یادیں ناگن ڈس جائیں تو؟ زاہد حسین

0
1285

سیشن 1972-74،شعبہ صحافت پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس
َیکم فروری کو شعبہ صحافت پنجاب یونیورسٹی لاہور میں پہلے دن کی یادوں اور دیگر حالات و واقعات کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہیں
آج کا دن اپنے تمام اساتذہ، کلاس فیلوز، شعبہ کے زیرتعلیم اور فارغ التحصیل طلباوطالبات کے نام….. اوران ساتھیوں کے بھی نام جنہیں آج بھی کیمپس کی یادیں جواں رکھے ہوئے ہیں .
✍️….… یکم فروری 1972ء جرنلزم ڈیپارٹمنٹ،
پنجاب یونیورسٹی، نیو کیمپس لاہور میں ھمارا پہلا دن تھا، کل کی بات لگتی ہے اس سے پہلے کہ کوئی ہماری بات سننے اور ان یادوں کو دہرانے والا نہ ہو، آہیں مل کر زرا ان ایام کو یاد کریں، کلاس روم، نہر کنارہ، کشتی رانی، الیکشن، کنٹین اور کیفیےٹیریا کے ہنگامے، ہاسٹل کی کہانیاں، سٹوڈنٹس ٹیچرز سنٹر( stc) اور اولڈ کیمپس کےچکر، آپ کو ماضی کے اس سنہرے دور میں لے جاہیں گے جہاں ہم نےاپنی زندگی کا بہترین وقت گزارا اور مستقبل کی راہیں متعین کی. میں بھی آپ کو اس حوالہ سے چھوٹی چھوٹی چند ایک کہانیاں سناوں گا اور ساتھ میں کچھ نایاب تصاویریں بھی ہوں گی جو آپ کو بہت ساری باتیں اور چہرے یاد دلا دیں گی اور یہ بھی کہ آپ خود اور آپ کے دوست کیسے ھوتے تھے.
*. آپ خاموش تماشائی نہ بنیں ، اگر آپ نے بھی اس عظیم درس گاہ میں اپنا یاد گار وقت گزارہ ہےتو قلم کو جنبش دیں اور کچھ کہیں، یہی وقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایسی باتیں کہنے اورسنے والے آپ کے ساتھی، ایک مدت بعد آپ کے ساتھ اور سامنے ہیں.
* یہ یاد رہے کہ میں ء1972-74ء اور اس سے متعلقہ حالات و واقعات کے کی بات کروں گا، تاہم یونیورسٹی کے دوسرے ساتھیوں کے لئے بھی اس میں دلچسپی کی کئی باتیں ھوں گی.
*. وقت کافی گزر چکا ہے لہزا غلطیوں کا امکان تو ھو گا، واقعات کو ٹھیک کرنےاور رائے دینےکا آپ کو پورا اختیار ہے.
*. کوشش کی ھے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو، احتیاط کا پہلو پیش نظر ہے، کئی واقعات سے پہلو بچایا ھے، پھر بھی کسی غلطی کی معذرت کے لئے حاضر ہوں گا.
*. شکریہ، .
مخلص…….. زاھد حسین
سال 1972 ء پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور
✍ ۔۔۔۔۔۔ کا یہ شعبہ صحافت ہے، جس کی کہانی میں آپ کو سنانے والا ہوں، اگر آپ اس دور میں یا کچھ سال آگے پیچھے یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے، تو اس میں آپ کی دلچسپی اور یادوں کو دہرانے کےلئے کافی کچھ سامان ہو گا. ایسا نہ بھی ہو تو بعد کے فارغ التحصیل طلبہء کےلئے بھی ان کی مادر علمی کی باتیں اور اس وقت کے حالات و واقعات ان کے لئے دلچسپی کا باعث ھوں گے .
یکم فروری 1972، لگتا ہے کل کی بات ہے، ہم کلاس میں بیٹھے ہیں ہر دوسرا ایک دوسرے سے ناآشنا ہے، دو روز پہلے کی ہلکی بارش بہار کی آمد کی نوید سنارہی ہے، ٹھنڈ اور ہلکی دھند ہے، سورج نظر نہیں آ رہا . صبح 8 بجنے والے ہیں، پوری کلاس خاموش ہے،بقول شاعر
٠ خاموش لب ہیں، جھکیں ہیں پلکیں، دلوں میں الفت نئی نئی ھے
٠ ابھی تکلف ھے گفتگو میں، ابھی محبت نئی نئی ھے.
اور یہ شعر بھی ہمارے جزبات کی خوب ترجمانی کر رہا ہے کہ :
٠ بہار کا آج پہلا دن ہے، چلو چمن میں ٹھہل کے آہیں
٠ فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوں میں رنگت نئی نئی ہے
پہلی صف میں لڑکیاں ہیں جن میں رخسانہ مسعود، ناہلہ عزیز، شاہدہ قمر، شاہدہ تبسم، نزہت شیرازی، شاہین فرمان، عاصمہ ناصر، شریں فاروقی، صبیحہ انجم، رفعت ناہید فاروقی اور فوزیہ رفیق شامل ہیں، اپنی ایک کلاس فیلو ثمینہ نزیر کانام اس لئے نہیں لکھا کہ وہ کافی عرصہ بعد کلاس کا حصہ بنی تھی.
لڑ کوں میں شبیر احمد جوش، محمد نزیر خالد، معین الدین خالد طور، غلام شبیر، عبدالقیوم خان، محمد سلیم، خواجہ سرمد حسن، خواجہ نسیم اصغر، راحت ظفر ملک، صفدر ھمدانی، مشتاق گمٹالوی، پرویز عظمت شیخ، احمد حیات کلیار، جمیل انجم، حامدمسعود، عبدالروف خان، سید جاوید علی، سید قیصر عباس، رحیم یار عباسی، حقدار علی خان اور زاھد حسین چوہدری (راقم) تھے، یعنی 21 طلبہ اور 11 طالبات کی کلاس تھی.
راقم (زاھد) نے جنوری میں داخلہ ٹسٹ اور انٹرویو کے دوران اپنے ان ساتھیوں کو دیکھا تھا، اور ان میں تین چہروں سے پہلے سے کچھ شناسائی بھی تھی. خواجہ سرمد حسن جن کا تعلق مرے کالج سیالکوٹ سے تھا، ایک مباحثہ کے دوران اپریل 71ء میں ٹاکرا ھوا تھا. اسی سال صفدر ھمدانی سے ایف سی کالج لاہور میں انٹر کالجیٹ تقریبات میں ملاقات ہوئی تھی جہاں کالج کی ادبی تنظیم کے صدر کی حیثیت سے وہ شعراء کے استقبال اور مشاعرہ کےانتظامات میں مصروف تھےاور میں حافط آباد سے مباحثہ میں شرکت کے لئے آیا ہوا تھا.اسی طرح شبیر احمد جوش سے مارچ 68ء میں، گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں ملاقات ہوئی، میں فسٹ ایر میں تھا اور شبیر زمیندار کالج گجرات کی طرف سے شریک مباحثہ تھے. فوزیہ رفیق کا چہرہ ہر ایک کے لئے شناسا تھا کہ انٹرویو والے دن کسی بات پر وہ اونچی آواز میں انتظامیہ سےناراضگی کا اظہار کررہی تھی اور اس آواز نےسب کو متوجہ کر رکھا تھا، یہاں تک کہ اسے سن کر شعبہ کے چیرمین خود آفس سے باہر نکل آئے تھے.
اس وقت کے شعبہ صحافت کے چیرمین، ڈاکڑ عبدالسلام خورشید تھری پیس سوٹ میں ملبوس ٹھیک 8 بجے مسکراتے ہوے کلاس روم میں تشریف لائے، ھمیں خوش آمدید کہا، اپنا، شعبہ صحافت اور اپنے مضمون کا تعارف کروایا، اور حوصلہ دیا کہ اپنے ایک بہتر شعبہ کا انتخاب کیا ہے. انہوں نے بتایا کہ پریشانی کی ضرورت نہیں کتابیں، آپ کو وقتی طور پر لائبریری سے مل جائیں گی. آخر میں انہوں نے ہاسٹل میں رہنے کے خواہش مند سٹوڈنٹس سے کہا دفتر میں اپنا نام لکھوا دیں، ان دنون ہاسٹل میں جگہ بہت مشکل سے ملتی تھی، ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ زیادہ سے زیادہ طلبہء کو رہائش مل سکے اور جاتے جاتے بالکل آخر میں ایک بات ایسے انداز میں کہی جس سے کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو کہا کہ “جن سٹوڈنٹس کو فیس دینے میں دقت کاسامنا ہے وہ ایک سادہ لفافہ میں بند درخواست ان کے آفس ٹیبل پر رکھ دیں” اور کمرے سے نکلتے ہوئے ایک ایسی بات کہی جو مجھے آج تک نہیں بھولی جس سے ڈاکٹر صاحب کے وقار اور قدآوار شخصیت کااندازہ لگایا جا سکتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ” نہایت مختصراً صرف اپنے بارے میں معلومات ہوں اور فیس میں رعایت کی کوئی وجہ نہ لکھی جائے” . (یعنی آپ کیوں رعایت چاہتے ہیں وغیرہ…… )
ڈاکٹر صاحب کو یونیورسٹی میں اہم مقام حاصل تھا اور ان کے اثرورسوخ کی وجہ سے جہاں ہاسٹل میں رہنے کے خواہشمند تمام طلباء و طالبات کو جگہ مل گئی وہیں فیس میں بھی سب کو رعایت دے دی گئی، یہ سہولت اور رعایت حاصل کرنے والوں میں، میں بھی شامل تھا، حالانکہ ایسا کوئی مسلہ درپیش نہ تھا، لیکن تقریباً 25 میں 10 روپے کی ماہانہ بچت بہت بڑی رعایت تھی، شروع میں یہ کچھ غلط محسوس ھوا مگرکچھ عرصہ بعد جب دوستیاں بڑھیں تو معلوم ہوا آدھی سے زیادہ کلاس ‘مستحقین’ کی ہے.
اس کے بعد ڈاکٹر مسکین علی( ایم اے) حجازی صاحب تشریف لاے، آنہوں نے بھی خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے پڑھائے جانے والے مضمون اور شعبہ کے بارے بات چیت کی، جسکے بعد پروفیسر وارث میر صاحب نے طلبا و طالبات سے تعارف حاصل کیا، مجھے ابھی تک یاد ہے، جب وارث میر سے اپنے تعارف کےلئے کہا گیا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ “وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی تعارف ہو جائے گا” بریک کےبعد ڈاکٹر شفیق جالندھری صاحب کا پریڈ تھا، ڈاکٹر صاحب کی شعبہ میں لیکچرار تقرری کے بعد یہ پہلی کلاس تھی اور ان سے پہلا سوال کرنے والی فوزیہ رفیق تھی. ڈاکڑ مہدی حسن تھے تو سینئر مگر کچھ انتظامی معاملات کی وجہ سے ان کی بحالی ھمارے کلاس میں آنے کے بعد ہوئی جس کی وجہ سے وہ کوئی دو ماہ کے بعد تشریف لائے تھے.
ہر کلاس کے بعد باہر سینرزء مسکراتے ہوے ہمارا استقبال کرتے اور ہر مدد وتعاون کےلئے کے لئے تیار ہوتے، وہ تو دوسرے دن معلوم ہوا کہ یہ سب، کچھ دن بعد ھونے والے الیکشن کی تیاری کا ایجنڈا ہے تاہم ان کا رویہ ہمارے ساتھ بہت ہمدرانہ و دوستانہ تھا.
ملکی وصحافتی حالات :
*. فروری72ء میں جب یونیورسٹی کا نیا سیشن شروع ھوا، تو دسمبر 71ء کی جنگ اور سقوطِ ڈھاکہ کی وجہ سے مایوسی و اداسی کی فضا تھی، فوجی حکمران کے پاس بھٹو کو اقتدار منتقل کرنے کے علاوہ کوئی چارا نہ تھا ،لہزا ھمارے دور میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اورجنگ کی وجہ سے مہنگائی کاطوفان اٹھنے والا تھا. نئی نسل کو یہ بات عجیب لگے گی کہ 65ء کی جنگ کے بعد جس چیز کا بحران پیدا ہوا تھا ان میں نمک اور مٹی کا تیل نمایاں تھا. شاہد آپ کو یاد ہو کہ 76ء میں پی این اے پاکستان متحدہ محاذ کا یہ مطالبہ زور پکڑ رہا تھا کہ 71ء کی قیمتیں بحال کی جائیں.
*. 65ء میں اگرچہ فوجی حکومت تھی مگر گڈ گورننس تھی،جہاں جنگ میں عوام
کا بے پناہ تعاون ملک اور فوج کےلئے عزت و وقارکا باعثِ بنا وہیں میڈیا( پریس) کا کردار بھی ایک نیےء روپ میں سامنے آیا تھا. اس میدان میں اس وقت صرف اخبارات اور ریڈیو ہی نمایاں تھے جس نے قومی جزبے اور نہایت محنت و لگن سے اپنا کردار ادا کرکے اپنی عوام اور ملک کے لئے معلومات اور رہنمائی کے اصول بھی واضح کئے، بےشک ریڈیو خبروں، تبصروں اور معیاری ڈراموں کی وجہ سے ایک معیار رکھتا تھا مگر اس کی شہرت میں موسیقی اور موسیقاروں کا بہت بڑا کردار تھا، فرمائشی پروگراموں کی بھر مار تھی، جو سرحدوں کو بھی عبور کرلیتی تھی. نئی نسل کو یہ بات عجیب لگے گی کہ اس وقت کے شاہقین میں ‘ریڈیو سیلون’ اور اس طرح کے کئی غیر ملکی اسٹیشن بھی آپنی خاص پہچان رکھتے تھے موسیقی کے پروگرام کے دوران چند لمحوں کے لئے خبریں یا تبصرہ سننا مشکل لگتا تھا یہ حقیقت ہے کہ 65ء کی جنگ میں جب اس کے فنکاروں اور ماہرین نے قومی جزبے کے ساتھ اپنی آوازوں اور سازوں کو حرکت دی تو انہوں نے قوم کے مزاج کو ایک نئےجزبے سے آشنا کر دیا تھا. ، یہی ریڈیو، معاف کرنا جیسے گھر میں رکھنا گناہ سمجھا جاتا تھا نے’ٹرانسٹر’ کی صورت میں ہوٹلوں اور چائےخانوں سے نکل کر عام لوگوں کے گھروں کے اندر تک رسائی حاصل کرلی تھی. مارکیٹ میں ٹرانسٹرز کی ریکارڈ سیل ہوئی اور اسے خریدنے کا رجحان بڑھتا ہی گیا. عوام نے ان آوازوں کے ساتھ اپنی آواز ملانا شروع کردی، یہاں تک کہ خبریں سن کر نعرہ بازی ہوتی اور قومی نغمے سن کر لوگوں کے جزبات بے قابو ہو جاتے، فنکاروں اور نیوز کاسٹرز نے ہیروز کی حثیت حاصل کرلی تھی.جو ‘ساز و آواز’ کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہ دیکھتے تھے ان کا رویہ بھی بدل گیا . نہایت مختصراً اس میڈیم نےنہ صرف صحافت (پریس) کو نیا راستہ دیکھایا بلکہ قوم کے مزاج کو بھی بدل کر رکھ دیا تھا. بالکل اسی طرح 71ء کی جنگ میں بھی ریڈیو نے 65ء کی طرح اپنا کردار بھرپور طریقے سے سرانجام دیا. تاہم 71ء میں ٹیلیویژن بھی اپنے مختصر سفر کے ساتھ سامنے تھا، اگرچہ حلقہ محدود تھا مگر اپنے چھوٹے چھوٹے پروگراموں کے ساتھ اس نے کامیابی کے ساتھ آپنا مقام بنانا شروع کیا، تاہم خبروں کے میدان میں محنت کے باوجود سرکاری رجحان کی وجہ سے اسے زیادہ پزیرائی حاصلِ نہ ہو سکی، سوائے نو بجے کے خبرنامہ کے یہ کسی طرح بھی ریڈیو کی صبح سات، دوپہر ایک اور رات آٹھ بجے کی خبروں کا متبادل نہ ہوسکا.
*. اسی طرح پرنٹ میڈیا کابھی بہت اہم رول رہا، 65ء اور 71ء میں جہاں صحافیوں نے ملکی سلامتی اور قومی وقار کے سلسلہ میں اپنی افواج اور ملک کی نیک نامی کے لئے اخبارات وجراہد میں اپنا کردار مثبت طور پر سرانجام دیا وہیں عوام میں بھی انہیں پڑھنے کا ایک نیا شعور اجاگر ہوا، 68ء میں حکومتی تبدیلی کے وقت اخبارات کے ساتھ سیاسی رساہل کا بھی ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوا، جنہوں نےعوام میں سیاسی بیداری کی نئی لہر پیدا کر دی، 72ء میں ہمارے زمانے میں عوامی دور حکومت میں یہ سیاسی رساہل عروج پر تھے، اسی دوران صحافتی دنیا میں دیگر رنگ رنگ کے رساہل سامنے آنا شروع ہوئے. تاہم یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے لہزا اسے یہیں ختم کرتے ہیں ورنہ ‘صحافتی دنیا’ سے انصاف نہیں ہو سکے گا اور موضوع بھی بدل جائے گا.
یونیورسٹی کے حالات :
ء 1971میں حفیظ خان صدر اور جاوید ہاشمی پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سیکرٹری تھے، سیاسی پارٹیاں پوری طرح طلبہء سیاست میں داخل اندازی کررہی تھیں اور انہوں نے سٹوڈنٹس کو رائٹ اور لیفٹ میں تقسیم کر رکھا تھا، بہت سارے شعبہ جات میں تو یہ داخلہ اور ٹیچرز کی تقرری پر بھی اثر انداز ہوتے تھے، میری طرح کے کئ ساتھیوں کو تو داہیں، باہیں کا فرق ہی معلوم نہ تھا کہ وہ کس طرف ہیں کیونکہ ان میں اکثر چھوٹی جگہوں سے آتے ہیں جہاں اس قسم کا رویہ یا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا. جو طلبہء آپنے آپ کو غیر جانبدار کہلواتے، ان کا مزاق اڑایا جاتا اور انہیں غلط ناموں (تیسری مخلوق) سے تشبیہ دیتے یعنی مصیبت یہ کہ دائیں بازو کے ساتھ ہوں تو دوسروں کو دشمن سمجھیں اور اسی طرح باہیں کےساتھ ہوں تو ضروری ہے کہ دائیں والوں سے نفرت کریں.
* جمیعت کا ہولڈ تھا جسکی وجہ سے جاوید ہاشمی مارچ 72 کا الیکشن بھی آسانی سے جیت گیے وہ صدر اور پرویز الطاف جو پر وقار شخصیت اور خوبصورت تقریر کے فن سے آشنا تھے، سیکرٹری منتخب ہوئے لیکن سیکرٹری منتخب ہونے کے بعد وہ اتنے فعال نہیں رہے، جتنے جاوید ہاشمی سیکرٹری کی حیثیت سے تھے.
* فریش گریجویٹ کی پالیسی نہیں تھی جسں کی وجہ سے پرانے سٹوڈنٹس سیاست پر چھاےء ہوئے تھے اور ہر چیز پر ان کا ہولڈ تھا.
* لڑائی جھگڑے کی وجہ سے یونیورسٹی کا بند ہو جانا عام تھا. افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جب یہ لڑنے پہ آتے تھے تو ‘وحشی’ بن جاتے تھے، انسانی جان، اساتذہ اور مادر علمی کا تقدس مجروح کرنے میں کوئی کثر نہ چھوڑتے تھے. شاہد آپ کو میرے ان الفاط اور جزبات سے دکھ پہنچے کہ ایسے واقعات و حالات کو دیکھ کر بعض اوقات یہاں تعلیم حاصل کرنا باعثِ شرمندگی لگتا تھا، جہاں چند’ اپنے غیروں کے اشارے پر’ تعلیمی ماحول کو پامال کرنے پر تلے ہوئے تھے. 70ء کے ملکی الیکشن کے اثرات کی وجہ سے ملک کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں ہنگامے ، توڑپھوڑ، ہڑتال اور غنڈہ گردی کے واقعات کثرت سے ھونے لگے تھے، لہزا پنجاب یونیورسٹی اس سے کیسے محفوظ رہ سکتی تھی جو پورے پنجاب کی نماہندہ تھی، اسی 70ء کے قومی الیکشن کی وجہ سے ہی ایک نہایت بری رسم پروان چڑھی کہ بعض تعلیمی اداروں کے سربراہوں کے دفاتر پر سیاسی پشت پناہی کےحامل طلبہء نے قبضہ کرنا شروع کردیا تھا.
*. یہاں میں’ قیادت کاانتخاب’ کے زیر عنوان 1958ء سے 1980ء تک پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے عہدے داروں اور یونیورسٹی میگزین ‘محور’ کا ایک چارٹ آپ کے سامنے لا رہا ہوں زرا اس پر بھی ایک نظر ڈال لیں شاہد ان میں سے کئی چہروں سے آپ کی شناسائی ہو اور آپ کو وہ لوگ بھی یاد آ جاہیں گے جو ان کے مقابلہ میں تھے. ان میں سے کئی نام آپ کو قومی سیاست میں بھی گردش کرتے نظر آئے ھوں گے.
فروری 1972 کی کچھ دیگر باتیں:
* شعبہ صحافت ان دنوں ادارہ تعلیم وتحقیق (IER) کے اوپر والی منزل پرتھا اور ادارہ کے طلباو طالبات کی کثیر تعداد کی وجہ سے یہ بڑا بارونق علاقہ تھا.
* کیمپس میں اکثر ڈیپارٹمنٹس میں کوایجوکیشن برائے نام تھی، تاہم فلاسفی، شیشالوجی، ساہکالوجی اور جرنلزم میں طالبات کافی تھیں. اولڈ کیمپس میں فاہن آرٹس کی لڑکیاں ہمیں عجیب سی نظر آتی تھیں.جب دیکھو برآمدے میں زمین پر بیھٹی ھوتی. جبکہ لڑکے معاف کرنا ‘ہیپی’ نظر آتے، ہماری طرح دیہاتی پس منظر کے لوگوں کے لئے ان کا یونیورسٹی میں اسطرح تعلیم حاصل کرنا ایک عجیب سی بات لگتا تھا. یہ شعبہ فیشن کا آئ کون (Icon) تھا اور اسی پس منظر میں تبصرہ بھی ہوتا، “جیسے پڑھنا لکھنا نہیں اور ماں باپ کے پیسے ضائع کرنا ہےوہ اس شعبہ میں داخلہ لے لے”. جو آج یقیناً ہنسی اور دلچسپی کاباعث ہے. یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جن ڈیپارٹمنٹس میں لڑکیاں برائے نام یا نہ تھیں، اس شعبہ کے لڑکے یونیورسٹی ماحول پر زیادہ کھل کر تبصرہ کرتےنظر آتے. عملی زندگی میں اس طرح کی رائے اور نقطہ نظر کےحامل افراد سے کئی بار واسطہ پڑا، جو کچھ نہ جانتے ہوئے بھی بہت کچھ جاننے کا دعوہ کرتے تھے.
*. گدلے پانی سے بھری نہر اورکھلے سرسبز پارک میں کیمپس کنٹین کو امتیازی مقام حاصل تھا، ان دونوں مقامات کو ہر کوئی اپنے زوق وشوق کے مطابق دیکھتا تھا، تاھم اس زمانے میں شہر سے دور کیمپس کا یہ علاقہ بہت ہی خوبصورت اور سرسبز تھا .شاپنگ سنٹر اور کیفے ٹیریا بھی رونق کی جگہ تھیں. سٹوڈنٹس کی سہولت کے لئے یونیورسٹی کے اندر بنک اور پوسٹ آفس بھی تھا. نہر میں کشتی رانی بھی ماحول میں رنگ بھر دیتی تھی، جہاں کشتی نہ چلانے والے بھی آپنے سٹائل سے کسی ماہر سے کم نظر نہ آتے تھے. تاہم سب سے مشکل اور دلچسپ مرحلہ کشتی کو پل کے نیچے سے گزانا، کچھ لمحے پل کے نیچے رہنا اور واپسی پر پانی کی روانی کے برعکس اسے واپس لانا ہوتا تھا جو کافی دشوار ہوتا تھا.
* رنگ محل، شاہ عالمی سے 27 اور 28 نمبر ڈبل ڈیکر بسیں کیمپس آتی تھیں، ان بسوں پر زیادہ تر وہ سٹوڈنٹس سفر کرتے جو بادامی باغ بس سٹینڈ سے بسوں کے زریعے دوسرے شہروں سے آتے تھے. 27 نمبر بھاٹی چوک (داتا دربار) ، گورنمنٹ کالج، اورنٹیل کالج، مزنگ، اچھرا اور وحدت کالونی کے راستے کیمپس پہنچتی تھی جبکہ 28 نمبر رنگ محل سے بانساں والا بازار، میو ہسپتال، (امروز، پاکستان ٹائمز کے دفاتر) کے سامنے سے گزرتے ہوئے ریگل چوک، شاہراہ فاطمہ جناح پر گنگارام ہسپتال سے مزنگ اور پھر 27 نمبر کے روٹ پر چلی جاتی تھی،ڈبل ڈیکر کی اوپر والی منزل پر سفر کا اپنا ایک علیحدہ ہی لطف اور نظارہ تھا اور کئی دہاتی بھائی اس کی اوپر والی منزل جیسے’ چھت’ کہتے تھے پر سفر کرتے ہوئے گھبراتے تھے کہ یہ ڈراہیور کے بغیر کیسے چلتی ہے، ویسے عام آدمی بھی گھبراہٹ محسوس کرتا تھا کہ کہیں یہ الٹ نہ جائے اور اسکا کرایہ اس وقت صرف 33 پیسے تھا. داتا دربار کے قریب بھاٹی سے ویگن بھی چلتی تھی لیکن یہ مہنگی سواری تھی یہ تیز تھی اور کرایہ بھی 50 پیسے تھا، جبکہ اولڈ کیمپس سے یونیورسٹی بس دو مختلف روٹس پر چلتی تھیں.اس کا کرایہ 10 پیسے تھا یہ صبح اور سہ پہر میں چلتی تھیں. صبح 2 یا3 ٹائمز تھے اسی طرح سہ پہر کو اور دوپہر میں بھی ایک ٹاہم تھا. سڑک سنگل تھی، ٹریفک کم تھی اس لئے جام ھو نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا.
* کیمپس شہر سے باہر تھا، ٹیکسی اولڈ کیمپس و انار کلی سے تقریباً 2.25روپیے اور واپسی سواری نہ ہونے کی وجہ سے 2 روپیےسے بھی کم پیسوں میں آ جاتی تھی.
– * وحدت کالونی کے بعد آبادی ختم ہو جاتی تھی ،جس کی وجہ سے کالونی کے آخری سٹاپ کانام ‘ آخری سٹاپ’ پڑ چکا تھا اور سنا ہے آج تک ھے. یہ طلبہء کےلئے ہنگامہ آرائی کا مقام تھا, ویگن والے شام کو اکثر کیمپس سٹاپ پر واپسی کی سواریاں نہ ہونے کا بہانہ بنا کر طلبہء کو یہاں اتارنے کی کوشس کرتے تھے، ایک دو طلبہ تو قابو آ جاتے تھے مگر زیادہ ان کےلئے مسئلہ پیدا کر دیتے تھے.
*. رات کو لیٹ واپسی پر وحدت کالونی موڑ سے اگے، نہر پل پر بھی کافی دوست لفٹ کے منتظر ہوتے تھے. زمانہ اچھا تھا گاڑی والے جگہ ہونے پر بیٹھا لیتے تھے.
* وحدت کالونی کے آخر سے جب بس کیمپس کی طرف باہیں مڑتی تھی تو سامنے سپیرء ساہنس کالج تھا اور داہیں خالی جگہ(اب علامہ اقبال ٹاون) پانی کے بڑے بڑے جوہڑ تھے، اور بہت دور ملتان روڈ پر واقع فلمی سٹوڈیوز صاف نظر آتے تھے. باہیں موڑ سے لے کر نہر تک خالی جگہ تھی جہاں اب انمول و شیخ زید ہسپتال اور دوسرے ادارے ہیں.
*. نہر کے ایک کنارے یونیورسٹی اور دوسرے پر ایک قطار میں ہاسٹل شہر سے باہر ایک عجیب، خوبصورت منظر پیش کرتے تھے. یونیورسٹی کی کوئی چار دیواری تھی اور نہ ہی ہاسٹل کے گرد کوئی حفاظتی باڑ تھی. درمیان میں نہر کنارے باہیں جانب چھوٹی سڑک تھی جو ملتان روڈ تک جاتی تھی. ویرانی کی وجہ سے اس پر سفر کرنا بڑے حوصلہ و ہمت کا کام تھا، اس پر عموماً فلمی سٹارز ہی اپنے گارڈز کےہمراہ سفر کرتے نظر آتے تھےکیونکہ آگے آبادی نہ تھی.
* ہمارا سیشن اصل میں 71-73ء تھا، مگر یونیورسٹی اور ملکی حالات کی وجہ سے یہ 72-74ء کا بیج بن گیا اور اس سیشن نے تین دیگر کلاسیں بھی دیکھیں جو ایک ریکارڈ ہے ، یعنی سینیئرز 70-73ء اور جونیئرز 73-75ء، و 74-76ء شامل تھیں.
*. اسوقت سٹوڈنٹس کی کوئی زیادہ مصروفیات نہیں ھوتی تھیں، ہاسٹل میں رہنے والوں کی عیاشی صرف فلم ہوسکتی تھی، جب انڈین فلمیں ٹی وی پر چلنا شروع ہوہیں تو سنیما جانا کم ہو چکا تھا. ٹی وی لاونج وقت سے پہلے ھی بھر جاتے تھے. فلم کے وقت شہر میں ٹریفک کم ہو جاتی اور بازاروں کی رونقیں بھی ماند پڑ جاتیں تھیں. لوگ شام ہی سے انٹینا کی سمت درست کرنا اور صاف تصویر کے لئے اس کے ساتھ عجیب وغریب چیزیں، یہاں تک کہ گھر کے برتن تک نسب کر دیتے تاکہ کسی طرح تصویر صاف ہو جائے.
*. ہوٹلنگ کا رواج نہیں تھا، تاہم جب ہم فاہنل میں پہنچے تو لبرٹی کے مشہور’ گوگو’ سے پہلی بار کریم کافی کے زاہقہ کاعلم ہوا، صرف دو تین بار ہی گیے تھےلیکن ھماری باتیں ایسی ہوتی تھیں جیسے ہم دوسرے تیسرے روز وہاں جاتے رہتے ہیں. گوگو اس زمانے کا مشہور ریسٹورنٹ تھا، 1.25 روپے کا مگ تھا اور وہاں جانے کا رکشہ کا کرایہ بھی اتنا ہی تھا. انار کلی میں ‘ نعمت کدہ’ اس وقت روایتی کھانے کے وجہ سے لاہور سے باہر کے تاجروں میں بہت مقبول تھا، یہ بڑے زمیندار اور چوہدری صاحبان کی پسندیدہ جگہ تھی، کبھی گیے تو نہیں لیکن سنا تھا کہ 5روپے کی ‘مرغی’ کی پلیٹ ملتی تھی. مزنگ اور لکشمی چوک بار بی کیو کے لئے مشہور تھا، اسطرح کے کچھ اور بھی ریسٹورنٹ تھے. لاہور کے کئی شوقین مزاج شہری ایسے کھانوں کے لئے گوجرانوالہ تک کا بھی سفر کرتے تھے.
*. فارغ وقت کی مصروفیات میں، بس میں اولڈ کیمپس جانا، جان بوجھ کر فاہن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے اندر ایک چھوٹے سے دروازے سے گزرنا، انارکلی میں وینڈو شاپنگ، بک سٹال پر فلمی رساہل دیکھنا، پرانی انارکلی جو ایک طرح سے فوڈ سٹریٹ تھی سے حاجی کے ھوٹل سے کھانا، لوگوں سے بار بار ٹاہم معلوم کرنا اور تیزی سے واپسی کےلئے بس کی طرف آنا شامل تھا. تاہم لڑکیوں کے پاس اکثر بڑے لفافے ھوتے جن میں سلائی والے کپڑے ھوتے تھے، ان کا بڑا چھوٹا ھونا، اپنےدرزی کی برائی اور اچھے درزی کی تلاش اور کلر میچنگ کی مصیبت ہی انکا موضوع ہوتا، ان کی عیاشی میں انار کلی کی تیز مرچوں والی ‘ چاٹ’ ضرور شامل ھوتی تھی جس کے زاہقہ کا بس کے اندر بھی ان کی’ سی سی’ کی آواز سے پتا چل جاتا تھا، دیگر کوئی ٹرانسپورٹ نہ ہونے کیوجہ سے لڑکیوں کی یہ بھی مجبوری تھی کہ انہیں یونیورسٹی بس کے زریعہ ہی واپس ہاسٹل آنا ھوتا تھا.
*. اسی دوران آہستہ آہستہ فوٹریس سٹیڈیم بھی آبار ھونا شروع ہوا، تاہم ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، دانشوروں اور اساتزہ کی پسندیدہ جگہ پاک ٹی ہاؤس، کافی ہاوس، چینیز لنچ ہوم، وائی ایم سی اے, لارڈ اور شیزان وغیرہ تھے، اکثر لوگ یہاں سے صرف چائے ہی پیتے تھےجبکہ کھانے کے لئے پرانی انارکلی کا ہی رخ کرتے تھے. اولڈ کیمپس کی کنٹین اور بعض ریڑھی والوں کا کھانا بھی اچھا ھوتا تھا. ہم سے کچھ عرصہ پہلے مال روڈ کے مختلف چوراہوں میں ریڑھی پر دو آنے کی دو روٹیاں اور دال فری بھی مل جاتی تھی اور سنا ہے کہ اس زمانہ میں داتا دربار کے پی آر او بھی اچھے مہمان نواز تھے. دربار کئی معززین کی سفید پوشی کا بھی بھرم رکھے ہوئے تھا جس کا زکر کئی صحافیوں اور دانشوروں نے اپنے مضامین اورکالمو ں میں کیا ہے.
*. مال روڑ پر انارکلی سے ریگل تک ہی پیدل رش ہوتا تھا، تاہم واپڈا ہاوس تک ہلکی ٹریفک ھوتی تھی. اس سے آگے کینٹ کی طرف ٹریفک بہت ہی کم ہوتی تھی، صرف چڑیاگھر دیکھنےکے شوقین ہی نظر آتے تھے.
*. اس زمانے میں مفت اخبار پڑھنے کا بہت رواج تھا، اکثر اخبارات کے سٹالز پر صبح ہی رش لگ جاتا، لوگ دور سے سٹال پر پڑے، ‘ آدھا اخبار’ (فولڈ کئے ہوئے ) ہئ دیکھ سکتے تھے، اگر کوئی خرید لیتا تو اس کے گرد رش لگ جاتا اور ایک اخبار کئی لوگوں میں تقسیم ہو جاتا، ہم سے بہت جونیئرز کے لئے اس بات کا سمجھنا مشکل ہےکہ خبروں کے شوقین کس طرح جھک جھک کراخبار پڑھنے کی کوشس کرتے، یعنی ایک صفحہ کو بیک وقت کئی لوگ پڑھتے تھے، اسی طرح کا دلچسپ نظارہ اکثر بسوں اور ٹرین میں بھی نظر آتا تھا.
*. لائبریری میں جانے کا بھی لوگوں کو خاصا شوق تھا جس کی وجہ سے کئی گلی محلوں میں چھوٹی چھوٹی لاہبریریاں ہوتی تھیں . ہر بڑے ریلوے اسٹیشن و بس سٹینڈ پر بک سٹال ہوتے. اولڈ کیمپس کےسامنےٹولنٹن مارکیٹ کے پیچھے آڑٹس کالج کے ساتھ بہت بڑی لائبریری، پنجاب پبلک لائبریری تھی، یہاں بھی اکثر رش ہوتا تھا. ڈائجسٹ، خواتین، اور فلمی وفیشن میگزین زیادہ فروخت اور پڑھے جاتے تھے.اس وقت بھی ادھار مانگ کر پڑھنا اور پھر رساہل و کتابیں واپس نہ کرنے کی پوری پوری کوشس جاری رہتی تھی.
کنٹین،کیفے ٹیریا اور ہاسٹل کی باتیں:
نیو کیمپس میں کنٹین، کیفے ٹیریا کا علاقہ بھی ہر ایک کی یادوں میں بسیرا کئے ہو گا، جبکہ ہاسٹل لاہف بھی خوشگوار یادوں میں محفوظ ہو گی اگر آج کے حالات کو دیکھیں تو یہ بہت ہی دلچسپ اور ناقابل یقین باتیں ہیں کہ اس دور میں پیسے کی کتنی ولیو تھی ،اگرچہ ملکی حالات اور 71ء کی جنگ کی وجہ سے مہنگائی کا گراف آہستہ آہستہ اوپر جارہا تھا مگر اس کے باوجود صورتحال قابو میں تھی.
* سب سے پہلےسر سبز وسیع لان میں کنٹین پر چلتے ہیں جہاں ایک روپیہ کے پانچ کپ چاہے، اور 20 پیسیہ ہی کا سموسہ تھا، چاہے سپرٹ ہوتی تھی. کولڈ ڈرنک کی بوتل تقریباً 90 پیسے (14 آنے) کی تھی جو مہنگی ہونے کی وجہ سے بہت کم استعمال ہوتی تھی. چائے پینے کا رواج بہت کم تھا اس کی ایک بڑی وجہ اکثر طلبہء کا دیہاتی پس منظر بھی تھا، جہاں مشروبات کو چائے پر ترجیح دی جاتی تھی. بہت سے طلباء نے تو یہاں آکر مجبوری میں چاہے پینا شروع کی تھی. لسی کا اس زمانے میں بھی رواج تھا لیکن یہ کنٹین پر نہیں ملتی تھی . کنٹین ویٹر کی بھی خاص پہچان تھی اور وہ بہت تیزی سے سروس دیتا تھا، وہ روزانہ ایک جیسے ہی کپڑے پہنتا تھا اور اسکے کندھے پر صفائی کے لئے ہمیشہ ایک گندھا کپڑا ہوتا تھا جس سے وہ ٹیبل صاف کرتا تھا، وہ چاہے تو آپ کو دے رہا ھوتا اور نظر دوسرے ٹیبل یا آواز پر ھوتی تھی.
ایک چھوٹی کنٹین آڈیٹوریم کےداہیں طرف بنک کے سامنے سیڑھیوں کے ساتھ بھی تھی یہ زرا مہنگی تھی یہ 25 پیسے کا کپ دیتا تھا، اس سے بسکٹ بھی مل جاتے تھے. 72ء میں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد یہ کنٹین ختم ہو گئی تھی.
چھٹیوں کے بعد مہنگائ نے سر اٹھنا شروع کر دیا، اور کچھ عرصہ بعد بوتل ایک روپیہ، چائے اور سموسہ 25 پیسے کاہو گیا یعنی اب ایک روپیہ کے چار کپ، یک دم 20% مہنگائی، کئ لوگوں نے اعتراض کیا، تاہم شکر ہے آہندہ کافی عرصہ تک یہی قیمت رہی.
ھمارے بعد ایک زمانے میں جب داہیں بازو کا مکمل کنٹرول تھا تو انہوں نےاس کنٹین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے لڑکوں اور لڑکیوں کے بیھٹنے کی علیحدہ علیحدہ جگہ بنا دی تھی.
میں آج جو کنٹین کی باتیں کر رہا ہوں، اس میں ھمارے کئی ساتھیوں کو کوئی دلچسپی نہیں ہو گی(شاہد آپ کے بھی کوئی اس طرح کے کلاس فیلو ہوں) کیونکہ وہ کبھی بھی اس ماحول سے آشنائی حاصل نہ کر سکے، وہ بریک میں لاہبریری اور میرے جیسے دوست کنٹین پر ہوتے تھے. وہ تعلیم سے اور ہم کھلےماحول سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے. کنٹین پر دھوپ میں اور گرمیوں میں چھوٹے چھوٹے درختوں کے نیچے بیھٹنے کا اپنا ہی مزا تھا، آج بھی یہ لمحہے بہت یاد آتے ہیں. بعد میں کنٹین کے ساتھ ایک جوس اور فروٹ کا کھوکھا لگ گیا تھا لیکن یہ طلبہء کی پہنچ سے باہر تھا اس لئے اس پر رش نہ ہوتا تھا.
ہاسٹل لاہف:
اب کیمپس کی ہاسٹل لاہف کی طرف آ تےہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہاسٹلز بڑے پلان سے بنے ھوے تھے، دو دو کی قطار میں نہر کی طرف سے شاپنگ سنٹر کے داہیں لڑکیوں کے دو اور باہیں طرف لڑکوں کے 8 ہاسٹلز تھے، اسکے ساتھ ہی ٹیچرز کا بھی ایک علیحدہ 10 نمبر ہاسٹل تھا، سب سے پہلے نیا بنے والا 11 نمبر ہاسٹل تھا، جرنلزم کے زیارہ طلباء یہیں رہتے تھے جن میں سرمد، قیوم، جمیل انجم، حق داد، شبیر جوش اور میں خود شامل تھا اور خاص بات یہ تھی کہ ہمارے ہر دلعزیز استاد پروفیسر وارث میر ہمارے واڈن تھے. ان کا خاموش طبع اور سپاٹ چہرے والا صاحبزادہ حامد اکثر ہاسٹل کے پیچھے اور اپنے گھر کے سامنے ہاسٹل لان میں ٹہلتا نظر آتا تھا. کبھی اس کا بھائی بھی اس کے ساتھ ہوتا تھا، چونکہ واڈن صاحب کا گھر میرے کمرےکے پیچھے تھا اس لئے یہ بچے نظر آتے تھا، حامد ادھر اُدھر نہیں جاتا تھا، بہت ہی شریف، بلانے پر جواب نہ دیتا اور خاموشی سے گھر کے اندر چلا جاتا، بچے کا یہ زکر اس لئے ضروری محسوس ھوا کہ یہ شریف بچہ آج کا نامور صحافی اور شہرت یافتہ انیکرحامد میر ہے. ہمارے ہاسٹل کی دوسری طرف نہر کے پار، ہمارا( IER کے اوپر) شعبہ صحافت تھا، صرف 3 یا 4 منٹ کاراستہ تھا.
*. 11 نمبر ہاسٹل کا نام صلاح الدین ایوبی ہال تھا، نیا ہونے کی وجہ سےہرچیز نئی تھی، کھانا بھی بڑا اچھا ہوتا تھا. ہر ہاسٹل میں میس، مسجد، لابی، کنٹین، مہمانوں سے ملاقات کا کمرہ، دھوبی، ٹی وی لاؤنج، اور ٹیلی فون بوتھ ھوتا تھا. ہر ہاسٹل میں تقریباً دو سو کے قریب سٹوڈنٹس اور چھ کے قریب بیچلرز ٹیچرز کے رہنے کی بھی گنجائش تھی. کھلے ماحول اور کھلی جگہ پر بنے ہوئے تھے جبکہ واڈن اور سپرنٹنڈنٹ کے بنگلوں کے علاوہ سرونٹ کوارٹرز بھی علیحدہ سے تھے.
*. میسنگ ،62 پیسے (حاضری) سے شروع ہوئی، جو نیا ہاسٹل ھونے کی وجہ سے دوسروں سے 5 یا 7،پیسے زیادہ تھی، روزانہ تقریباً 3 سےزیادہ حاضریاں پڑ جاتی تھیں، یعنی ماہانہ 70 روپے سے زائد نہیں بنتے تھے. ناشتہ اپنا اپنا تھا. 100 روپے ماہانہ میں بہت اچھا وقت گزر جاتا تھا، تاہم 74ءکے زمانہ میں دیگر اخراجات سمیت ماہانہ گراف 150 روپیے تک پہنچ چکا تھا.
*. ہاسٹل میں کمروں کے اندر کئ طلبہء چائے بھی بنا لیتے اور بند یا سلائس کے ساتھ ناشتہ کرتے، اسکے لئے ٹی بیگ اور چائے کےلئے کنڈینسڈ ملک کا رواج تھا تاہم دودھ والا کمروں میں دودھ بھی دے دیتا، عام بازار میں تو بارہ آنے سیر (لیٹر) تھا مگر وہ چودہ آنے (دیسی حساب سے) کا سیر دیتا تھا، پاؤ سے زیادہ لینے والا شاہد ہی کوئی ہو اور یہ چائے وغیرہ صرف سنگل کمروں میں ہی بنتی تھی جہاں الیکٹرک ہیٹر رکھے ہوئے تھے مگر سردیوں میں جب بجلی کے تارجلنےکامسئلہ(کمی کا نہیں) پیدا ہوتا تو ان پر سخت پابندی لگ جاتی اور کئی دفعہ تو چھاپہ بھی پڑتا مگر کمال ہے کہ کبھی کوئی ہیٹر برآمد ہوا ہو. چھاپہ شغل کی شکل اختیار کرلیتا. پروفیسر وارث میر صاحب سخت وارنگ دے جاتے.
*. ہاسٹلز کی ایک خاص بات جس کا اگر زکر نہ کیاجاے تو ہاسٹل لاہف نامکمل رہے گا. ان ہاسٹلز کے درمیان دو ہاسٹل آئی ای آر میں زیر تعلیم زیارہ تر بڑی عمر کے ٹیچرز کے لئے تھے جو ایم ایڈ وغیرہ کرنے کے لئے آتے تھے، نہ جانے یہ رسم کب سے پڑی ہوی تھی کہ جب بجلی جاتی تھی تو اردگرد کےہاسٹل والے طلبہء کمروں سے نکل کر زور زور سے نعرہ لگاتے تھے کہ” اوئے ماسٹروں” اور پھر باری باری یہ نعرہ ہر طرف سے سنائی دینے لگتا، یہ بزرگ طلبہ باہر نکل آتے اور جواب میں گالیاں دیتے اور جب بجلی آجاتی پھر بھی نعرہ لگتا، یعنی یہ تفریح کا بہترین زریعہ بن چکا تھا اور ہر کوئی اس میں حصہ لیتا تھا، یہاں تک کہ یہ چار فرلانگ دور گرلز ہاسٹلز سے بھی سنائی دیتا، یہ موقع اتنا دلچسپ ہوتا تھا کہ میں اسے مناسب الفاظ میں بیان نہیں کر سکا. کئی دفعہ تو باقاعدہ لڑائی بھی ہو جاتی تھی. ان میں اکثر ‘ معزز طلبہء ‘ جن کا تعلق سرکاری درس گاہوں سے تھا ہاسٹل میں دھوتی بھی پہنتے تھے،شاید اسی وجہ سے انکا نام’ ماسٹروں کے ہاسٹل’ پڑ چکا تھا. یہ مسئلہ کئی بار اعلیٰ حکام تک پہنچا اور جب بھی فیصلہ کاوقت آتا تو ‘مغلظات’ (والوں) کا پلہ ہمشیہ’ بھاری’ نکلتا اور الٹا انہی بے کو وارننگ ملتی کہ آپ بڑے ہیں اس لئے آپ کو احتیاط کرناچاہیے تھا ، مگر دشام طرازی کے جواب میں جو روانی ‘اوئے ماسٹرو’ میں تھی اس کا کوئی مقابل نہ تھا اور نہ جانے یہ ٹیچرز اس سے کیوں خار کھاتے تھے. ایک دفعہ جناب وارث میر نے فریقین میں صلح کرو4 انے کی کوشش کی، مزاکرات’ خاموشی کی پالیسی’ کے معاہدے پر اختتام کو پہنچے ہی تھے کہ کسی نے خوشی سے ‘سیس فاہر’ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے’ اوئے ماسٹروں’ کا نعرہ بلند کر دیا اور پھر ہر طرف سے’ او ماسٹرو’ ‘او ماسٹرو’ کے نعرے لگنے شروع ہو گئے، اس موقع پر ماسٹرز واقعہ مظلوم نظر آئے کہ وہ مزکراتی کمیٹی کے سامنے دشتام طرازی نہ کر سکتے تھے. ان کے جوابی ‘مغلظات’ صرف رات کی تاریکی ہی میں ہی سنائی دیتے تھے.
*. بعد میں گرلز ہاسٹلز سے کافی دور آگے نئے ہاسٹلز بھی بننا شروع ھو گیے تھے.
*. ہاسٹل لاہف بہت کھلی ڈھولی تھی. علاقہ کی کوئی بونڈری وال نہ تھی. ہاسٹل گیٹ ساری رات کھلے رہتے تھے اور عام طور پر طلباء ان کے اندر سے ہی گزرتے تھے. لیکن اولڈ کیمپس کے لا کالج کے ہاسٹل کا ماحول اور نظام عجیب ہی تھا، یہ انارکلی کے ساتھ لا کالج کے اندر ہی تھا. کوئی ایک سٹوڈنٹ کمرہ لیتا اور اس کا ہر ملنے والا اسے ہی اپنا’ ڈیرہ’ سمجھتا، کوئی پوچھ گچھ نہ تھی. شہر کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے یہ ہاسٹل کئی ملازم پیشہ لوگوں کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھا.
* آپ کو یہ بات عجیب لگے گی کہ کمروں میں پنکھے نہیں تھے شاید اس وجہ سے کہ گرمیوں میں ویسے ہی چھٹیاں ہو جاتی تھیں اور نہ ہی گرم پانی کے گیزر، تاہم پنکھے شہر سے کرایہ پر مل جاتے تھے.پنکھا لگانے کی صورت میں چھ روپیہ ایکسٹرا بجی کے دینے پڑ تے تھے. اس بات میں شک نہیں کہ لوگ سخت جان ہوتے تھے. یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ جس کسی سٹوڈنٹ کو تلاش کرنا ہو وہ آسانی سے مل جاتا تھا، تکلفات نہیں تھے سارہ رہن سہن تھا. گاڑی تو کیا، موٹر سائیکل والے بھی صرف چند ایک ہوں گے، جیسے ہماری کلاس میں صرف غلام شبیر کے پاس موٹر باہک تھا وہ بھی شاید اس وجہ سے کہ وہ ایک ٹانگ سے معزور تھا.
🔴. .. کون کہاں گیا:-
 بارہ لڑکیوں میں سے سب سے پہلے عاصمہ ناصر نےقدم اٹھایا اور کلاس فیلو روف خان سے شادی کرلی. عاصمہ نے کچھ عرصہ بنک کی ملازمت بھی کی. اسی طرح شاہدہ قمر ( مرحومہ) کی شادی شبیر احمد جوش سے ہوئی جو فاہنل امتحانات سے پہلے آرمی میں جا چکے تھے. شاہدہ بھی اخر تک شعبہ تعلیم سے وابسطہ رہیں، مرحومہ اعلیٰ پائے کی پروگرام کمپیئرنگ تھیں. شیریں فاروقی کی شادی پولیٹکل ساہنس کے باسط خان سے ھوئ. ناہلہ عزیز نے پاکستان ٹائمز جاہن کر لیا اورشعبہ میں پڑھایا بھی اور ناہلہ قاسم بن کر امریکہ میں بھی ڈیرہ بنا لیا. رخسانہ مسعود فاہنل ایر کے آخر میں ملک سے باہر چلی گئیں تھیں واپس آہیں، شادی کی اور ہانگ کانگ میں جا بسیں ، صبیحہ انجم شادی کے بعد شعبہ تعلیم سے وابستہ ھوگیں یہ بات اہم ہے کہ انکی دونوں بیٹیوں نے بھی جرنلزم میں ماسٹر کیا اور جیو ٹی وی سے وابستہ رہیں. رفعت ناہید فاروقی، رفعت سجاد اے پی پی بن گئیں، اور صحافت کی بجائے انہوں نے بھی تعلیم کا شعبہ اپنایا، نام کمایا، افسانہ نگاری کی اور کسی اخبار کی ایڈیٹر بنے کی بجائے کالج پرنسپل بن گئیں . شاہدہ تبسم( ٹیبی) نے لاہور میں فری لانس کی، کچھ عرصہ جنگ میں، پھر میاں علیم پاشا پی ٹی وی  اور دو بیٹوں کےساتھ کینڈا شفٹ ھوگیں، فوزیہ رفیق شروع ہی میں ماہنامہ ‘دھنک’ سے منسلک ھوگیںء، فاہنل کا امتحان بھی نہیں دیا، صلاح الدین درانی کے ساتھ مل کر ایک میگزین غالباً ‘ اندازے’ نکالنے کی کوشش کی مگر اندازہ کامیاب نہ ہو سکا تو اسی ساتھی صلاالدین(ریلوے) سے شاری کی، بعد میں وہ بھی بیٹی اور بیٹے کے ہمراہ کینیڈا شفٹ ھوگئ. شاہین فرمان میء 72 میں پروفیسر مہدی حسن کی کسی بات پر غصے سے کلاس سے نکلی، دروازہ زور سے بند کیا اور پھر دوبارہ کھبی کلاس میں نہیں آئی، ان کی شادی آرمی آفیسر سے ہوئی ، جو لیفٹیننٹ جنرل تک پہنچے، ان کے والد جنرل راوء فرمان علی اس وقت انڈیا میں جنگی قیدی تھے. نزہت شیرازی جو شاہین کی دوست تھیں وہ بھی گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد کلاس میں نہیں آئی اور اپنا گھر بسا لیا، ثمینہ نزیر خاموش طبع تھیں، نہایت خاموشی سے ڈگری لی اور پیا دیس سدھار گئیں.
*. لڑکوں میں سب سے پہلے صفدر ھمدانی (لاہور) نے میء 72 کو شعبہ کو خیر باد کہہ کر ریڈیو کو جائن کرلیا، ان کے ساتھ ہی اسی دن راحت ظفر(لاہور) بھی شعبہ چھوڑ گئے جو بعد میں پی آئی ڈی  سے منسلک ھو گیے. اسی سال گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد احمد حیات کلیار (سرگودھا) بھی نظر نہیں آئے. شبیر احمد (گجرات) جو اس وقت جوش کہلاتے تھے فاہنل میں آرمی میں چلے گئے.حقداد علی خان (میلسی) اور میری(زاھد، حافظ آباد ) قسمت میں بھی فوج لکھی تھی, حقداد ایجوکیشن کور اور میں ISPR کے لئے منتخب ہو گئے . رحیم یار عباسی (بہاولپور) ، نزیر خالد( سرگودھا) و مشتاق گمٹالوی ( شکرگڑھ) پنجاب انفارمیشن میں خالد طور( ساہی وال) پہلے TV اور پھر ڑیدیو میں پروڈیوسر ھو گیے، محمد سلیم( لاہور)، جاوید علی و قیصر عباس، ( راولپنڈی) شعبہ نیوز ptv میں، اور سیالکوٹ سے ھمارے دونوں ساتھیوں خواجہ سرمد حسن (مرحوم) اور خواجہ نسیم اصغر نے باقاعدہ کوئی ملازمت نہیں کی تاہم خواجہ نسیم اور روف خان (لاہور) نے بزنس اور غلام شبیر(لاہور) نے زمینداری کو ترجیح دی. عبدالقیوم خان، آزاد کشمیر انفارمیشن میں اپنے گھر مظفرآباد چلے گئے.جمیل انجم (سیالکوٹ) نے ایر لائن کو ترجیح دی اور ساری زندگی سعودی ایرء اسلام آباد میں گزار دی. خاموش طبع پرویز عظمت شیخ( لاہور) یورپ سے ہوتا ہوا امریکہ جا پہنچا جبکہ حامد مسعود (لاہور) اپنے ہی میڈیا ہاوس ‘چاند’ اور’ آراب عرض’ کی دنیا میں گم ہوگیا.
*. فائنل میں ہمارے ورکنگ جرنلسٹ ساتھیوں میں سے اے آر خالد جنہوں نے ٹاپ کیا تھا شعبہ میں ہی ٹیچر لگ گئے جبکہ ان کے دوست مرحوم عبدالنصیرغوری ISPR کے میگزین’ ہلال’ کےایڈیٹر بنے.
یونیورسٹی الیکشن :
یونیورسٹی الیکشن کے بارے میں یہ میری اپنی رائے ہے، میں نے جو دیکھا اور محسوس کیا، اس کا آپ سے اظہار کر رہا ہوں. یہ ضروری نہیں کہ آپ اس سے اتفاق کریں لیکن الیکش کے بعد کی صورتحال پر نظر ضرور ڈالیں کہ جنہیں آپ نے ووٹ دیا انہوں نے آپ کے لئے کیا کیا اور اگر وہ بعد میں سیاست میں نمایاں ہوئے تو ان کا پس منظر اور پیچھے کون لوگ ہوتے تھے، آپ پر پوری صورتحال واضح ہو جائے گی.
میرےخیال میں الیکشن ہوں لیکن اس طرح نہیں ھونے چاہیےکہ سیاسی جماعتیں اور حکومت پشت پناہی کریے اور اپنے مقاصد کے لئےآخری حد تک جانے کو تیار ہوں اور طلبہء کو مختلف لالچ دینے سے بھی دریغ نہ کیا جائے. ہم نے دیکھا کہ یونیورسٹی میں اپنے حمایتوں اور متعدد گورپس کی مدد کیلئے جہا ں وہ ان کے ہاتھ میں اسلحہ تھما دیتے وہیں باقاعدہ ایجنٹس بھی داخل کر دیتے ہیں، دوسرے الفاظ میں وہ طلبہء کی طاقت اور حمایت سے حکومت بنانے اور گرانے کا کام لینا چاہتے ہیں. الیکشن چپقلش کی وجہ سے ہی سٹوڈنٹس کی یہ نفرت اور دشمنی بعد میں بھی چلتی رہتی ہے، خود ہمارے دور میں جو سٹوڈنٹ لیڈرز آمنے سامنے تھے وہ بعد میں بھی اسی دشمنی اور نفرت کی بھینٹ چڑھتے نظر آئے. بعض اوقات تو یہ ‘دشمنی’، ملک دشمن عناصر کے ہاتھ لگ جاتی ہے، جس سے نہ صرف یہ لیڈر اور انکے اہل وعیال تکلیف اٹھاتے ہیں بلکہ قوم اور ملک کے لئے بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں.
*. شعبہ جاتی الیکشن جن کا کوئی مقصد اور فاہدہ نہیں ہوتا، یہ تو بالکل نہیں ھونے چاہیں، چھوٹی سی کلاس ھوتی ہے اور اس میں بھی نفرتیں اورعداوتیں، یہ ہم نے اپنے سے سینئر میں بھی دیکھا اور ایسے ھی کچھ آثار ہماری کلاس میں بھی تھے جبکہ جونیئرز میں زیادہ طلبہء ھونے کی وجہ سےایسے جزبات بھی زیارہ تھے. ایسا نہیں تھا کہ یونیورسٹی کے بعد یہ ختم ہو جاتے بلکہ نفرت کا رویہ رکھنے والےتو بعد میں بھی بدلہ لینے کے متلاشی نظر آتے تھے. عجیب بات تو یہ بھی ہے کہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے ہی کافی لوگوں کے دل نفرت اور کینہ پروری سے بھرے ہوتے ہیں کہ نیے آنے والوں میں سے کس کی ہمدردی کس کس گروپ کی طرف ہے، اور میری طرح کے غیر جانب دار طلبہء کے لئے ان حالات میں یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروپ کا ساتھ دینے سے کیسے انکار کرے. لگتا ہے ہم یہاں پڑھنے نہیں بلکہ سیاست سیکھنے آئے ہیں.
ایسے طلبہ گروپ کسی دوسرے کو آگے آنے بھی نہیں دیتے تھے، اور جو لیڈر بننے کی کوشس کرے اس کا انجام کیسا ھوتا ہے، آہیں میں اپنے کلاس فیلو، دوست غلام شبیر سے ملاتا ہوں جس کے بارے میں کبھی سمجھ نہیں آئی کہ اس نے جرنلزم میں کیوں داخلہ لیا تھا. کلاس کے آغاز میں ہی اس نے سلام ودعا کو بڑھانے کا آغاز کردیا تھا، کلاس ریپ تو آسانی سے بن گیا، آہندہ کے سفر کو بھی اس نے آسان جانا، مگر دو مضبوط جماعتوں کے روایتی حریفوں کے ہوتے ہوئے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشنایم ایس ایف  کی یونیورسٹی الیکشن میں کہاں جگہ بنتی تھی، چند ساتھیوں کے ساتھ ہاتھ پاؤں مارے، مگر بات نہ بنی، مئی 72ء میں ہنگامہ ہوا تو یہ اس وجہ سے قابو آگیا کہ اس نے الیکشن میں ووٹ خراب کرنے کی کوشش کی تھی. کوئی ساتھ بھی نہ تھا، بھاگ بھی نہیں سکتا تھا، بےچارہ ایک ٹانگ سے معزور تو پہلے ہی تھا، ‘کامیاب گروپ’ نے دوسری ٹانگ بھی توڑ دی. واحد سہارا ‘لاٹھی’ تھی اور اسی سے اس بچارے کا سر بھی پھوڑا، وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ اس نے الیکشن میں سر اٹھانے اور لیڈر بننے کی کوشش کی تھی، مار کھا کرگھر نہیں گیا کہ پریشان ہوں گے، مگر دوسرے دن جب خون میں لت پت تصویر اخبارات میں چھپی تو گھر والے اپنے اکلوتے کو اٹھا کر زمینوں پر لے لگے اور ہمارے دوست نے اس’ ماحول’ میں اپنامستقبل دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگا لئےاور باقی وقت خاموشی سے ہی گزارنے کا فیصلہ کرلیا.
*. یہ تو ایک واقعہ ہے جو ہمارے سامنے ہوا، ایسی کئی داستانیں ہیں، جب کسی نے سر اٹھانے کی کوشش کی اسے سبق سیکھا دیا گیا، بعد میں تو یہاں تک حالات پہنچ گئے تھے کہ ‘ناپسند شخصیت’ کو اٹھا لیا جاتا،’ بے عزتی’ کرتےاور مارتے بھی تھے. جس بےچارے کے ساتھ زیادتی ھوتی وہ اس کا کسی سے زکر بھی نہ کرتا. یہ سب کچھ وہ گروپ کرتا جس کے پاس طاقت تھی.
میں آخر میں نہایت معزرت سے کہوں گا کہ ایسے طلبہء کی حمایت میں بعض ٹیچرز کا کردار بھی قابل افسوس ہوتا تھا کہ بعض طلبہء کا ساتھ دیتے ہوئے وہ اپنے پیشے کی عزت اور وقار کا خیال نہیں رکھتے تھے اور یہاں تک کہ امتحانات میں بھی ان کی مدد کرتے تھے. بعض طلبہء کا رزلٹ دیکھ کر تو حیرانی ہوئی کہ انہوں نے اتنی اچھی پوزیشن (نمبر) کیسے حاصل کی.
یہاں ایک اور افسوسناک بات کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ ایسے طلبہء بھی انتظامیہ کے ساتھ مل کر یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتے تھے، جو کسی طرح بھی تعلیمی معیار اور میرٹ پر پورا نہیں اترتےتھے، وہ کمپارٹمنٹس کیس ہوتے ہیں، مقررہ چانس پر بھی امتحان (سپلیمنٹری پیپرز) پاس نہیں کر سکتے, جس کی وجہ سے وہ صرف Fa /Fsc ہی رہ جاتے ہیں ، مگرکتنا ظلم ہےکہ وہ( 5th year) کا امتحان دے کر فاہنل میں پہنچ جاتے ہیں اور الیکشن میں بھی بھرپور حصہ لیتے ہیں. ہمارے سامنے بھی کچھ ایسے کیس تھے.
🔴.. کون کیسا اور اسے کہاں جانا چاہیے تھا:
🔹معاملہ نازک ہے، اس لئے کھل کر نہیں لکھا جاسکتا، بہت مختصر ہے اور آپ اسے مکمل بھی نہیں کہ سکتے ہیں.
* میرے خیال میں بہت ہی ریزرو ناہلہ عزیز کو ٹیچنگ کا شعبہ آپنانا چاہیے تھا، محنت اور ریسرچ کا جنون تھا، لاہقی’ گھٹی’ میں تھی. اگر کسی تعلیمی ادارے کی سربراہ ہوتی تو سٹوڈنٹس کو تو کیا ٹیچرز کو بھی پتا لگ جاتا کہ ‘اپنی تیاری’ کے ساتھ ساتھ پڑھانے کی بھی تیاری کرنا ہوتی ہے. اصل نمبر ون میڈم ہوتی، ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کی طرح, سٹوڈنٹس چاہیں یا نہ، “لیکچر تو ہر حال میں سننا پڑھے گا”
*. رخسانہ مسعود بہت سمجھدار اور مچور تھی، انہوں نے تعلیم میں زیادہ دلچسپی نہیں لی، قاہددانہ صلاحیتوں کی مالک رخسانہ سیاست میں اپنے جوہر دکھا سکتی تھی، لیکن اس نے اپنے آپ کو ایک حد تک محدود رکھا. یہ کسی بھی شعبے میں داخلہ لے لیتی اسے کوئی فرق نہ پڑتا کیونکہ اس نے جو کام کرنا تھا وہی کیا یہ پکی ‘جماعتن’ تھی
*. اسی طرح نزیر خالد کو بھی اردو لٹریچر لینا چاہیئے تھا اور اپنی عادات و اطوار کے مطابق اس فیلڈ میں وہ بہت کامیاب رہتا چونکہ اسے کسی بھی چیز کی گہرائ میں جانے کا شوق تھا، لہزا کسی بھی موضوع پر ڈاکٹریٹ اس کے لئے بہت بہتر ثابت ھوتا.
*. شبیر جوش کو کسی فلیڈ میں ایگزیکٹو عہدہ لینے کے لئےایم بی اے وغیرہ کرنا چاہیے تھا. محنت کی عادت اور وقت کا صحیح استعمال کرنےوالا آل راؤنڈد کسی بھی شعبہ میں بہت آگے جا سکتاتھا. تاہم آرمی جاہن کرکے اس نے کوئی برا بھی نہیں کیا اور کامیاب لاہف گزاری
*. دوستوں کا دوست حق داد جرنلزم میں کیسے دلچسپی لیتا، اسے اپنے رجحان کے مطابق سیاسیات کی ڈگری لینی چاہیے تھی، لیڈر بننا تھا، ‘سپاہی’ بن گیا اور الٹا نفسیات کی بھی ڈگری لے کر گھر کے اندر اپنے ہی نفسیاتی مسائل میں الجھ کر ایک ‘مکمل ٹیم’ بنا لی. اخبار تو نہیں البتہ ڈاکڑ بیگمات و ڈاکٹرز بچوں کے ساتھ کامیاب ہسپتال چلا سکتاھے.
*. تخلیقی صلاحیتوں کا مالک صفدر ہمدانی اچھا ہوا شروع ہی میں ریڈیو میں چلا گیا، دنیا کے مشرقی و مغربی حصوں میں بسیرا کیا اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں وسعت اختیار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کی مزیز کامیابی کے لئے نئی راہوں کا تعین بھی کیا. تاہم طبیعت کے مطابق جاپان میں زیارہ سلام دعا اورجاپانی زبان نہ جاننےکی وجہ سے کسی سے کھل کرجھگڑا بھی نہ کر سکا اور اب انگلینڈ میں اس وقت تک ہے جب تک انگریز، لاہوری زبان کی وہ باتیں نہیں سمجھتے جو شاہ صاحب انہیں غصے کی حالت میں سناتے ہیں.
*. جاوید علی، قیصرعباس، مشتاق گمٹالوی ، محمدسلیم ، عبدالقیوم ، رحیم یارعباسی اور میں نے خود جو یونیورسٹی میں پڑھا اسے ہی زندگی کا سہارا جانا اور اسی میں اپنے طور پر آگے بڑھنے کی کوشش بھی کرتے رہے . شعبہ صحافت میں داخلہ نہ لیتے تو پھرکہاں جاتے اور کدھر ہوتے، اس کا فیصلہ تو پھر وقت نے ھی کرنا تھا. لیکن یہ طے تھا کہ تعلیم کے بعد رحیم یارعباسی جو کلاس میں تنہا اور اجنبی اجنبی سا رہا نے بہاولپور اور ھمارا دوست قیوم جو خود کو ‘کمانڈو’ سمجھتا تھا نے ہرحال میں مظفرآباد ہی جانا تھا جبکہ مشتاق گمٹالوی کی ہر حال میں کوشش تھی کہ وہ گھر کے قریب شکر گڑھ یا سیالکوٹ ہی میں رہے، ممکن ہو تو’ گاوں’ میں ہی میں کوئی اعلیٰ نوکری مل جائے. اپنے ہی موڈ کا مالک اور سوچوں میں گم جاوید علی بھی راولپنڈی کی دوری برداشت نہیں کر سکتا تھا. اس کے دل و دماغ میں کیا ہوتا ہے یہ کوئی نہیں جان سکتا، لیکن اسے دوسروں کا ‘دل رکھنا’ اور اپنا دل سنبھال کر رکھنے میں کمال حاصل ھے. کسی کو کندھا مار کر آگے نکلنے کی عادت نہیں تھی لہزا اپنے آپ کو ایک دائرہ میں محدود رکھا. قیصر عباس جس کی طبعیت کو جاوید علی کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا، اچھی ملازمت کے لئے کہیں بھی جا سکتا تھا.اس کو آگے بڑھانے اور اپنا راستہ بنانے کا فن آتا تھا، نہایت ہی شریف اور قناعت پسند محمد سلیم جیسے کسی قسم کی فنکاری نہیں آتی تھی کی زندگی میں کوئی شور شرابہ اور ہنگامہ نہ تھا جو ملا اسے غنیمت جانا، لہزا جہاں کسی نے بھیجاخاموشی سے وہیں چلا گیا.
*. ویسے تو کافی ساتھیوں نے بغیر سوچے سمجھے شعبہ میں قدم رکھا تھا مگر یہ سمجھ نہیں آئی کہ روف خان، غلام شبیر، احمد حیات کلیار، خاموش طبہ پرویز عظمت شیخ، شریف النفس جمیل انجم ،کھلا ڈھولا مرحوم سرمد حسن، سنجیدہ مزاح کے حامل خواجہ نسیم نے شعبہ صحافت میں داخلے کا انتخاب کیوں کیا تھا. یہ میں اس وجہ سے کہ رہا ہوں کہ عملی زندگی میں یہ دوست اپنی تعلیمی(صحافتی) صلاحیتوں کا مظاہرہ نہ کر سکے اور مختلف حالات و ضروریات کی وجہ سے انہوں نے دوسرے شعبوں کی طرف رخ کر لیا.
*. ‘پرائے گھر کی مخلوق ‘ بارے میں زیادہ بات کرنا نہیں چاہیے. آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کا ایک حد سے آگے بڑھ کر کسی کا مقابلہ کرنا بہت ہی دشوار ہے. نصف صدی پہلے کیا ہوتا ہو گا، نئی نسل کےلئے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے. ہماری تمام کلاس فیلوز نہایت ہی معزز اور محنت کش گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں، بہرحال حجاب کی ایک حد ضرور تھی. میرے سمیت کئی ساتھی لڑکیوں کو’ باجی’ اور’ بہن’ کہتے تھے کیونکہ ہم جس پس منظر سے تھے وہاں خواتین کو مخاطب کرنے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی مناسب لفظ نہ تھا. ‘دوست’ کا لفظ دو کلاس فیلو کے درمیان ہی خاموشی سے استعمال ہو سکتا تھا، تیسرا اگر سن لیتا تو نہ جانے اس لفظ ( لڑکے اور لڑکی کی) ‘دوستی’ سے کیا مطلب اخذ کرتا، دوستی کے ایسے مناظر اس زمانے میں صرف فلموں میں ہئ نظر آتے تھے.
کلاس کی دیگر لڑکیوں میں سے رفعت، ریڈیو یا ٹی وی پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکتی تھی مگر اس نے بہتر سمجھا اور خاموشی سے شعبہ تعلیم کی طرف راغب ہو گئی، ہمیشہ مسکراتی رہنے والی ٹیبی (شاہدہ تبسم) بھی بہت باصلاحیت اور بولڈ تھی، کسی کی نہیں سنتی تھی اس کے لئے کون سا شعبہ بہتر ہوتا شاہد اسے خود بھی معلوم نہ تھا. اسی طرح فوزیہ نےبھی بہت ھاتھ پاوں مارے اور کچھ نہ کچھ کرتی رہی. صحافت اس کی فلیڈ تھی کہ نہیں مگر یہ زبردستی اس ‘دنیا’ میں داخل ہو گئی اور میرے نزدیک آپنی صلاحیتوں کو ضائع کردیا. اس زمانے میں بولڈ تھی، جب لڑکیاں بات کرنے سے جھجکتی تھیں. عاصمہ بھی بڑی باہمت اور باصلاحیت تھی. کسی کی غلط بات برداشت نہ کرتی، جس کے ساتھ ہوتی اس کا ساتھ دیتی، مگر نہ جانےکیوں دوسروں کو سمجھانے والی عاصمہ خود حالات سے مار کھا گئ، آرام سے تعلیم مکمل کرلیتی تو یقیناً کہیں اعلیٰ مقام پر ھوتی. اسی طرح شیریں فاروقی بھی بہت باصلاحیت تھی، ضرورت سے زائد ایک لفظ کو بھی غیر ضروری سمجھتی تھی. یہ لیکچرار بہت اچھی ثابت ہو سکتی تھی.شریں کی واحد دوست، شاہدہ قمر بھی اپنے مزاج اور رویہ کی وجہ سے لیکچرار اچھی ثابت ھوتی، بہت سمجھدار اور شفیق تھیں، بچوں سے فارغ ہونے کے بعد ٹیچنگ کی طرف راغب ہو گئیں جہاں ایک محدود حلقے میں انہیں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقعہ ملا، وکالت کر لیتی تو وکیل بہت اچھی ثابت ہوتی.صبیحہ بھی شاہدہ کی ہمجولی تھی نہ جانے اس نے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیوں کیا، آرٹسٹک ماہنڈ تھی، کسی سرکاری ملازمت کے لئے بہتر ثابت ہوتی تاہم اس کی دونوں بیٹیوں نے میڈیا کی فیلڈ میں داخل ہو کر ماں کی خواہش کو پورا کردیا. ثمینہ نزیر تو ضرورت کی بھی بات نہ کرتی تھی لہزا ہم بھی اسے کیوں بتاہیں کہ اس کےلئے کون سی فیلڈ بہتر ہوتی. نزہت شیرازی کی بھی صحافت میں کوئی دلچسپی نہ تھی. تعلیم کے دوران ہی گھر میں مناسب رشتہ آیا تو ساتھ ہی گھر بسا لیا. نزہت کی دوست شاہین فرمان ناراض ہو کر آپنے پسندیدہ مضمون فلاسفی کی طرف راغب ہوگئی اور صحافت کی دنیا کو خیر باد کہہ دیا .
افسوس ان طالبات کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہ تھا، جدھر راستہ ملا ادہر چلی گئیں . ہم دوست آج بھی ان سب کا زکر بہت عزت واحترام سے کرتے ہیں. اس وقت ماحول ایسا تھا کہ ہمارے کئ ساتھیوں نے تو کبھی ان میں سے کئی لڑکیوں سےبات بھی نہیں کی ھو گی.
*. لڑکیوں میں سے ایک دفعہ رخسانہ مسعود نے کلاس کو پر تکلف چائے پر گھر بلایا تھا جبکہ زرا ‘کھلے ہاتھ’ والے (خوشحال) لڑکوں میں سے صرف خواجہ سرمد حسن ہی کھلے دل کا مالک تھا، باقی کسی ‘خوشحال’ ساتھی کو’ فضول خرچی ‘ کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا.
جمیل انجم کے بارے میں کیا لکھا جائے، ضرورت سے زیادہ شریف جو کسی نے کہا مان لیا، کوئی حیل وحجت نہیں، خوش قسمت تھا جو قیصر کے بعد سب سے پہلے جاب پہ لگا اور گردن جھکا اور دل لگا کر اپنی زمے دایاں ادا کیں، یہ اس معیار پر پورا اترتا تھا جو پرائیوٹ سیکٹر والے ‘چاہتے ہیں’ لیکن صحافتی دنیا سے دور بہت دور چلا گیا. احمد حیات کلیار بڑی تیزی سے آگے بڑھا، صحیح سرگودھا کا کڑیل جوان لگتا تھا، پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، معلوم نہیں شعبہ میں کیا کرنے آیا تھا اور یہ بھی معلوم نہ ہوا کیوں جلد چھوڑ کر چلا گیا تھا. روف خان جو صرف کلیار سے گپ لگاتا تھا، کچھ عرصہ میرے ساتھ بھی دوستی رہی، یہ بھی بس ویسے ہی شعبہ میں آیا لیکن ایک دو کوششوں میں ‘مراد’ بر آئی اور اپنی متاثر کن پرسنیلٹی کی وجہ سے تعلیم کے میدان میں تو نہیں البتہ گھر بسانے میں کامیاب ہو گیا.فاہنل ائر میں تو کبھی کبھار ہی نظر آتا تھا. سیالکوٹ سے ہمارے دونوں دوست خواجہ سرمد حسن مرحوم اور خواجہ نسیم اصغر بڑی اچھی شخصیت کے مالک تھے. سرمد بڑا ملن ساز اور کھلے دل و دماغ کا مالک تھا جبکہ خواجہ نسیم زرا گہرا آدمی تھا، پہلے سال تو ریزرو رہا مگر بعد میں دوستیاں بڑھیں تو اس کی شخصیت کھل کر سامنے آئی، سرمد کی طرح بغیر سوچے سمجھے جرنلزم میں داخلہ لیا، نوکری کی فکر نہ تھی کہ آپنا کاروبار ہے. سرمد کا بھی صحافت پڑھنے کا کوئی مقصد سامنے نہیں آیا، ہر ایک کا دوست اور مدد کرنے کے لئے تیار لیکن زیارہ سیالکوٹ کے دوستوں میں پھنسا ہوا تھا، سیاست میں اس وجہ سے زیادہ آگے نہ بڑھا کہ زرا ‘سست’ تھا اور غالباً نہ ہی اس کا یہ مقصد تھا لیکن اسکے باوجود شعبہ کا صدر منتخب ہوا اور بڑا کامیاب رہا.یہ واحد ساتھی تھا جس کو جرنلزم کرنے کے بعد سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے، نہ یہاں ملازمت کی اور نہ ہی کہیں باہر آرام سے ٹک سکا جبکہ جواجہ نسیم ایک دفعہ جب ملک سے باہرچلا گیا تو بس پھر پکا ہی چلا گیا.
رحیم یار عباسی صحیح معنوں میں پرانے وقتوں کی طرح اپنے اہل وعیال اور سامان سمیت اعلی تعلیم حاصل کرنے ‘ریاست ‘بہاولپور سے ‘لاہور’ آیا تھا، بڑھی اچھی شخصیت تھی لیکن بہت ہی ریزرو تھا ہمیشہ تنہا اور خاموش ہی نظر آیا، کھبی کسی سے بحث و مباحثہ میں نہ الجھا اور نہ ہی بہاولپور کو چھوڑا، بعد میں جب بھی بہاولپور جانا ہوتا اس سے خوب گپ لگتی. ان تمام ساتھیوں میں اگر مشتاق گمٹالوی کا کر نہ کیا جائے تو تعارف نامکمل رہے گا. اسے بھی اس کے علاقے نے اپنی طرف کھینچ کر رکھا ہوا تھا، اسی لیے اپنے گاؤں کو اپنے نام کا حصہ بنایا ہوا تھا، مجلس کا آدمی تھا اس لئے کھلی گپ لگاتا تھا، لکھ بھی اچھا لیتا تھا لیکن ایک کتاب لکھ کر بس کر دی. کتاب میں حق دوستی ادا کیا اور “چٹکیاں” میں ہر دوست کی چٹکی کاٹی.
Summary of the class,… 72-74
اب آخر میں کلاس فیلوز کے مُستقبل پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں کہ فروری 72ء سے دسمبر 74ء تک کے ساتھیوں نے کہاں کہاں بسیرا کیا.
* پنتیس کی کلاس میں سے 27 طلبہء نے امتحان دیا، تین طلباء اور دو طالبات شروع میں ہی کلاس چھوڑ گئیں. فاہنل میں دو ورکنگ جر نلسٹ نے بھی کلاس جاہن کی.
*. تین پی ٹی وی نیوز میں پروڈیوسر بن گئے.
*. تین ہی نے آرمی جاہن کی.
*. دو ریڈیو میں پروڈیوسر منتخب ھوے.
*. چار پنجاب انفارمیش ڈیپارٹمنٹ میں گئے.
*. اس وقت 5 طالبات اور چار طلباء ملک سے باہر ہیں.
*. ایک تدریس کےشعبہ میں ڈاکٹریٹ( اے آر خالد) تک پنچے جبکہ قیصر عباس نے بھی TV کی ملازمت کےبعد امریکہ میں رہتے ہوئے ڈاکٹریٹ کی.
*. اور سب سے آہم بات کلاس کے چار ساتھیوں نے جرنلزم کی ہی چار طالبات سے شادی کی.
* ایک کلاس فیلو شاہدہ قمرجو شبیر احمد کی اہلیہ تھیں اگست 2018ء میں انتقال کر گئیں، اسی طرح فاہنل کے ساتھی( ورکنگ جرنلسٹ) عبدالنصیرغوری بھی 1979ء میں انتقال کر گئے تھے.جبکہ خواجہ سرمد حسن اور خالد طور گزشتہ سال( 2021ء) ہم سے بچھڑ گئے۔ آللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے.
*. ٹیچرز میں سے ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، پروفیسر وارث میر اور ڈاکٹر مسکین علی حجازی آج ہم میں نہیں ہیں. اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے. آمین

زاہد حسین

SHARE

LEAVE A REPLY