بہت پسند آیا ٹینڈر انو گروپ آف انڈسٹریز کو ملا یہ انوشے کی پہلی کامیابی تھی وہ بہت خوش تھی
وہ بہت محنت اور گرمجوش سے پراجیکٹ پر کام کرنے لگی اس کے ساتھ ثقہ لوگ بھی محنت سے کام کر رہے تھے اس کے اخلاق اور نرم مزاجی نے تمام عملے کو اسکا گرویدہ بنا دیا تھا مقررہ وقت سے دو دن پہلے کام مکمل ہو گیا حلال صاحب کو اس پر بہت فخر محسوس ہوا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ضدی اور لاپرواہ غصے کی تیز انوشے اتنی جلدی اتنا بدل جائے گی
انوشے اتنی چپ سی کیوں ہو کوئی سوال نہیں ہے آج کچھ نہیں پوچھو گی
انسان تب چپ ہو جاتا ہے جب اس کو سب کچھ سمجھ آنے لگتا ہے اس کے سوالات تب ختم ہو جاتے ہیں جب وہ اپنی تلاش شروع کر دیتا ہے اور اسے سارے سوالوں کے جواب ملنے لگتے ہیں یا پھر………..
یا پھر وہ فاطمہ کی بات پر چونکتے ہوے بولی فاطمہ مسکرا دیں اور کہنے لگیں یا پھر جب اسے کچھ سمجھ نہ آئے وہ سوچنے لگی کہ وہ ان میں سے کن لوگوں کے زمرے میں آتی ہے اسے کچھ یاد آیا.
. اس نے کہیں پڑھا تھا………………
ﮨﺮ انسانﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺩﺳتک ﺿﺮﻭﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ،ﮐﺒﮭﯽ ﯾ ﻮﻧﮩﯽ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﻟﮕﻨﮯ ﭘﺮ ، ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺯﯼ
ہار کر کبھی منہ کے بل گر کر اور کبھی سب کچھ کھو کر صرف اس دستک کو سمجھنے کی ضرورت ﺳﻔ ﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ختم نہیں ہوتا پانے اور کھو د ینے کے احساس سے انسان بلکل عاری ہو جاتا ہے … ﺑﺲ ﺍﮎ ﭼﭗ ﺳﯽ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ … ﺍﯾﺴﯽ ﭼﭗ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻧﮧ دکھ بس اک ٹھراؤ سا آ جاتا ﮨﮯ انسان کی زندگی میں … ﺍﻗﺮﺍﺭ ﺳﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ . .”
اس کے دل پر جو دستک ہوئی تھی اس میں وہ منہ کے بل گر گئی تھی یا اس نے سب کچھ ہار دیا تھا. ہا وہ اس دستک کو سمجھ چکی تھی .ہاں وہ دستک کو سمجھ چکی تھی اس نے اپنے اصل کی طرف لوٹ جانے کا سفر شروع کر دیا تھا اور اسے اپنا یہ سفر جاری رکھنا تھا تب تک…. جب تک وہ صبغۃ اللّٰہ (اللّٰہ کےرنگ)میں نہیں ڈھل جاتی
انوشے بیٹا میں سوچ رہا تھا کہ جب آپ نے سارا بزنس سمجھ لیا ہے اور بڑے اچھے طریقے سے سنبھال بھی لیا ہے تو کیوں نہ میں اللّٰہ کے گھر حاضری دے آؤں جلال صاحب کی بات سن کر وہ سکتے میں آگئی تھوڑی دیر تک وہ کچھ بول نہ سکی اسے اپنی آواز کنگھ ہوتی ہوئی محسوس ہوئی
اس نے مغرب کی نماز پڑھی اور سڈی روم میں چلی گئی وہ کافی دیر تک مطالعہ میں مصروف رہی اسکی آنکھوں میں نمی تھی انوشے بیٹا کھانا لگ گیا ہے آجاؤ وہ آنا بی کی آواز پر آنکھیں صاف کرتی ہوئی کھانے کے میز پر آ گئی
کیا بنایا ہے کھانے میں اس نے سالن کے ڈونگے پر سے ڈھکن اٹھاتے ہوئے پوچھا سفید چنوں میں مرغی کا گوشت شوربہ بہت زیادہ نہیں تھا خوشبو تو بہت اچھی آ رہی ہے اس نے پلیٹ میں سالن ڈالتے ہوئے کہا
آنا بی حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھیں وہ چپ چاپ کھانا کھانے لگی اس سے پہلے وہ شوربے والا سالن دیکھ کر بگڑ جاتی اسے شوربے والا سالن بلکل پسند نہیں تھا انا بی اسی انتظار میں تھیں کہ وہ سان دیکھ کر شور مچانا شروع کر دے گی
انوشے میں نے تمہارے لئے مرغی بھی فرائی کی ہے وہ لے لو تمہیں شوربہ پسند نہیں نا نہیں انا بی ٹھیک ہے میں یہی کھاؤں گی وہ حیرت سے اس کا منہ تکنے لگیں
جب اس نے کہا کہ اللّٰہ کی دی گئی نعمتوں سے انکار نہیں کرنا چاہیے بلکہ شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ہماری اتنی کوتاہیوں کے باوجودہمیں بھوکا نہیں رکھتا بلکل ٹھیک کہا بیٹا جلال صاحب نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی انا بی اس کے اندر اس تبدیلی سے بہت مطمئن تھیں
انہیں جلال صاحب کی کہی گئی بات یاد آ گئی کہ انوشے جلال احمد کی بیٹی ہے اور میں نے اس کی پرورش حلال کما کر کی ہے کبھی اللّہ کے کرم سے کوئی حرام کا لقمہ نہیں کھلایا اور وہ اک دن ضرور اپنے اصل کی طرف لوٹ آئے گی ہاں بیٹا جلال وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہ میرے لیے سب سے بڑی خوشی ہے ورنہ میں آگے جا کر شہر بانو بیٹی کو کیا جواب دیتی کہ اس کی بیٹی کی پرورش کیسے کی جس کی ذمے داری وہ میرے بوڑھے کاندھوں پر ڈال کر گئی تھی انہوں نے خود سے سرگوشی کی.
انوشے بیٹا ہمارا بھی تو حق ہے نہ کہ تمہاری خوشیاں دیکھنے کا ……کیا مطلب وہ آنا بی کی بات پر چونکتے پڑی مطلب ہم چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی ہو تمہیں تمہارے گھر میں تمہارے شوہر اور بچوں کے ساتھ ہنستا بستا اور آباد دیکھیں انہوں نے اس کی حیرانی دور کرتے ہوئے جواب دیا
وہ خاموشی سے ان کا منہ تکنے لگی انا بی مزید بولیں دیکھو بیٹا تمہاری سہیلی سویرا کی بھی تو شادی ہو رہی ہے اور آج نا اک دن تمام بیٹیوں کو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر جانا ہوتا ہے
یہی دنیا کا کا دستور ہے ہمارے پیارے نبی اکرم صلہ اللّہ علیہ والہ وسلم نے بھی اپنی پیاری بیٹی کو اپنے گھر سے رخصت کیا تھا اور یہ اللّہ کا پسندیدہ عمل ہے وہ ان کی بات سنتے ہوئے خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف رہی اور سوچنے لگی انا بی آپ کو کیا بتاؤں اور کیسے بتاؤں کہ میں شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی…..
جب نائلہ اللّہ سے محبت کا درس دے رہی تھی تب اک طالبہ نے سوال کیا کیا کسی انسان سے اللّہ کے سوا محبت نہیں ہو سکتی وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور کہنے لگی کیوں نہیں ہو سکتی بلکل ہو سکتی ہے لیکن اللّہ سے بڑھ کر جب انسان کسی سے محبت کرنے لگے تو اس چیز کو پسند نہیں کرتا اس کا مطلب کسی نا محرم سے محبت کرنا گناہ ہے
اس بار سوال کرنے والی انوشے جلال تھی اس کی آواز میں اک درد تھا جس نے سب کو اس کی طرف متوجہ کر دیا فاطمہ اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنے لگی واقعی بعض دفعہ ہمیں کسی نا محرم سے محبت ہو جاتی ہے یا پھر اللّہ کروا دیتا ہے لیکن اس کی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں
بعض دفعہ یہ ہم پر سزا بن کر اترتی ہے ہمارے کسی غرور یا غلطی کی سزا بعض دفعہ یہ ہمیں کچھ سکھانے کے لیے ڈالی جاتی ہے لیکن اس سب کا بس اک ہی اختتام ہوتا ہے اللّہ سے قربت ……………. .
لیکن باجی حضرت عمر رضی اللہ عنہا کا تو ارشاد ہےحبت ہو جانے میں ارادے کا عمل دخل نہیں ہوتا یہ تو بس ہو جاتی ہے؟ عالیہ نے فاطمہ کے جواب میں سوال کیاوہ کھلکھلا ہنستے ہوئے کہنے لگی آج تو آپ سب کی طرف سے سوالات کی کثرت ہے
.آج موضوع بھی تو ایسا تھا نوجوان نسل اس معاملے کو لے کر بہت انتہا پسند ہو جاتی ہے اس لیے وہ سب کی باتوں کا بڑے اطمینان سے جواب دے رہی تھی تاکہ وہ ان کو محبت کا اصل مقصد سمجھا سکیں
ہاں بلکل یہ تو دلوں پر اک صحیفے کی طرح نازل ہوتی ہے لیکن جب ہم اس کے اسیر ہو جاتے ہیں اور اس محبت میں اللّہ کی یاد سے غافل ہونے لگتے ہیں تو ہمیں کندن بنانے کے لیے ہجر کے تپتے صحرا میں اس طرح سے چھوڑ دیا جاتا ہےکہ انسان کی روح تک جھلس جاتی ہے اور پھر وہ جو رب ہے نہ کہتا ہے بتا کون ہے تیرا میرے سوا اور انسان بے اختیار پکار اٹھتا ہے بے شک کوئی نہیں
اس کا مطلب اللّہ کی طرف سفر بہت کٹھن ہے اسے طے کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں تو اگر اس سفر میں انسان تھک جائے یا ہمت ہار جائے تو اللّہ کے غضب کے مرتکب… اب ایسی بھی کوئی بات نہیں. رب کو پانے کا سفر یوں تو کٹھن نہیں
لیکن یہ سفر آسان بھی نہیں..
ہاں مشکل تب ہے جب تم اللّہ کے آگے سر نہیں جھکاؤ گی,,
جب تک تم “اللّہ رضا کو کو زندگی میں شامل نہیں کرو گی تمھیں یہ سفر بہت پر خار لگے گا …تم رب کی قدم اٹھاؤ گی تو تمہارے قدم لڑکھڑانے لگیں گے
تمھیں لگے گا تم تھک گئی ہو تمھاری ہمت دم توڑ گئی ہے ,,…بس تم سے تو یہ سفر طہ ہی نہیں کیا جائے گا
لیکن جس وقت تم رب کی رضا کو اپنی رضا بنا لو گی ..رب کی حکم کو یوں ہی لو گی جیسے رب نے لینے کا حکم دیا ہے تو ,,یہ منزلیں آسان ہو جائیں گی …یہ راستے آسان لگیں گے … رب تک پہنچنے والے راستے سکڑ جائیں گے اور فاصلے سمٹ جائیں گے..!!!
باجی اللّہ سے محبت اور بندے سے محبت میں کیا فرق ہے اللّہ سے محبت تو فطری عمل ہے وہ ہمارا خالق حقیقی ہے اس سے تو ہر حال میں محبت کی جاتی ہے بلکل ٹھیک کہا نائلہ نے پارس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا لیکن بعض اوقات انسان کسی دوسرے انسان سے محبت میں اللّہ کی محبت کو پس پشت ڈال دیتا ہے جو کسی لحاظ سے بھی قابلِ قبول نہیں
جہاں تک اللّہ اور بندے سے محبت میں فرق کی بات ہے
توبندے کی محبت ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻮﮌدیتی ہے ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮﮌ دیتی ہےﺍﺗﻨﺎ ﺗوڑدیتی کہ ﮨﻢ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺫﺭﮮ ﺫﺭﮮ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ کی ﻣﺤﺒﺖ ﺍتنیﻣﻀﺒﻮٹی سے ﺟﻮﮌتی ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺗﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﯾﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ کیوں پارس بچے فرق سمجھ آیا فاطمہ پارس کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگی اس
نے اثبات میں سر ہلایا
نائلہ فاطمہ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہنے لگی اور
اور پھر ہمیں لوگوں کی محبتوں کی ضرورت نہیں رہتی ﮐﯿﻮﮞ کہ ﮨﻤﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﻮﺻﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
اللہ سے تعلق جڑ جانے پر وہ تعلق ہمیں بھٹکنے نہیں دیتا گرنے نہیں دیتا پھر چاہے کوئی بھی مخالف
ہو جائے ہمیں کوئی پرواہ نہیں رہتی بس ہم ہوتے ہیں اور ہمارا رب ہوتا ہےاور ہاں جو محبتیں اللّہ کے لئے کی جاتی ہیں یا اس کے لئے چھوڑ دی جاتی ہیں ان محبتوں کا ثمر اللّہ انسان کی توقعات سے بڑھ کر دیتا ہے شرط یہ ہے کہ اس میں اپنا ذاتی کوئی مفاد شامل نہ ہو
انوشے گھر آ کر لان میں پودوں کے پاس بیٹھ گئی کافی دیر تک پودوں سے باتیں کرتی رہی کاش میں بھی تمہاری طرح ہوتی ہر وقت اللّہ کی حمد و ثناء کرتی کوئی چاہت نہ ہوتی پانے اور کھو دینے کے ڈر سے بلکل عاری…..
انا بی باہر آئیں اسے پودوں کے پاس بیٹھا دیکھ کر اس کی طرف چلی آئیں انوشے میں نے تم سے کچھ کہا تھا صبح میری بات کو سوچنا تمہارا باپ بھی چاہتا ہے کہ اب تم اپنے گھر کی ہو جاؤ اچھا آنا بی سوچوں گی اس نے آنا بی کی طرف دیکھ کر جواب دیا
وہ رات کو بستر پر لیٹی سوچ رہی تھی کہ یوسف سے محبت کیا اس نے اللّہ کے لئے کی تھی کافی دیر سوچنے کے بعد اسے اس سوال کا جواب نہیں میں ملا اگر اس نے محبت اللّہ کے لیے نہیں کی تھی لیکن وہ اس محبت کو اللّہ کے لئے چھوڑ تو سکتی تھی
یوسف کو چھوڑ دینے کے احساس سے اس کی سانس ہمیشہ بند ہونے لگتی اک وہی تو اس کی اپنی پسند تھی باقی تو سب اسے اللّہ نے اپنی رضا سے دیا تھا اک وہی تو وہ مانگنا چاہتی تھی آج عجیب سی کشمکش کا شکار ہو گئی وہ اسی کشمکش میں نیند کی وادیوں میں چلی گئی
ہر طرف روشنی تھی وہ درمیان میں کھڑی تھی اسے اپنا آپ محرم محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اسے باز پرس کر رہا ہو اک “آواز سے بولو کیا کہنا چاہتی ہو ” اچانک خوف کے مارے اس کی آنکھ کھل گئی وہ پسینے سے شرابور تھی
اس کا جسم کوئلوں کی طرح جل رہا تھا وہ کانپ رہی تھی اسے اپنے حواس پر قابو پانے میں کافی وقت لگا
صبح جب وہ کافی دیر تک ناشتے کی میز پر نہ آئی تو انا بی اسکو اٹھانے اس کے کمرے میں گئیں انوشے بیٹا آٹھ جاؤ کافی دیر ہو گئی ہے تمہارے بابا ناشتے پر تمہارا انتظار کر رہے ہیں
جب دو تین آوازیں دینے کے بعد وہ نہ اٹھی تو انا بی اس کے قریب آئیں اس کی پیشانی سے بال ہٹائے تو انہیں اس کی پیشانی تپتی ہوئی محسوس ہوئی وہ کراہ رہی تھی
تمہیں تو بہت تیز بخار ہے وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے بولیں وہ بھاگتی ہوئی جلال صاحب کی طرف آئیں جلال بیٹا انوشے بیٹی کو بیت تیز بخار ہے جلال صاحب فورا انوشے کے کمرے کی جانب بھاگے
انوشے کی طعبیت بہت زیادہ خراب تھی وہ گھبرا گئے پریشانی میں انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی بیٹا دیکھ لیا رہے ہو ڈاکٹر کو فون کرو انہوں نے ڈاکٹر کو جلدی آنے کیلئے کہا تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر صاحب آگئے
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد ادویات لکھ کر دیں ڈاکٹر یوں اچانک کیا ہو گیا اسے رات کو بلکل ٹھیک سوئی تھی گھبرانے کی کوئی بات نہیں موسم تبدیل ہو رہا ہے تو موسم کی تبدیلی کا اثر ہو سکتا ہے
آپ دوائی دھیان سے دیں انشاء اللّہ بخار اتر جائے گا اگر خدانخواستہ کوئی فرق نہ پڑا تو آپ مجھے دوبارہ کال کر لیجیے گا اتنا کہہ کر ڈاکٹر صاحب چلے گئے دو دن دوائی دینے کے باوجود بخار میں کمی نہ آئی
وہ انوشے کو ہسپتال میں لے گئے کافی دن ٹریٹمینٹ چلتا رہا لیکن انوشے کی حالت میں کوئی بہتری نہ آئی جلال بیٹا مجھے لگتا ہے ہماری بچی کو کسی کی نظر لگ گئی ہے یا یہ کسی خوف کا شکار ہے ورنہ ڈاکٹر کتنے دنوں سے علاج کر رہے ہیں اور سارے ٹیسٹ بھی ٹھیک ہیں
جلال صاحب نے تھوڑی دیر کو سوچا پھر آنا بی کی بات پر انوشے کی حالت کو دیکھ کر یقین سا آنے لگا وہ لوگ ڈاکٹر سے یہ کہہ کر اسے گھر لے آئے کہ وہ باقی کا علاج گھر میں ہی کروا لیں گے آنا بی مسجد کے امام صاحب کے پاس گئیں وہ انوشے کو دن کروانے کی غرض سے گئیں تھیں
امام صاحب بھلے مانس اچھے انسان تھے انہوں نے انوشے کی کچھ پڑھ کر دم کیا دو دن مسلسل دم کروانے کے بعد اس کی حالت میں بہتری آ گئی انہوں نے انوشے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور حلال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بہت نصیبوں والی ہے آپ کی بیٹی سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹی….
اس کی طعبیت سنبھلی تو اس کا بدن تھکاوٹ سے چور تھا جیسے وہ بڑا با مشقت اور کٹھن سفر طے کر کے آئی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ اپنے اس خواب کے بارے میں کس کو بتائے کچھ دن گزر گئے وہ روشنی کے سفر کی کلاس لینے گئی نائلہ اور باقی طالبات اس کی غیر حاضری کی وجہ پوچھنے لگیں
اس نے اپنی بیماری کا بتایا سب نے اس کو صحت یابی کی دعا دی کلاس ختم ہونے کے بعد وہ نائلہ کے پاس بیٹھ گئی باقی طلبہ تقریباً کلاس ختم ہوتے ہی جا چکی تھیں انوشے فاطمہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی نائلہ نے اس کی طرف پیار سے دیکھا
فاطمہ کو انوشے سے بہت انسیت ہو گئی تھی انہیں اس کی صاف گوئی بناوٹ سے خالی لہجہ اور اس کی معصومیت اور خوبصورتی نے انہیں اپنا گرویدہ بنا لیا تھا کہو کیا بات ہے وہ تھوڑی دیر خاموش رہی پھر اپنے خواب کے بارے میں انہیں بتایا وہ مسکراتے ہوئے بولیں بہت جلد نوازی جاؤ گی
لیکن ایک بات یاد رکھنا بعض دفعہ ہمیں بہترین سے نوازنے کے لئے بد ترین سے گزارا جاتا ہے لیکن ہمیں صبر اور ثابت قدمی سے کام لینا چاہیے ایسے حالات میں وہ پھٹی آنکھوں سے نائلہ کی طرف دیکھنے لگی گھبراؤ نہیں یہ ضروری بھی نہیں بعض دفعہ اللّہ اپنی مرضی سے ویسے سے نواز دیتا ہے
انوشے کے لیے رشتہ آیا تھا جلال صاحب کے بزنس رائیول سکندر حیات انہوں نے اپنے بیٹے عون حیات کے لیے انوشے کا ہاتھ مانگا تھا سکندر حیات خود تو اچھے انسان تھے ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ان کی بیوی اچھی خاصی لبرل اور سوشل خاتون تھیں انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت پر ذرا بھی توجہ نہیں دی وہ سکندر حیات کو بھی بچوں کو کچھ کہنے نہیں دیتیں تھیں انہوں نے اپنے بچوں کو ہر قسم کی آزادی دے رکھی تھی
جب سکندر حیات انوشے سے ملے تھے تو انہوں نے اسی دن یہ طے کر لیا تھا کہ وہ جلال احمد کی بیٹی کو اپنی بہو بنائیں گے انہیں اس بات کا یقین تھا کہ انوشے جیسی سلجھ ہوئی بچی ان کے بگڑے ہوئے بیٹے کو راہ راست پر لانے میں مدد کر سکتی ہے
(پتا نہیں لوگ اپنے نکمے اور بگڑے ہوئے بیٹوں کو سدھارنے کے لیے دوسروں کی سلجھ ہوئی بیٹیوں کو ٹلی کا بکرا بنانے کی کوشش کرتے ہیں خود ان کی تربیت ایسی کیوں نہیں کرتے کہ کسی کی بگڑی ہوئی بیٹی کو ان کا بیٹا اپنی اچھی تربیت اور کردار سے اسے اپنا کر اک نئی زندگی نہیں دے سکتا)
جلال صاحب نے سکندر حیات کو وقتی کوئی جواب نہیں دیا انھوں نے سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگا ٹھیک ہے جلال صاحب وقت لیجیے سوچئے مجھے امید ہے کہ آپ کا فیصلہ میرے بیٹے کے حو میں ہو گا
جلال صاحب سکندر حیات کی بات کے جواب میں بولے میرا فیصلہ میری بیٹی کے حق میں ہو گا مجھے اس دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی عزیز نہیں سکندر حیات ان کی بات کے جواب میں صرف مسکرا سکا
انوشے جب دفتر سے واپس آئی تو جلال احمد نے اس سے کہا بیٹا تازہ دم ہو جاؤ اک اہم معاملے پر بات کرنی ہے جی بابا جیسا آپ کہیں تو پھر رات کو کھانے کی میز پر وہ اس کی رائے لینا چاہتے تھے عون حیات کے معاملے میں وہ اس سے اک دو بار بزنس میٹنگ میں مل چکی تھی
وہ انوشے کی مرضی کے بغیر کچھ فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے بظاہر تو یہ رشتہ بہت اچھا معلوم ہو رہا تھا لیکن وہ انوشے سے مشاورت کے بعد اس کی چھان بین کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کے متحمل ہونا چاہتے تھے
کھانا کھانے کے بعد جلال صاحب نے انا بی اور انوشے سے بات کی انا بی کو وہ بلکل اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے کبھی نوکروں والا برتاؤ نہیں کیا اور ویسے بھی انھوں نے انوشے کو ماں کی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دی تھی آنا بی میرے اک بزنس میں دوست ہیں انھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے ہماری انوشے کا ہاتھ مانگا ہے وہ اسے اپنی بیٹی بنانا چاہتے ہیں
انا بی اس معاملے میں میں آپ کی رائے لینا چاہتا ہوں یہ سنتے ہی انا بی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ جلال صاحب نے انھیں اس قابل سمجھا تھا ورنہ نوکروں کو اتنی عزت کون دیتا ہے انوشے انا بی کے گلے سے لگ گئی آپ ہماری نوکر نہیں ہیں انا بی آپ تو میری دادی میری ماں اور میری سب سے اچھی دوست ہیں آپ کو میری زندگی کے ہر معاملے میں اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے
دیکھ لینا بیٹا کوئی بندے کا پتر ہو ہماری بیٹی شہزادی ہے اور اس کو ایسے ہی کسی ایرےغیرے کے پلے نہ باندھ دینا میری بیٹی کے لیے تو کوئی شہزادہ ہونا چاہیے جو اس کے قابل ہو اس کے ناز نخرے اٹھائے اس کا بہت زیادہ خیال رکھے اس کی آنکھوں میں کَبھی آنسو نہ آنے دے
سارے جہاں کی خوشیاں اس کے قدموں میں نچھاور کر دے انوشے ان کی باتیں سن کر محظوظ ہو رہی تھی آنا بی کیسی باتیں کرتی ہیں بھلا اس دنیا میں کب ایسا ممکن ہے یہاں پر تو ہمیں صبر کی بہت سی مزلیں طے کرنا پڑتی ہیں اسے راضی کرنے کے لیے اپنی انائیں اپنی محبتں قربان کرنا پڑتی ہیں اور کبھی کبھی تو اپنا آپ بلکل روکنا پڑتا ہے تب جا کر کہیں ہم اس کی محبت کے اہل ہوتے ہیں وہ بھی اگر وہ چاہے تو اور جو ہم چاہیں وہ مل جائے وہ تو جنت ہے دنیا میں ہماری چاہت کے مطابق کب کچھ ہوتا ہے ادھر تو بس اس کی مرضی چلتی ہے اور اس کی مرضی میں ہی
ہماری بھلائی ہے………..وہ بہت مطمئن تھی
انا بی اور جلال صاحب اس کی باتیں سن کر حیران ہو رہے تھے کہ یہ وہی انوشے ہے جو کبھی ان سب باتوں سے دور بھاگتی تھی آج وہ انھیں اللّٰہ کی محبت کا درس دے رہی تھی آج انھیں اللّٰہ رحمت پر کھل کر پیار آیا کہ کتنا کریم ہے ہماری دعائیں رد نہیں کرتا بس مقررہ وقت پر قبول کرتا ہے اور انسان کتنا بے صبری اور ناشکرا ہے اس کی حکمت کو سمجھ نہیں پاتا
انوشے حیات صاحب کے بیٹے کے بارے میں کیا خیال ہے پھر بابا جو آپ مناسب سمجھیں مجھے آپ کے کسی فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے جو آپ کریں گے میں آپ کے فیصلے کا ساتھ دوں گی وہ مطمئن ہو گئے(انھیں کیا خبر تھی کہ ان کی نازوں سے پلی بیٹی اپنے اندر اک جنگ لڑ رہی ہے اگر وہ اپنے باپ سے اپنی خواہش کا اظہار کرتی تو ہر ممکن کوشش کر کے یوسف کو اس کی زندگی میں شامل کر دیتے لیکن اس نے اپنی مجازی محبت میں اپنی حقیقی محبت کی تلاش شروع کر لی تھی اس پر محبت آزمائش نہیں بلکہ عطا بن کر نازل ہوئی تھی اس نے اپنی زندگی کا اصل مقصد خان لیا تھا وہ اتنے مضبوط کردار کی مالک تھی کہ اس نے اپنے اندر کی توڑ پھوڑ کی خبر اپنے باپ تک کو نہ ہونے دیا اس نے اپنی محبت کو چاہت نہیں بننے دیا بلکہ اپنی محبت کو عبادت بنا لیا تھا)
وہ اپنے آفس میں تنہا بیٹھی تھی اسے آج گل رعنا کی باتیں یاد آ رہی تھیں اسے آج اس حقیقت کا ادراک ہو چکا تھا کہ آزمائش سب پر آتی ہے کوئی بہک جاتا ہے تو کوئی اس کی عطا سے سمنبھل جاتا ہے وہ ربّ العزت کی شکر گزار تھی کہ اس آزمائش کی گھڑی میں اس نے اسے اکیلا نہیں چھوڑا تھا نہ جانے اس کی ایسی کون سی نیکی اللّٰہ کو پسند آ گئی تھی جس پر اس نے اسے اپنے لیے چن لیا تھا زہن پر بہت زور ڈالنے کے باوجود اسے یاد نہیں آیا
خیر جو بھی تھا اسے اس بات کی ہی خوشی تھی کہ وہ نواز دی گئی ہے لیکن اسے کیا خبر تھی کہ ابھی کڑی آزمائش اس کی منتظر تھی ……….
انوشے کی رضامندی کے بعد انھوں نے اپنے بزنس سرکل میں سکندر حیات کے بیٹے عون حیات کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دی انھیں اس کے بارے میں کوئی اچھی اطلاعات نہیں ملیں لیکن انھوں نے سوچا کہ وہ خود بھی اس معاملے کو ذاتی نظریے سے چھان بین کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے ابھی تک جو معلومات انھیں فراہم ہوئیں تھیں وہ دو رائے کا شکار ہو چکے تھے.
آج جب وہ اور انوشے دفتر سے واپس گھر آرہے تھے تو کی گاڑی کی ٹکر دوسری گاڑی سے ہوئی جس میں تین نوجوان لڑکے نشے میں دھت تھے اور گاڑی کو ہوا کے دوش پر اڑا رہے تھے گاڑی سے ٹکر کے بعد اک نوجوان گاڑی سے باہر نکل آیا اور جلال صاحب کے ساتھ بد زبانی کی (یار دیکھو بوڑھے کو اس عمر میں بھی عیاشی کا شوق ہے کیا قیامت آنکھیں یار اور دیکھو منہ بھی چھپا رکھا ہے) بکواس مت کرو وہ آپے سے باہر ہو گئے بابا چھوڑیں ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگتے انوشے کے کہنے پر وہ گاڑی میں بیٹھ کر دونوں گھر کی جانب روانہ ہو گئے
جب وہ گھر پہنچے تو غصے سے کھول رہے تھے انا بی کے پوچھنے پر سارا ماجرا ان کے گوش گزار کر دیا ارے میاں پتہ نہیں آج کی نوجوان نسل کو کیا ہو گیا ہے کس راست راستےر چل پڑھے ہیں اللّٰہ ہدایت دے ان لوگوں کو اسی لیے میں کہتی ہوں کہ انوشے کو اکیلے کہیں مت آنے جانے دیا کرو چھوڑیں انا بی آپ کافی پلائیں سر میں بہت درد ہو رہا ہے آنا بی کے ہاتھ کی کافی انوشے کو بہت پسند تھی اس لئے ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اس کے لئے کافی خود بنائیں
جب وہ کافی بنانے کے لیے چلی گئی تو انوشے نے جلال صاحب سے کہا بابا جس لڑکے نے آپ سے بد تمیزی کی ہے کیا وہ کیا وہ حیات گروپ آف انڈسٹریز کے مالک سکندر حیات کا بیٹا نہیں تھا میں زیادہ اس سے ملی تو نہیں اور نہ ہی کبھی کوئی بات چیت ہوئی مگر بزنس میٹنگزمیں اس سے دو تین بار آمنا سامنا ہوا ہے مجھے لگتا ہے کہ وہ وہی تھا اس کا حافظہ بہت اچھا تھا اور اس بات سے جلال صاحب بڑی اچھی طرح واقف تھے
انوشے کی بات سننے کے بعد انھوں نے اپنے ذہن پر زور دیا تو انھیں یاد آیا کہ وہ وہی تھا اس وقت اس کی حالت بگڑی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ اسے پہچان نہیں پائے اس کی اصلیت جان لینے کے بعد انھوں نے اسی وقت سکندر حیات کو فون کیا اور ان کے بیٹے کی کرتوت بتا کر رشتے سے انکار کر دیا وہ اپنے بیٹے کی اس حرکت پر شدید شرمندہ ہوئے وہ اک سمجھ دار اور نفیس انسان تھے یہ سب خان لینے کے بعد انھیں اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئی بھی عزت دار اور شریف انسان اپنی اکلوتی اور نیک بیٹی جس کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ مل سکتا تھا ان کے شرابی اور آوارہ بیٹے کو رشتہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا…..
زاہدہ بیگم آپ کو پتا ہے اپنے بیٹے کی کرتوت کیا کرتا پھر رہا ہے وہ سکندر حیات اپنی بیوی پر برس پڑے کیا کیا ہے میرے بچے نے آپ تو اس کے پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں کوئی بھی کچھ کہ دے آپ اس کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں.. تم جانتی ہو وہ نشے میں دھت اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتے جلال صاحب کے ساتھ بد تمیزی کر کے ہماری عزت کو چار چاند لگا دیئے ہیں
اور انھوں نے اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا ہے… سکی میری جان آپ نے انھیں سمجھانا تھا نہ اس عمر میں بچے ایسی نادانیاں کر دیتے ہیں اور جس سرکل میں ہم رہتے ہیں ادھر تو یہ معمول کی بات ہے زاہدہ بیگم تم نے میری نسل کو تباہ کر دیا ہے تم نے اس کی تربیت بہت بری کی ہے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے سٹیٹس کا سہارا مت لو
کم آن سکی آپ پریشان مت ہوں میرے بیٹے کے لئے لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں میں اپنی جس دوست کی بیٹی پر ہاتھ رکھوں گی کوئی بھی انکار نہیں کرے گی میرا بیٹا لاکھوں میں ایک ہے….
بیگم وہ تمھارے نکمے بیٹے کو نہیں میری محنت سے کمائی ہوئی دولت کو دیکھ کر تمھارے پیچھے لپکتی ہیں.. اور کل کو وہ بھی میری نسل کی تربیت ویسی ہی کرے گی جیسی تم نے کی جو بہو تم لے کر آؤ گی میں نے تو دن رات محنت کر کے حلال کما کر تمھیں دیا تھا… پتہ نہیں کون سی کمی رہ گئی جس کا اتنا بڑا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے….
وہ اسی تکرار میں تھے کہ عون ہال میں داخل ہوا سکندر حیات اسے دیکھتے ہی آگ بگولا ہو گئے ادھر آؤ برخوردار ہماری نیک نامی کے جو جھنڈے گاڑ کر آئے ہو اس کی درداد اپنی بھولی ماں کو بھی بتاؤ حد کی نظروں میں دنیا کے سب سے عظیم سپوت ہیں آپ…. کیا مطلب ڈیڈ میں سمجھا نہیں آپ کیا کہ رہے ہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا….
اس کا یہ کہنا تھا کہ سکندر حیات نے اس کے منہ پر زور دار تھپڑ ریسد کیا اور رات کا سارا واقعہ اسے بتایا تم نے میرے بزنس سرکل میں میری عزت دو کوڑی کی کر دی ہے….. وہ غصے سے لال اپنے کمرے میں چلا گیا سکندر جوان اولاد ہے آپ کو ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا اگر غصے میں آکر اس نے کوئی غلط قدم اٹھا لیا تو…. زاہدہ بیگم یہ اام مجھے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا.. جو تمانچہ اس نے میری عزت پر مارا ہے نہ کم سے کم آج مجھے اس کا درد نہ سہنا پڑتا……

اللہ نے محبت کو ایمان سے جوڑا ہے اور جو ایمان والے ہیں وہ آزمائش سے کبھیی نہیں گھبراتےبلکہ خوش ہو کر خود کو آزمائش کے لیے پیش کرتے ہیں اور اللہ سے
اللہ سے ثابت قدمی کی دعا مانگتے ہیں اور پھر جو کوئی اللہ کی طرف سے آئی ہوئی آزمائش پر پورا اترتا ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے انعام کا مستحق قرار پاتا ہے اللہ تعالی کے برگزیدہ بندوں کے انعامات کیا ہوتے ہیں یہ وہی رب بہتر جانتا ہے
مس فاطمہ کی بات کو وہ بڑے غور سے سن رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اس کے علاوہ بھی کوئی آزمائش اس کی زندگی میں آ سکتی ہے وہ آزمائش میں پورا اترنے کی کوشش تو کر رہی تھی
لیکن کبھی کبھی آزمائش اتنی کڑی ہوتی ہے کہ وہ صبر کی آخری حد تک آزماتا ہے اور کبھی کبھی وہ جلد ماں جاتا ہے یہ تو پھر اپنا اپنا نصیب ہے کہ صبر کے کس درجے پر جا کر آپ نوازے جاتے ہو
ہاں ایک بات یاد رکھنا کہ کبھی شکائیت مت کرنا کیونکہ اگر آپ شکائیت کرنے لگو گے تو پھر صبر اور اس کا اجر رخصت ہو جاتا ہے فاطمہ کے دل موہ لینے والے انداز کی تو وہ ہمیشہ سے دلدادہ تھی لیکن آج کے سبق کو انھوں نے اتنے خوبصورت انداز میں بیان کیا کہ سب کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں…..
جلال احمد تم نے اچھا نہیں کیا دیکھنا تمھیں اور تمھاری بیٹی کو ایسا مزہ چکھاؤں گا کہ یاد رکھو گے ساری زندگی تم نے بھڑوں کے جس چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے نہ قبر تک تمھارا پیچھا نہیں چھوڑیں گی…. وہ تمسخرانہ ہنسی ہنسا…
جلال بیٹا انوشے بٹیا ابھی تک نہیں آئی انا بی نے جلال صاحب کو دفتر میں فون کیا میں نے اسے اتنی دفعہ فون کیا لیکن وہ فون بھی نہیں اٹھا رہی وہ آج اپنی گاڑی بھی گھر چھوڑ گئی اس میں کوئی خرابی تھی (آج انوشے دفتر بھی نہیں گئی تھی) ڈرائیور اس کو لینے بھی گیا تھا لیکن وہ ادھر سے اک گھنٹہ پہلے نکل گئی تھی تم اس کی سہیلی سویرا کو فون کر کے پوچھو وہ اس کی طرف تو نہیں چلی گئی
جلال صاحب بہت پریشان ہوگئے انھوں نے سویرا کو فون کیا انوشے کی اور کسی سے کوئی اتنی دوستی بھی تو نہیں تھی وہ اس کے مدرسے بھی گئے لیکن اس کا کہیں کچھ پتا نہیں چلا اس کا فون بھی مسلسل بند آ رہا تھا شام سے رات ہو گئی
انکل آپ نے پو لیس کو فون کیا؟؟؟ وہ انوشے کی طرف ہی تھی جب سے اسے اس کی گمشدگی کی اطلاع ملی تھی بیٹا میں نے آئی جی صاحب کو فون کیا ہے وہ کوشش کر رہے ہیں اس کا فون بند ہونے کی وجہ سے لوکیش بھی ٹریس نہیں ہو رہی
انکل انوشے نے کسی کا کیا بگاڑا ہے اس کی ذات تو سب کے لیے بے ضرر ہے وہ مسلسل رو رو کر اللّٰہ سے اس کی سلامتی کی دعائیں کر رہی تھی انا بی کو تو چپ سی لگ گئی تھی…..
انکل آپ نے آس پاس کے ہسپتالوں میں پتہ کیا خدانخواستہ کوئی حادثہ نہ پیش آ گیا ہو بیٹا اس طرف تو میرا دھیان ہی نہیں گیا وہ جلال صاحب کے ساتھ ہسپتالوں میں ماری ماری پھرنے لگی
سویرا آپی انوشے آپی کی کوئی اطلاع ملی نہیں حماد ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہم لوگ ہسپتالوں میں پتہ کر رہے ہیں تم بھی آپ پاس کے ہسپتالوں میں دیکھو…..
ج آپی سویرا کے کہنے پر وہ اپنی موڑ سائیکل لے کر نکلا اور اس کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا.. صبح ہو گئی لیکن انوشے کا کہیں کچھ پتا نہیں چلا پولیس اپنی پوری کوشش کر رہی تھی…
جلال صاحب آپ کی کسی سے کوئی دشمنی تو نہیں آئی جی صاحب ان کے گھر آئے ہوئے تھے کچھ پوچھ گچھ کرنے کے لیے…نہیں آئی جی صاحب میری یا میری بیٹی کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں…
جب اس کو ہوش آیا تو وہ ایک انڈر کنسٹرکشن عمارت کے ایک کمرے میں بندھے ہوئے ہاتھ پاؤں کے ساتھ پڑی تھی وہ اتنی بے بس تھی کہ اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا اس کے منہ پر ٹیپ لگی تھی اس نے شور مچانے کی کوشش کی لیکن اس کی آواز ادھر ہی سب کر رہ گئی…..
اس کی آواز کی سنسناہٹ سن کر باہر کھڑا آدمی آندر آیا اس نے انوشے کے منہ سے ٹیپ اتاری …اس کے منہ سے جدید سی آواز نکلی پانی اس آدمی نے اسے پانی دیا جب تک وہ پانی پینے لگی اتنی دیر میں وہ آدمی فون پر بات کرنے لگا…
دیکھو اس کا خاص دھیان رکھنا وہ ہماری خاص اور بہت اہم مہمان ہے اسے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے کوئی اسے فون
پر ہدایات دے رہاتھا
جلال صاحب آپ کو کوئی فون کال آئی کسی نے کوئی ہرجانے کا مطالبہ کیا یا کوئی اور وجہ بتائی… نہیں آئی جی صاحب ابھی تک کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا ….اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی مطالبہ سامنے آیا………
آپ حوصلہ رکھیے ہم آپ کی بیٹی کو صیح سلامت باز یاب کروا لیں گے بس آپ کو جیسے ہی کوئی فون کال آئے آپ مجھ سے رابطہ کریں….
اس آدمینے دروازہ کھولا اس بار وہ اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ دو آدمی اور تھے ایک نے اپنا منہ چھپا رکھا تھا لیکن اس کی آواز انوشے کو کچھ جانی پہچانی سی لگی ذہن پر بہت زور دینے کے بعد بھی اسے یاد نہیں آیا کہ اس نے پہلے یہ آواز کہاں سنی ہے….
اس نقاب پوش نے اس کے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے کہا میں تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا تمھیں رانی بنا کر رکھوں گا یہ تو بس تمہارے باپ سبق سیکھنا ہے……..
کون ہو تم مجھ سے یا میرے بابا سے کیا دشمنی ہے تم سے کوئی دشمنی نہیں پھر مجھے جانے دو…. جانے دوں گا لیکن ایسے ہی نہیں…. کیا مطلب تمہارا… وہ پھٹی ہوئی آواز میں بولی…. کچھ نہیں… بس دل آگیا ہے تم پر…. چھوڑ دوں گا بلکل چھوڑ دوں گا… لیکن… وہ زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا…انوشے پر خوف طاری ہو گیا وہ لرزنے لگی وہ اللّٰہ سے رو رو کر دعا کرنے لگی
“یا اللّٰہ میں تیری گناہ گار بندی…. تو بہترین محافظ ہے…. اے میرے رب میری عزت کی حفاظت کرنا…. مجھے اس مشکل گھڑی میں تنہا مت چھوڑنا….. مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے تو کہتا ہے کہ میں اپنے بندے کی برداشت سے ذیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا…. اے میرے پروردگار مجھ پر وہ بوجھ مت ڈالنا جس کو اٹھانے کی طاقت میں نہیں رکھتی….. وہ مسلسل دعا مانگ رہی تھی ربی انی مغلوب فانتصر (اے میرے رب میں بے بس ہوں میری مدد فرما)
امی میرآ تبادلہ اسلام آباد کی ایچ کیو سیکڑ میں ہو گیا ہے اب میں آپ کے پاس مری اپنے گھر کچھ دن بعد چکر لگا لیا کروں گا اور آپ سے سے اب جلد ملاقات ہو جایا کرے گی…. جاری

SHARE

LEAVE A REPLY