منظوم افسانہ ۔۔۔۔“ جیت کی روشنی “ ۔۔از۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
108

مجھے اپنے دکھ خوشیوں کی طرح ہی عزیز تھے
پر ۔۔ آج ۔۔ میں نڈھال ہوں
یہ دکھ مجھ سے کہیں نہیں رکھا جا رہا
سوچ رہی ہوں مجھے آج ہی کیوں آن کال ہونا تھا
آخر آج ہی کیوں مجھے آئی سی یو سے کال آنی تھی
باہر مسلسل ہوتی بارشیں
گھر تک جانے والے ہر رستے کی تبدیلی
مریضوں کا نہ رکنے والا سلسلہ ۔۔
لنچ بریک پر ۔۔۔
کیرن کی بگڑتی ہوئی حالت پر  سب خاموش
ز ندگی تھی کہ اسے شکست دینے پر تلی ہوئی تھی
اچانک ۔۔۔  آئی سی یو سے کال آئی
انہیں اکتیس سالہ کیرن کے لیئے مشورے کی ضروت تھی
آئی سی یو کا ماحول ۔۔۔۔۔ اف ۔۔ جیسے
کالے بادلوں کی طرح برسنے کو بےقرار تھا
کیرن ۔۔۔۔۔۔۔ زندہ تھی پر جانے کے لیئے تیار سی لگ رہی تھی
نیم بے ہوشی سے گہری بے ہوشی کی طرف سفر کر رہی تھی
میں نے جھک کر اس کی زرد  ، سرد پیشانی کو چھوا
لمس بڑا جادوگر نکلا  ۔۔۔
اس کی نیم واہ آنکھیں‌ شناسا گرمی  پر ایک پل کو چمکیں‌
اس کے ہمیشہ مسکرانے والے ہونٹ‌ کچھ کہنے کولرزے
پر ۔۔۔۔۔۔ خاموشی نے اسے کچھ کہنے نہ دیا
سنو ۔۔ ابھی نہ جاؤ ۔۔ ہمارے یقین کو  شکست کی ضرورت ہے
ظالم دنیا کو ہر دکھ ، ہنس کر سہنے والوں  کی  ضرورت ہے
کیرن ۔۔۔۔۔۔ واپس آجاؤ ۔۔
ورنہ تمہارے ماں باپ
تمہاری چار سالہ بیٹی کو
چند پیسوں کے عوض  درندوں کے ہاتھ بیچ دیں گے
جیسے تمہیں کمسنی میں نشہ کرنے کی خاطر بیچ دیا تھا
خدا کے لئے ۔۔ کیرن ۔۔
ایک اور معصوم  کو کیرن بننے سے  بچانے کی خاطر رک جاؤ
دیکھو تم نہیں رہو گی تو پیٹر کسی اور کو بہت مارے گا
پھر اسے تمہاری ہی طرح گالی دے کر در بدر کر دے گا
سنو کسی اور کو ۔۔ !
سڑکوں پر رلنے سے بچانے کی خاطر واپس لوٹ آؤ
کیرن ۔۔ کم بیک ۔۔۔۔ پلیز ۔۔ کم بیک
آخر تم نے پیرا سیٹامول کی تین سو گولیاں کھائیں کیسے
اچھا چلو ۔۔۔۔ ایک بار ۔۔۔ صرف یہی بتانے آ جاؤ‌
میں جانتی تھی کیرن میری خاموش درخواست کو سمجھ رہی ہے
مجھے بتانا چاہتی ہے ۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔ اور کیسے ۔۔۔ سارے جواب
پر ۔۔۔ وینٹی لیٹر ۔۔ مجھ سے مشاورت کے بعد لگایا جا چکاتھا
کیرن  گہری خاموشیوں میں ڈوب چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
نرسنگ اسٹیشن پر اس کی فائل میں نوٹس لکھے جا چکے تھے
آئی سی یو سے  باہر نکلنے سے پہلے کیرن کو آخری بار دیکھا
مجھے یاد ہے ۔۔ اس نے پہلا انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا
“‌ مجھے ایک ایسا گھر چاہیئے ۔۔ جو صرف میرا ہو
مجھے رہنے کے لیئے کوئی قربانی نہ دینی پڑے “‌
قربانی کیسی ۔۔ کیرن ۔۔۔  ؟ میں نے انجان بن کرپوچھاتھا
“‌  اپنی مرضی کی ۔۔۔  اپنے جسم کی “‌
کیرن مسکرا رہی تھی ۔۔۔ اور میں چپ تھی ۔۔۔۔۔
وہی چپ جو اس دن  وجہ گفتگو  بنی تھی ۔۔
آج وہی گفتگو ، سفید بستر پر چپ پڑی  تھی ۔۔۔
میرے سامنے کیرن کی عارضی مصنوعی نبضیں بھی ڈوب گئیں
شی از نو مور ۔۔۔ ۔۔۔۔ سوری ڈاکٹر ۔۔
میں‌ نے خالی خالی نظروں سے اس کے بے جان وجود کو دیکھا
مجھے  لگا ۔۔ کیرن کے چہرے پر جیت کی روشنی پھیلی تھی
وہ اپنے اس  گھر میں رہنے جا رہی تھی جو صرف اس کا تھا
قبر  میں رہنے کے لیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نا تو کیرن کو اپنی مرضی بیچنی پڑنی تھی اور نا ہی اپنا جسم

LEAVE A REPLY