یونیسکو کے زیر اہتمام 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے

0
1087

دنیا بھر میں ہر سال اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے زیر اہتمام 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد نہ صرف ریڈیو کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنا ہے بلکہ لوگوں میں اس کے استعمال کا شعور اجاگر کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ ریڈیو کس طرح مختلف ممالک کے درمیان ثقافتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ریڈیو کا عالمی دن منانے کی ابتداء سن 2012 سے شروع ہوئی تھی حالانکہ ریڈیو کی ایجاد بہت پرانی ہے۔ لفظ ریڈیو، ریڈیائی لہروں سے منسوب ہے۔ ریڈیو ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے ریڈیائی لہروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ریڈیو اٹلی کے سائنس دان اور الیکٹریکل انجینئر گوگلیلمو مارکونی  کی ایجاد ہے۔ آج کے دور میں تقریباً ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے، موبائل فون رکھنے والے بھی یہ نہیں جانتے کہ ان کے پاس یہ جدید ٹیکنالوجی مارکونی کی مرہون منت ہے۔ مارکونی ایک ایسا سائنس دان اور انجینئر تھا۔ 25 اپریل 1874 ء میں اٹلی کے مشہور شہر بولونیا میں پیدا ہونے والے گگلیلمو مارکونی کو کم عمری سے ہی بجلی کے تجربات کرنے کا شوق تھا۔

جب وہ بیس برس کا ہوا تو اس نے سائنس دان ”جیمز کلارک“ کی ایک تحریر پڑھی جس میں جیمز کلارک نے دریافت کردہ وائرلیس لہروں کے بارے میں بتایا تھا۔ اس تحریر کا مارکونی پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے ان لہروں پر تجربات کرنا شروع کر دیے دراصل وہ ریڈیائی لہروں یعنی تار کے بغیر ٹیلی گراف پیغام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے تصور کو حقیقت کا روپ دینا چاہتا تھا۔ جب لوگوں کو اس کے تصور کا علم ہوا تو انھوں نے مارکونی کا تمسخر اڑانا شروع کر دیا لیکن مارکونی مسلسل اپنے تجربات میں مصروف رہا اور بالآخر وہ ہوا کی لہروں پر اپنا پیغام دو میل کے فاصلہ تک پہنچانے میں کامیاب ہو گیا۔

اس کامیابی کے بعد جب مارکونی کو اپنی نئی ایجاد پر اٹلی میں کوئی خاص پذیرائی اور مدد نہ ملی تو وہ لندن چلا گیا اور وہاں اپنے تجربات کو جاری رکھا جو مزید کامیاب ہوتے گئے اور مارکونی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ شہرت ملنے پر اٹلی کی حکومت نے اسے واپس بلوا لیا، مارکونی اپنے وطن واپس آ گیا اور حکومت کے تعاون سے وہاں ریڈیائی لہروں کا ایک اسٹیشن قائم کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں اس اسٹیشن کے ذریعے بحری جہازوں کا پیغامات بھیجے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

1897 ء میں مارکونی نے سمندر پار پہلا وائرلیس پیغام بھیجا۔ مارکونی نے مزید تجربات کر کے ریڈیائی لہروں کے ذریعے پیغامات بھیجنے کا فاصلہ بڑھانا شروع کر دیا۔ سن 1901 ء میں مارکونی نے پہلا ٹرانزلانٹک ریڈیو سگنل نشر کیا اور وائرلیس پیغام بحر اوقیانوس سے پار انگلستان سے کینیڈا بھیجنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے ریڈیائی سگنلز نے سمندری سفر کی تنہائی کو ختم کر دیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ مارکونی کے وائرلیس پیغام کی بدولت ٹائی ٹینک کے زندہ بچ جانے والے مسافروں کو ریسکیو کرنے میں مدد ملی تھی۔ اس نئی ایجاد پر مارکونی کو 1915ء میں نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ مارکونی کی ایجاد کی باقاعدہ شکل 1922 ء میں سامنے آئی جب انگلینڈ میں ریڈیو براڈ کاسٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ مارکونی کی تحقیق اور تجربات سے ثابت ہوا کہ وائر لیس کمیونیکیشن بھی ممکن ہے۔ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ جب 20 جولائی 1937 ء کو اٹلی کے شہر روم میں نوبل انعام یافتہ سائنس دان گوگلیلمو مارکونی کی وفات ہوئی تو اس کے انتقال کی خبر اسی کے ایجاد کردہ ریڈیو پر دنیا بھر میں سنی گئی۔

موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی ریڈیو کی افادیت کم ہونے کی بجائے مزید بڑھی ہے۔ عالمی جنگوں سے لے کر عالمی وباؤں تک ریڈیو نے نا قابل فراموش کردار ادا کیا ہے خصوصاً موجودہ عالمی وبا کورونا کے دور میں ریڈیو کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک نے دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ریڈیو کے ذریعے کورونا سے متعلق معلومات اور رہنمائی فراہم کی۔ پاکستان میں ایسے علاقے جہاں کسی اور میڈیا کی رسائی ممکن نہیں تھی وہاں ریڈیو پاکستان کے ذریعے لوگوں کو نہ صرف کورونا سے متعلق اپ ڈیٹ کیا جاتا رہا بلکہ طلباء کو تعلیم دی جاتی رہی اور صحت سے متعلق رہنمائی اور معلومات بھی بہم پہنچائی جاتی رہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY