آج٣/٠١/٢٠٢بروز پیر رات دوبجے یعنی چار جنوری دوہنزار بائیس کو ہماری بیگم صاحبہ کو PK-263 سے ابوظہبی روانہ ہونا ہے ۔اس سفر کی تیاری بچھلے چھ ماہ سے جاری تھی ۔ٹکٹ ،ویزا کا اہتمام الطوفان ٹریولز اینڈ ٹورز ابوظہبی کے ذریعہ میرے انجینئر بیٹے نے ایک خطیر رقم سے کیا ۔جوکہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے ۔اب ہمارا امتحان شروع ہوا جب ہمیں بتایا گیا کہ آپ سفر سے پہلے کم از کم اڑتیس گھنٹے کرونا PCR ٹیسٹ کرانا لازم ہے۔ ایک دو لیبارٹریز سے گھر سے ہی سیمپل کی سہولت کا معلوم کیا یہ راز کھلا کہ اس خدمت کا ایک ہزار علاوہ ہے چنانچہ طے کیا کہ مستند لیباٹری سےجاکر ٹیسٹ کرا لیا جائے اور جوکہ 6500روپے سکہ رائج الوقت واک ان کلینک شوکت خانم ہسپتال سے کرایا گیا ۔ دوسرے دن اس کا رزلٹ ایک سینڑ سے حاصل کیا ۔اسی اثنا برخور دار انجینئر صاحب نے انجیئنرنگ دکھائی اور فرمایا کہ جناب سات گھنٹے پہلے ائر پورٹ لازم پہنچ جائیں تاکہCoved-19Rrpid PCR Test بھی کرا لیجیےگا ۔
یہ ٹیسٹ صرف UAE کے لیے ہے جس کے لیے لاہور ائر پورٹ پر گرونڈ فلور پر پانچ اپروڈ لیباٹریز کے بوتھ بنائے گئے ہیں ۔ ہربوتھ پانچ کاونڑر پر مشتمل ہیں جہاں پر آپ کا ریپڈ ٹیسٹ لیا جاتا ہے ۔جوکہ 5000روپے کاونٹر پر نقد ادائیگی سے کیا جاتا ہے ۔اور یہ ٹسٹ کہاں ہوتا ہے اور کہاں لیبارٹز ہیں وہ ایک ہی کمرہ پہ مشتمل لیباٹری ہے جہاں سے بیس منٹ میں چالیس ٹسٹفی بوٹھ ہورہے ہیں ۔جی ہاں بیس مبٹ میں چالیس ٹیسٹ۔
یہ ریپڈ ٹیسٹ جبکہ دیگر ممالک کے لیے جانے والے 48گھنٹے قبل والے ٹیسٹ رپورٹ پہ ہی سفر کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ ٹیسٹ آخر صرف UAE کے مسافروں کے لیے ہی کیوں ہے ؟
دیگر ممالک کا سفر کرنے والے مسافروں کا یہ ریپڈ ٹیسٹ کیوں نہیں لیا جاتا ہے۔ ؟
کیا ریپڈ ٹیسٹ UAE کی حکومت کی طرف سے بھی تجویز کیا گیا ہے ۔
آخر پھر یہ ٹیسٹ کیوں لیا جا رہا ہے؟
تو سنیے جانیے اور اپنے ملک کے کرپٹ مافیا پہ ماتم کناں ہوجائیے ۔!
کہ یہ ضرورت ہماری اپنی ایر لائینز PIA کی ضرورت ہے ۔جس نے اپنے من پسند طے کردہ اصولوں پہ پورا اتر آنے والی لیباٹریز کے کاونٹر لگانے کی اجازت دے رکھی ہے ۔
اگر یہ کسی ملک کا تجویز کردہ ٹیسٹ نہیں تو اس کو کیوں کیا جارہا ہے۔؟
ان ممالک میں خاص طور پہ UAE میں مزدور طبقہٴ زیاد تعداد میں زر مبادلہ کمانے کی خاطر مزدوری کرنے کے لیے عازم سفر رہتا ہے ۔جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ان کی جیبوں سے لیبارٹریز کرونا ٹیسٹ اور ریپڈ ٹیسٹ کے نام پہ کس طرح ڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔ خود آکر دیکھا جاسکتا ہے۔
کیا اس میں پی آئی اے ۔ایرپورٹ اتھارٹیز ملوث ہیں ؟
۔کیونکہ اگر یہ ٹیسٹ لازم ہوتا تو اس کو مشتہر بھی کیا جاتا ویب سائیٹ پہ اس ٹسٹ سے متعلق کو معلومات دستیاب نہیں ہیں ۔اوراگر یہ ضروری ہے تو شوکت خانم ہسپتال لیباٹریز کا کاونٹر کیوں نہیں اور کیوں کر شوکت خانم ریوٹ کی ہارڈ کاپی ہی دکھانی پڑتی ہے؟
۔شوکت خانم کی رپوٹ کیوں ٹکٹ یا پاسپورٹس کے ساتھ آن لائین دستیاب نہیں ہے ۔
ویز آعظم صاحب تحریک انصاف کا نعرہ اب ٢٠٢٣ کو کیا ختم ہونے والا ہے ۔؟
کیا اس مافیا کو کوئی نہیں پوچھنے والا ہے۔؟
یہ مافیا غیر محسوس طریقہ سے لوگوں کو لوٹ رہا ہے ۔اس کو روک لیں ۔قبل اس کہ کہ بہت دیر ہوجائے ۔
کہا جاتا ہے کہ ترسٹھ ہزار کی ٹکٹ اور ایک ہزار درہم ویزا فیس ادا کر سکتے ہی تو ہمیں پانچ ہزار دیتےآپ ہی کو تکلیف ہے ۔ آج مجھے پہ یہ عقدہ کھلا ہے کہ وہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے کا فلسفہ کتنا اچھا ہے ۔ اورشفاف بھی ۔
سید ناظر کاظمی













