مولا نے قلندر کی توقیر یہی کی ہے۔ کاظم کاظمی

0
240

عزیز از جان شعر و سخن کے روح_روان محترم صفدر ہمدانی ۔ کے حکم کی تعمیل میں جڑے چند لفظ آپ احباب کی نزر۔۔

اس ظلم پہ مرھم نے تاثیر یہی کی ہے
ہر درد کی ماتم نے تسخیر یہی کی ہے

ہر درد حزین کا ہے اب اشک عزا مرہم
اس حاذق اکرم نے تحریر یہی کی ہے۔

ماتم ہمیں ورثہ میں زہرا سے ملا کاظم
ظالم کے شکنجے کو زنجیر یہی کی ہے۔

کل زھرا کے در پر جو آگ شقی لائے
اب قبر_ قلندر کی تقدیر یہی کی ہے

وہ بانٹتا ہے جنت مٹی کے گھروندوں میں
 ۔مولا نے قلندر کی توقیر یہی کی ہے۔

صفدرکو جو ہے نسبت حیدر کی غلامی کی
اس نسبت عالی نے تاثیر ہہی کی ہے۔

شاگرد کو ہےلازم دو گام رہے پیچھے
قسمت کے سنورنے کی تدبیر یہی کی ہے

وہ باغ_ عدن دیکھے تو لکھ دیا زھرا نے
نام صفدرو کاظم کے جاگیر یہی کی ہے

کاظم کاظمی۔

SHARE

LEAVE A REPLY