تیر جب اپنی کمانوں سے نکل جاتے ہیں۔نقاش عابدی

0
215

تیر جب اپنی کمانوں سے نکل جاتے ہیں
کچھ پرندے بھی اڑانوں سے نکل جاتے ہیں

جانے کس راہ پہ کچھ بھوک سے سہمے بچے
رات کو اپنے مکانوں سے نکل جاتے ہیں

ظرف کی بات نہ کر پھوٹ پڑیں تو لاوے
خود پہاڑوں کے دہانوں سے نکل جاتے ہیں

ہم بھی کیا لوگ ہیں اک گھر کو بنانے کے لئے
کس قدر دور گھرانوں سے نکل جاتے ہیں

ضبط مٹ جائے تو الفاظ بغاوت بن کر
کتنی خاموش زبانوں سے نکل جاتے ہیں

وہ تو ہوتے ہیں فقط وقت گزاری کے لئے
لوگ جو یاد کے خانوں سے نکل جاتے ہیں

کتنے نادان ہیں جو لوگ نظر سے گر کر
دل کے محفوظ خزانوں سے نکل جاتے ہیں

نقاش عابدی

SHARE

LEAVE A REPLY