کاظم آشفتہ بیاں بستہ بہ امید ورجا

0
1117

ہر نیا سال وہی ہجر فسانہ تیرا
منتظر ہے مرے مولا یہ زمانہ تیرا

تیرے ہی لمس سے باقی ہے گلابوں کا بھرم
پردہ غیب میں قائم ہےٹھکانہ تیرا

روک لیتا ہے عذابوں کوزمانے بھر سے
نصف شب روتے ہوئے ہاتھ اٹھانا تیرا
ہے تیری ذات سے دائم یہ عزائے مظلوم
ناحیہ کہتے ہوئے خون بہانا تیرا

تین سو تیراں ہیں سالار ترے لشکر کے
سورہ دھر سناتی ہے ترانہ تیرا

سر مستودع ہے تو منتقم حق بتول
غاصب حق پہ جلی امر لگانا تیرا ۔

کربلا کو بھی ارمان تیرے جلوے کا
تیغ دو دم کف اقدس مین اٹھانا تیرا

شمر بد نسل ہو یا کوئی ہودم ساز یزید
سر ملعون پہ مولا ہو نشانہ تیرا۔

گنبد فاطمہ زھرا پہ سجے سورہ نور
کوثریں کتبے کو پھر اس پہ سجانا تیرا

کاظم آشفتہ بیاں بستہ بہ امید ورجا
بھیڑ میں رہتا ہے مجنون یگانہ تیرا۔

SHARE

LEAVE A REPLY