لتا منگیشکر کی آخری رسومات اور شاہ رُخ خان کا تنازعہ

0
750

لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جہاں بالی وڈ کے بہت سے مشاہیر پہنچے وہیں ’بالی وڈ کے بادشاہ‘ کہے جانے والے سپر سٹار شاہ رخ خان بھی موجود تھے۔

ممبئی کے ’شیوا جی پارک‘ میں لتا منگیشکر کے جسد خاکی کو آخری دیدار کے لیے رکھا گیا تھا جہاں شاہ رخ خان اپنی مینیجر کے ساتھ پہنچے اور اپنے انداز میں انھوں نے میت کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی۔

ان کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس تصویر میں وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جبکہ اُن کی مینیجر پوجا ددلانی ہاتھوں کو عقیدت سے جوڑے نظر آ رہی ہیں۔

دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر انھوں نے ایک بار پھر اپنے مداحوں کا دل جیت لیا۔ گذشتہ روز لتا منگیشکر کے بعد کوئی موضوع اگر انڈین سوشل میڈیا پر زیر بحث تھا تو وہ شاہ رخ خان کی اس موقع پر لی گئی تصویر ہی تھی۔

بہت سے لوگوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے اس کے ساتھ ’مائی انڈیا‘ بھی لکھا جس کے بعد ’مائی انڈیا‘ بھی سرفہرست ٹرینڈز میں سے ایک ہے۔

بہت سے صارفین نے اس تصویر کو انڈیا کی عکاسی کرتی ہوئی ’نمائندہ تصویر‘ قرار دیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں شاہ رخ خان کچھ پڑھ کر لتا کی میت پر پھونکتے ہیں اور ان کی منیجر بھی جھک کر میت سے اظہار عقیدت کرتی ہیں۔

بہت سے لوگوں نے اس تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ افسردہ ماحول میں لی گئی تصویر ہے لیکن یہ آج کی بہترین تصویر ہے اور ’یہی میرا انڈیا ہے۔‘

انسٹاگرام پر ایک صارف نے لکھا ’ایک ہی دل ہے کتنی بار جیتو گے خان صاحب!‘ جبکہ ایک نے لکھا کہ ’انھوں نے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ کرنے کے بجائے وہاں جا کر اظہار عقیدت پیش کرنے کا فیصلہ کیا، آخر بلاوجہ تو کنگ نہیں۔‘

بہر حال وہاں پہنچنے والوں میں عامر خان، رنبیر کپور اور ودیا بالن وغیرہ جیسی دیگر بالی وڈ شخصیات بھی تھیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’شاہ رخ بھائی کے لیے دل میں اور بھی عزت بڑھ گئی ہے۔ واقعی شریف انسان ہیں۔‘

بہر حال اس کہانی میں ایک موڑ اس وقت آیا جب انڈیا کی ریاست ہریانہ میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی محکمے کے سربراہ ارون یادو نے شاہ رخ خان کا کلپ شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا اس نے تھوکا ہے؟‘

اس ٹویٹ کے جواب میں بے شمار ٹویٹس کیے گئے اور لوگ ارون یادو کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے ایسے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اُن کے مطابق اس قسم کے متعصبانہ نظریے رکھتے ہیں کہ انھیں دعا کا پھونکنا بھی تھوکنا نظر آتا ہے۔

صحافی ابھینو پانڈے لکھتے ہیں کہ دعا کی پھونک میں نفرت کا تھوک تلاش کرنے والے لوگوں کی آنکھ میں ایک خاص قسم کی رتوندھی ہے۔ نہ جانے کہاں سے آتے ہیں!‘

ممبئی کانگریس کے صدر چرن سنگھ سپرا نے شاہ رخ خان کی وہ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’سیکولرزم کی بہترین مثال۔ فرقہ پرست بھکت کیوں پریشان ہیں۔ شاہ رخ خان، یہ انڈیا کا تصور ہے۔‘

صحافی شروتی سونل نے لکھا: ’یہ کس قدر حیرت انگیز ہے کہ شاہ رخ کا اپنا وجود اور اس کا ایک چھوٹا سا (معنی خیز) کام بھی اس ملک میں نہ جانے کتنے متعصب ذہنوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔‘

صحافی ہیمانشی نے لکھا کہ ’شاہ رخ خان جیسا کوئی نہیں اور کوئی ہو گا بھی نہیں۔ آپ کی نفرتیں ہمیں ان سے مزید محبت اور ان کا احترام کرواتی ہیں۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘

بہت سے لوگوں نے شاہ رخ خان کی فلم ’مائی نیم از خان‘ کا ایک کلپ بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ اپنے بچے کو دعا پڑھ کر پھونک رہے ہیں اور پوچھا کہ ’کیا شاہ رخ اپنے بچے پر بھی تھوک رہے ہی

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی لتا منگیشکر کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پہنچ گئے۔

ادھر بھارتی ریاست کرناٹکا میں بھی لتا منگیشکر کے انتقال پر 2 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ لتا منگیشکر کی میت شیواجی پارک منتقل کردی گئی، شیواجی پارک میں لتامنگیشکر کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

لتامنگیشکر کی آخری رسومات میں امیتابھ بچن اور سچن ٹنڈولکر سمیت کئی معروف اداکار و شخصیات بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سے 92 سالہ لتا منگیشکر بریچ کینڈی اسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج تھیں، ان میں کورونا وائرس کے ساتھ ہی نمونیا کی تشخیص بھی ہوئی تھی۔

چند روز قبل زیرِ علاج گلوکارہ لتا منگیشکر کی طبیعت دوبارہ بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں تشویش ناک حالت میں اسپتال میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔

بریچ کینڈی اسپتال سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پریت صمدانی پچھلے کئی برسوں سے لتا منگیشکر کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

سروں کا ایک عہد تمام ہوا، بالی وڈ گلوکارہ لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں چل بسیں، کورونا ان کی موت کی وجہ بنا۔ دنیا بھر میں کروڑوں مداح سوگ میں ڈوب گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 92 سالہ گلوکارہ کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے 9 جنوری کو ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج تھیں۔ ڈاکٹروں نے ان کی صحت یابی کیلئے سرتوڑ کوششیں کیں تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔

لتا منگیشکر نے مختلف زبانوں میں 30 ہزار سے زائد گیت گائے، انہیں سروں کی ملکہ بھی کہا جاتا تھا۔ لتا منگیشکر نے 1942 میں 13 سال کی عمرمیں کیریئر کا آغاز کیا، 1948 میں فلم مجبور کے گانے”دل میرا توڑا” سے شہرت پائی۔ 1949 میں گانا “آئے گا آنے والا” نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ 2004 میں فلم “ویرزارا” کیلئے اپنا آخری البم ریکارڈ کرایا جبکہ 30 مارچ 2021 کو کیریئر کا آخری گانا”سوگند مجھے اس مٹی کی” ریلیز ہوا۔ گذشتہ برس سب سے بڑے بھارتی سویلین اعزازبھارت رتنہ سے نوازا گیا، انہیں فلمی ایوارڈ دادا صاحب پھالکے بھی عطا کیا گیا۔

لتا معروف پاکستانی گلوکارمہدی حسن کی بہت بڑی مداح تھیں، ان کے بارے میں کہتی تھی کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ ملکہ ترنم نور جہاں سے بھی خوب انسیت رکھتی تھیں۔ پاکستانی گلوکار نصرت فتح علی خان کے ہمراہ آواز کا جادو جگایا۔ ان کی وفات پر دنیا بھر میں کروڑوں مداح سوگ میں ڈوب گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY