ہر نیا سال وہی ہجر فسانہ تیرا
منتظر ہے مرے مولا یہ زمانہ تیرا
تیرے ہی لمس سے باقی ہے گلابوں کا بھرم
پردہ غیب میں قائم ہےٹھکانہ تیرا
روک لیتا ہے عذابوں کوزمانے بھر سے
نصف شب روتے ہوئے ہاتھ اٹھانا تیرا
ہے تیری ذات سے دائم یہ عزائے مظلوم
ناحیہ کہتے ہوئے خون بہانا تیرا
تین سو تیراں ہیں سالار ترے لشکر کے
سورہ دھر سناتی ہے ترانہ تیرا
سر مستودع ہے تو منتقم حق بتول
غاصب حق پہ جلی امر لگانا تیرا ۔
کربلا کو بھی ارمان تیرے جلوے کا
تیغ دو دم کف اقدس مین اٹھانا تیرا
شمر بد نسل ہو یا کوئی ہودم ساز یزید
سر ملعون پہ مولا ہو نشانہ تیرا۔
گنبد فاطمہ زھرا پہ سجے سورہ نور
کوثریں کتبے کو پھر اس پہ سجانا تیرا
کاظم آشفتہ بیاں بستہ بہ امید ورجا
بھیڑ میں رہتا ہے مجنون یگانہ تیرا۔













