پریس کلب آف پاکستان یوکے کے زیر اہتمام ”ہیٹ کرائمز“ کے حوالے سےسیمنار

0
372

مانچسٹر(پریس ریلیز) پریس کلب آف پاکستان یوکے کے زیر اہتمام ”ہیٹ کرائمز“ کے حوالے سے ایک سیمنار منعقد ہوا جس کی صدارت کونسلر مقدسہ بانو نے کی جبکہ نظامت کے فرائض نصر اللہ خان مغل نے سرانجام دئیے – سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ افضل خان نے پریس کلب آف پاکستان یوکے کی اس کاوش کو سراہا اور واضح کیا کہ یہ وہ معاملے ہیں جن پر کمیونٹی کی راہنمائی کی ضرورت ہے – ہیٹ کرائم برطانیہ میں بہت زیادہ پھیل رہے تھے جس پر حکومت کو نسل پرستی اور فاشزم کے ساتھ ساتھ ہیٹ کرائم کی الگ سے تعریف کرنی پڑی اور اس کے لئے الگ قانون بنا دیاگیا جس میں ہیٹ کرائم کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے – انہوں نے کہاکہ یہ ایک اچھی کاوش ہے کہ ہیٹ کرائم سے کمیونٹی کا خبردار کرنے کے لئے اردو زبان میںپروگرام منعقد کیا گیا ہے – میں امید کرتا ہوں کہ پریس کلب آف پاکستان اور دیگر تنظیمیں اس کام کو جاری رکھیں گی – ‘ قونصلیٹ جنرل آف پاکستان کی فرحت حیدرنے کہا کہ ہیٹ کرائم جہاں کہیں بھی ہوگا ‘ وہاں حکومت پاکستان کی سرکاری پالیسی ہے کہ اس کی مخالفت کی جائے گی – مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے پاکستانی صحافیوں کی ایک تنظیم نےبرطانیہ کی کمیونٹی کو خبردار کرنے کے لئے اس طرح کا سیمینار رکھا – ایسے سیمینارز کے لئے قونصلیٹ آف پاکستان مکمل تعاون کرے گا – مانچسٹر سٹی کونسل کی کابینہ کے رکن کونسلر ربنوازنے واضح کیا کہ انہیں مانچسٹر کونسل کی لیڈرکونسلر بیورلی کریگ نے اپنے نمائندے کے طور پر بھیجا ہے اور وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مانچسٹر میں ہیٹ کرائمز کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے – مانچسٹر سٹی کونسل کی اس حوالے سے واضح پالیسی ہے – ہم ہر ماہ مانچسٹر میں ہونے والے جرائم بشمول ہیٹ کرائمز کی رپورٹ تیار کرتے ہیں جو میڈیا اور عوام کو پیش کر دی جاتی ہے – ہم یہ چاہتے ہیں کہ جہاں سفید فام کمیونٹی کو انگریزی زبان میں ہیٹ کرائم کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیں وہیں اقلیتی کمیونٹیوں کا ان کی زبانوں میں ہیٹ کرائم کے بارے میں خبردار کیا جائے – محترمہ طلعت گل نے اپنے مقالے میں ہیٹ کرائمز کے حوالے سے ایک ڈیٹا بھی پیش کیا اور واضح کیا کہ ہیٹ کرائم کو ختم کرنے کے لئے ساری کمیونٹیوں کو اکٹھا ہو کر کام کرنا ہوگا- ریس ازم اور فاشزم کے علاوہ ہیٹ کرائم پر قانون سازی کر کے برطانوی پارلیمنٹ نے ایک بہت اچھا کام کیا ہے – اب سوال یہ ہے کہ ہیٹ کرائم کی رپورٹنگ کس طرح کی جائے – آج کا یہ سیمینار اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ اس میں شرکاءکو معلومات فراہم کی جارہی ہیں – محبوب الٰہی بٹ نے کہا کہ انہوں نے چند سال پہلے یہ تحریک چلائی تھی کہ ہیٹ کرائمز کے حوالے سے نسلی اقلیتی کمیونٹیوں کے افراد کو کوئی علم نہیں – ان کے خلاف ہیٹ کرائم ہوتے ہیں لیکن انہیں یہ علم نہیں کہ ہیٹ کرائم کیا ہے اور اس کی رپورٹ کہاں کرنی ہے – چنانچہ پریس کلب آف پاکستان یوکے نے کمیونٹی کی بھلائی کے لئے ایک تحریک چلائی اور آج ہم اس قابل ہوئے کہ اس حوالے سے ایک سمینیار منعقد کروا سکیںجس میں مانچسٹر سٹی کونسل نے ہمارے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے- یہ ہمارے کام کی ابتداءہے اور ہم اس حوالے سے مزید بہت بڑے پراجیکٹ بنارہے ہیں – غلام رسول شہزاد نے ہیٹ کرائم کے اعداد وشمار پیش کر کے یہ واضح کیا کہ گذشتہ سالوں میں ہیٹ کرائمز اور دیگر جرائم کی تعداد و تناسب کس قدر رہا – انہوں نے چارٹوں کی مدد سے تمام اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ہیٹ کرائم کے بارے میں پاکستانی کمیونٹی کوبہت سی معلومات درکار ہیں ’ جس کے لئے اس طرح کے سیمینارز کروانے بہت ضروری ہیں – سیمینار سے پرویز مسیح مٹو ‘ اسماءاعظم اور دیگر حاضرین نے بھی اپنی رائے دی جبکہ اسماءاعظم نے اس حوالے سے ایک نظم بھی پیش کی – سیمینار میں گریٹر مانچسٹر پولیس کی نمائندگی پی سی قاسم اور پی سی ہیرسن نے کیا جنہوں نے بتایا کہ وہ گریٹر مانچسٹر پولیس کی طرف سے اس سیمینار کا آﺅٹ کم دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کی مکمل رپورٹ پیش کی جائے گی تاکہ اقلیتی کمیونٹیوں کی گذارشات کو بھی پولیس کے ا داروں کے نوٹس میں لایا جا سکے -سیمینار میں گروپ ڈسکشن کے ذریعے حاضرین کو ہیٹ کرائم پر بحث و تمحیض کا موقع فراہم کیا گیا اوران کی آراءطلب کی گئیں – نصر اللہ خان مغل نے بتایا کہ آج کے سیمینار میں آنے والی آراءاور سوال وجواب کی ایک مفصل رپورٹ تیار کر کے مختلف اداروں اور تنظیموں کو بھیجی جائے گی

SHARE

LEAVE A REPLY