افسانہ ؛ خواہشوں کا سفر ۔؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

1
1210

انسانوں کی کتنی ساری خواہشیں رازوں کی طرح ان کے اندر ہلچل مچائے رکھتی ہیں۔ جو نہ تو کسی سے کہی جا سکتی ہیں اور نا ہی ان خواہشوں سے رُکا جا سکتاہے۔
کسی کو بہت سارے شہروں میں کوئی شہر سب سے اچھا لگتاہے۔۔
کسی کو بہت سارے چہروں میں کوئی ایک چہرہ عزیز ہو تا ہے ۔۔
کوئی بہت سارے لمحوں میں کوئی ایک لمحہ بھی نہیں بھولتا۔۔۔
کبھی کسی کے ساتھ بہت سارے غموں میں سے کوئی ایک غم کسی راز کی طرح ۔۔۔ چھپی ھوئی خواہش جیسا ہر وقت ساتھ رہتا ھے …ایسے ہی بہت سارے شہروں میں لندن میرا پسندیدہ شہر تھا۔
بہت سارے چہروں میں سلیم بھائی کا چہرہ تھا جو مجھے کبھی نہیں بھولتا تھا۔ بہت سارے لمحوں میں وہ تنہا کر دینے والا لمحہ کبھی نہ بھولتا تھا۔۔۔ بہت سارے غموں میں سلیم بھائی کے بچھڑ جانے کا غم مجھے برباد رکھتا تھا لیکن یہ سب کچھ ایسا تھا جس کی فقط میں خود اپنی راز دار تھی۔ ’’ کاش ‘‘ کا خواہش سے رشتہ جتنا مضبوط تھا۔۔ اتنا ہی میرا ان یادوں کے ساتھ تھا۔

ماں جی جب جنت نصیب ہوئی تھیں تو ان کی عمر چالیس برس تھی۔ سلیم بھائی جواُن کے اکلوتے بیٹے تھے‘ مشکل سے بائیس برس کے تھے۔ میں بیس بر س کی اور ہم سب سے چھوٹی رانی دس برس کی تھی۔ اس وقت ابا جان لندن میں ہوا کرتے تھے اور ہم سب گلبرگ لاہور میں ایک عمدہ سے گھر میں سلیقے سے رہا کرتے تھے۔ ڈاکٹر قریشی نے بتایا تھا کہ ماں جی کو کینسر ہو گیا تھا لیکن نانی ماں کہا کرتی تھیں کہ انہیں تنہائی کینسر ہوا تھا جو بالآ خر انہیں لے کر ی ٹلا ۔۔ مجھے وہم سا ہو چلا ہے جس طرح کینسر جین میں آتا ہے اسی طرح تنہائی اور تنہائی پسند ہونا بھی جینز میں ٹرانسفر ہوتا ہے ۔ اسی لیئے ماں جی کی تنہائی کچھ کچھ مجھ میں ٹرانسفر ہو گئی تھی۔ میں ہنگامہ پسند نہیں تھی بس گیت غزلیں سن لیتی تھی۔ رانی کی دیکھ بھال اور اسے بہلانے کے لیے میں ماں جی جیسی بن جایا کرتی تھی۔ یوں میں ایک دن میں ایک عمر جی لیا کرتی تھی پر سلیم بھائی کی چُپ کے قُفل نہ ٹوٹتے تھے ، بس انہیں اکنامکس کی کتابوں اور اخبار کے علاوہ کچھ نا دیکھائی دیتا تھا لیکن بڑا ہونے کے ناطے وہ گھر بھر کا ایک حوالہ تھے۔

میں اُن کی چپ میں کبھی ماں کا چہرہ تو کبھی باپ کی شفقت ڈھونڈا کرتی لیکن مجھے کبھی ان میں ان جیسی ’’گرمی‘‘ نا ملی ۔ ایک دفعہ گرمیوں میں شام ڈھلے میں صحن دھونے میں مگن تھی۔ نانی ماں باورچی خانے میں چائے بنارہی تھیں۔ رانی ٹی وی پروگراموں میں گم تھی۔ مجھے کام کرنے کے دوران ریڈیو سننا بہت اچھا لگتا تھا۔ جو صبح ریڈیو سیلون سے شروع ہوتا تو شام چار بجے تک سارے اسٹیشن باری باری سنا کرتی۔ ریڈیو بھی اللہ بخشے ماں جی نے میرے ہی واسطے لیا تھا یا شاید اپنی تنہائی کے کینسر کا علاج کیا ہو ۔ حالانکہ ان کے کینسر کا مسیحا تو بابا جان تھے۔ ان کے وجودکی موجودگی ‘ ان کی باتوں کی خوشبو ‘ ان کے لمس کی تازگی ‘ کچھ بھی تو ان کے حصے نا آ یا تھا اور جو آیا تو بس پاؤنڈ آئے جو روپوں میں بدلتے تو لاکھوں ہو جاتے لیکن ان لاکھوں سے ماں جی کی تنہائی کا کوئی نسخہ نہ ملتا۔ سووہ مٹی سے خاک ہو گئیں اور باباجان پھر بھی لندن کے بنک ہی بنے رہے ۔ سو ریڈیو ، ٹی وی کا ہمارے گھر ہونا کون سی بڑی بات تھی۔ میں ریڈیو پروگرام کے ساتھ ساتھ اپنے خیالوں میں بھی مگن تھی کہ اچانک سلیم بھائی آئے اور ریڈیو اُٹھا کر اندر لے گئے اور اپنی پسند کے اسٹیشن بدل بدل کر سننے لگے ۔۔ پھر نانی ماں کو بلا کر کہا کہ ’’یہ ریڈیو میرا ہے ۔ گڈی سے کہیں کہ اسے ہاتھ نہ لگایا کرے۔“ ان کے لہجے میں سرد سی اجنبیت مجھے چونکا گئی ۔ میں صحن میں کھڑی رہ گئی۔۔۔ میں سوچ رہی تھی کہ شہزادوں جیسی آ ن بان رکھنے والے سلیم بھائی کا دل بھی شہزادوں کی طرح تنگ ہی نکلا ۔ اس دن میں نے خو د کو بڑی خاموشی کے ساتھ ان سے علیحدہ کر لیا ۔ ان کے وجود سے جڑا میرا ہر خواب ادھورہ گیا ۔ سلیم بھائی کی بے اعتنائی اور بے حسی کاخلا میری زندگی پر چھا گیا۔ دن رات سوچا کرتی “ کیا تھا اگر وہ مجھ سے پوچھ کر پوچھ کر ریڈیو لے جاتے یا اسٹیشن بدل لیتے ۔۔ پھر یہ بھی سوچتی اگر وہ اس دن ریڈیو نہ بھی سنتے توکیا قیامت آجاتی۔ چلو اگر بے خیالی میں اٹھا کر لے ہی گئے تھے تو نانی ماں سے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ ریڈیو ان کا ہے اور گڈی اسے ہاتھ نہ لگائے ۔۔ پھر یہ بھی سوچتی کاش میں یہ ریڈیو نہ سن رہی ہوتی تو شاید سلیم بھائی کی بے حسی پر پردہ پڑا رہتا اور ہم دونوں بہنیں بہلی رہتیں ۔

ہم دونوں بہنوں کا خیال تھا کہ انہیں یہ سرد مہری بابا جان سے ورثے میں ملی تھی، جنہیں ہم سب کی فکر تھی مگر ہمارے ساتھ رہنے کا انہیں شوق نا تھا ۔ جانے یہ دونوں تنہائی پسند تھے کہ محبت کرنے سے ڈرتے تھے ۔۔۔دونوں ہی نا ہمیں اپنے پاس آنے دیتے اور ناہی خود ہمارے پاس آ تے ۔ نانی ماں اکثر کہا کرتیں “ جب تمہاری ماں زندہ تھیں تو تمہار بابا اتنی ہی بار آ ئے جتنے تم بہن بھائی ہو “ ۔ لندن میں بھی وہ اکیلے رہتے تھے۔ دوسری شادی تو چھوڑ کوئی دوست وغیرہ بھی نہیں تھے۔ بس کام سے کام ۔

یہ جاننے کے لئے بھلا ایک تنہا شخص کواپنی تنہائی کو زندہ رکھنے کے لیے کتنے کام کرنے پڑتے ہوں گے۔کتنی مضروفیت ہوتی ہوگی ؟ بچپن ہی سے ہی لند ن جان میرا خواب بن گیا تھا۔ ویسے بھی پرُاسرار انسان ہمیشہ مقبو ل رازوں کی طرح سب کوہی مزہ دیتے ہیں ‘ سو وہ خاندان کا“ فیورٹ ٹاپک “ تھے جو کسی نا کسی حوالے سے زیر موضع رہتے ۔ میری طرح سب بے خبر رہے کہ سلیم بھائی کا بھی یہی خواب تھا جو بیٹھے بٹھا ئے لندن جانے کا نا صرف سوچا بلکہ عمل بھی کر لیا اور جانے کا دن تاریخ بتا کر ہم سب حیران وپریشان کر دیا۔
’’گڈُ ی اور رانی کا کیا ہو گا بیٹا!‘‘نانی ماں کا لہجہ آ زردہ ہو رہا تھا اور میں اپنے کمرے سے صحن میں ہونے والی دل گرفتہ بحث سن سکتی تھی۔
’’میں کیا کر سکتا ہوں ۔‘‘ کم گوئی اور سرد لہجے میں بڑا فرق ہوتا ہے پر سلیم بھائی نے یہ کہتے ہوئے دونوں فرق مٹا ڈالے تھے ۔۔ وہ کہتے ہوئے سر د بھی تھے اور اختصار سے کام لے کر اجنبی بھی ۔
’’ بیٹے تم ان کے بڑے بھائی باپ کی جگہ ہو ۔۔ ان کی آس ہو ۔۔۔ !میں اکیلی جوان لڑکیوں کے ساتھ ۔۔۔!‘‘ نانی ماں نے دانستہ آگے کچھ نہ کہا ہو گا یا پھر ان کا آنسوؤں سے بھیگا ہوا لہجہ آ گے نہ چل پایا ہو گا یا پھر اپنی خودداری کو مزید رُسوا نہ کیا ہو گا۔ بقول ان کے خونی رشتوں کے آگے احتجاج رسوا کر دیتا ہے۔ وہ ساری رات نانی ماں نے کروٹیں بدلتے گزاری تھی۔ میں خود بظاہر سورہی تھی مگر ان کی ہر کروٹ پر سینکڑوں آ نسوؤں کی بارش میں بھیگتی رہی تھی۔ ہر طر ف خاموشی تھی۔ ویرانی تھی۔ بے حسی ، غیریت ، اجنبیت کی اداسی تھی۔ اس موسم میں سلیم بھائی میرے خوابوں کے شہر لندن کے لیے اُڑ گئے لیکن وہ ابا جان کے بازوؤں میں نہیں گرے بلکہ اپنے دوست کے پاس رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے جانے کے بعد دو فون آئے تھے۔ ایک سلیم بھائی کے خیریت سے پہنچ جانے کا ‘ دوسرا ابا ّ جان کا کہ ڈرنے کی ضرروت نہیں ہے۔ آ رام سے رہو میں زیادہ پیسے بھجوا دو ں گا۔ نانی ماں کی نوکری میں چوکی داری بھی شامل ہو گئی تھی ‘ سوپگار بھی بڑھا دی گئی تھی ۔

اس ساری کہانی میں نانی اماں کا کیا قصو ر تھا۔ جو جوان بیٹی کی لاش روزانہ اٹھاتی تھیں اور دفنا دیتی تھیں۔ میری اور رانی کی صورت جب دیکھتیں ایسا ہی کرتی ہوں گی۔ اپنی مری ہوئی اکلوتی بیٹی کے رشتے سے جڑا ہر رشتہ نبا ہتے نباہتے کہا ں تک پہنچ گئی تھیں ۔ وہ ہر وقت کسی نا کسی کام میں مشغول رہتیں ۔ سینا پرونا ‘ کڑھائی کروشیا ‘ سویٹرسلائی ‘ کھانا پکانا غرض ہر کام میں سلیقہ رکھتی تھیں ۔ انہوں نے ہم دونوں میں بھی کوٹ کوٹ کر سب کچھ بھر دیا تھا۔ میں کبھی جزبز ہو تی تو ہمیشہ کہتیں ۔ ’’ ہنر اور حسنِ سلوک کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ سر شام ہم لوگ دروازوں پر تالے ڈال کر خود کو اللہ کے حوالے کر کے ایک کمرے میں جمع ہوجاتے۔ بڑے سے پلنگ پر بیچ میں رانی سوتی تھی۔ دائیں طرف نانی اماں جو دروازے کے قریب جگہ تھی۔ بائیں طرف میں سوتی تھی ‘ میری جگہ کے ساتھ ہی ٹیبل تھا۔ جس پر نیشنل کا وہی ریڈیو رکھا ہوا تھا۔ جس نے پہلی دفعہ مجھے سلیم بھائی سے ذہنی طور پر علیحدہ کر دیا تھااور دلی طور پر قریب اور رنجیدہ تر۔ جب جب میں اسے دیکھتی ‘ سب کچھ یا د آ جاتا بلکہ بار بار آتا۔

سلیم بھائی کو گئے دس برس ہونے کو آئے تھے۔ لیکن تاحال کوئی پتہ وغیرہ ہمیں نہ مل سکا تھا البتہ ہر مہینے باباجان کے فو ن اور پیسو ں سے پتہ چلتا کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے ایم بی اے کر لیا تھا اور پھر شادی کر کے ہمیشہ کے لیے کینیڈا شفٹ ہو گئے تھے۔ شادی میں باباجان شریک نہیں ہوئے تھے اور نا ہی انہوں نے بلایا تھا ۔۔ اور جب کئی ماہ بعد ملنے آئے تو بتایا کہ وہ ایک بہت اچھی آفر پر کینیڈا جارہے ہیں۔
یہ خبر ہم تینوں کو ہلا گئی تھی مگر بابا جان نے اتنے سکون سے سنائی جیسے کسی جاننے والے کی اطلاع دے رہے ہیں۔

میرے لندن جانے کے خوابوں میں ایک اور خواب آملا کہ کاش ‘ میں سلیم بھائی کوایک بار دیکھ سکو ں ۔ شاید اب وہ بے حس رہنا بھول گئے ہوں اور ہمیں یاد کرتے ہوں۔ میرا ان کو دن رات یاد کرنا ایک روگ کی طرح تھا۔ ان سے کوئی گلہ کئے بغیر میں انہیں اپنی عدالت میں بری کر چکی تھی اور ان کے لیے سراپا دعا بن گئی تھی۔ نانی ماں مجھے ہمیشہ سمجھایا کرتیں کہ ’’سجن او جیڑا کنڈ پہچانے۔ ‘‘ یعنی اپنا وہ ہوتا ہے جو خبر گیر ہوتا ہے ۔ سلیم بھائی تو کبھی بھی خبر گیر نہیں تھے اور ناہی ان کی کوئی رائے ہوتی تھی۔ بس حکم ہی ہوتے تھے کہ یہ ہونا ہے ، یہ نہیں ہونا ہے، یہ آئے گا‘ یہ نہیں آئے گا۔یہ کھانا پکے تھا‘ اور یہ نہیں ۔ ان کی موجودگی میں ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیئے تھا جو وہ پسند نہیں کرتے تھے ۔ انہیں صرف اپنی ذات اور خواہشوں سے مطلب تھا۔ ماں جی دل برداشتہ ہو جاتی تھیں ۔ انہیں ان کی دعاؤں کی حدت ، بہنوں کی خاموش محبت اور نانی ماں کی سر زنش بھی نہیں پگھلا سکی تھی۔ پر میں اب بھی ایک یقین کے ساتھ اپنی امید کی زمین پر مضبوطی کے ساتھ کھڑی تھی ۔ میں آخری سانس تک سلیم بھائی کا انتظار کر سکتی تھی ۔ وہ گھر نہ ہونے کے باوجودہر وقت گھر میں سانس لیتے محسوس ہوتے تھے ۔۔چلتے پھرتے دیکھائی دیتے تھے ۔۔ کچھ کہتے ہوئے ہوئے سنائی دیتے تھے ۔ کبھی میں سوچتی کہ اگر سلیم بھائی دلداری سے لے کر خبرداری تک کے ہنر سے واقف ہوتے تو شایدماں جی کو کینسرنہ ہوتا اور نہ میں ذود رنج ہوتی۔

میں شاید پوری حیات زود رنج ہی رہتی جو رحمان میری زندگی میں نہیں آتے ۔ رحمان نانی اماں کی پسند تھے۔ پڑھے لکھے۔۔۔ سرکاری عہدے دار ۔ بابا جان لندن سے آئے اور مجھے ان کے حوالے کر گئے لیکن سلیم بھائی نہیں آئے تھے حالانکہ بابا جان نے انہیں اطلاع کی تھی ۔ کتنی بار فون بھا گ بھاگ کر اٹھایا تھا ۔ پوسٹ مین کا راستہ دیکھتی رہی تھی مگر جس طرح میرے تعلق کی کوئی حد نہ تھی اسی برح سے سلیم بھائی کی لا تعلقی کی بھی کوئی سرحد نہ تھی۔
’’ مر و یا جیو اُن کی بلا سے ۔ ‘‘رانی نے ایک دن غصے میں سب کے سامنے کہہ دیا جو میں صرف دل ہی دل میں کہا کرتی تھی۔
’’ بری بات رانی ۔۔ غصہ تو بزدل کیاکرتے ہیں ۔‘‘رحمان نے رانی کے سرپر ہاتھ رکھتے ہوئے ہم سب کو چونکا دیا ۔ وہ بڑی سہولت سے کہہ رہے تھے “ نانی ماں میں مانتا ہوں سلیم بھائی کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا پر خدا جانے وہ کس حال میں ہوں ۔۔ ہوسکتا ہے وہ شرمندہ ہوں اور۔۔ رحمان جانے اور کیا کیا دلائل دے رہے تھے پر وہ سن ہی کون رہا تھا ۔۔ بس ایک سکون سا ہو گیا تھا ۔۔ رحمان ہمارے گھرکا وہ پہلا فرد بن گئے تھے جن کے محور پر ہم تین عورتیں گھوم رہی تھیں اور انہوں نے کسی کو بھی مایوس نہ کیا۔
نانی ماں کا بیٹا بن کر۔۔۔
رانی کے بھائی بن کر۔۔۔۔
میری پناہ گاہ بن کر ۔۔ میں بہت خوش تھی کہ بر فیلی ہواؤں کی زد میں بھی رہ کر ہرا بھرا درخت میرا تھا ۔۔ صرف میرا۔۔۔!!
’’ کیا سوچتی رہتی ہو؟‘‘ رحمان نے انتہائی محبت سے میرے سرپر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔
’’نانی ماں اور رانی گھر میں اکیلی ، بابا جان لندن میں تنہا اور سلیم بھائی کینیڈ امیں الگ ‘‘
’’ اور تم میرے ساتھ تنہا ‘‘ انہوں نے میری بات مکمل کر دی ۔۔
خدا نا کرے ۔۔ میں آ پ کے ساتھ ہوتی ہوں تو دنیا میں رہتی ہوں ۔۔۔ سوچ رہی تھی رانی کی شادی کے بعد نانی ماں کا کیا ہو گا۔‘‘ میری آنکھوں کی نمی بھلا ان سے کیسے چھپ سکتی تھی ۔۔ بے اختیار بولے
’’ہوگا ؟‘‘ سے کیا مطلب ۔۔ نانی ماں ہمارے ساتھ رہیں گی‘ ہماری اماں بن کر۔‘‘ رحمان نے جیسے میرے مسائل اپنی پلکوں سے چن لیے تھے۔ میرا بس چلتا تو رُواں رُواں اپنے مہربان کے قدموں میں ڈال دیتی۔ رحمان ایک تناور درخت کی طرح خود دھوپ میں رہ کر سب کو دھوپ اوربارش سے بچانے والا انسان تھے ۔ آدمی کا یہ روپ میری ماں کی آنکھوں میں بسا رہتا تھا۔ لیکن حسر ت ان کانصیب بنی رہی ۔ پھر ایسا ہی روپ میری نانی ماں کی آنکھوں میں ‘سلیم بھائی کے لیے ابھرالیکن حسرت نے گھر کی چوکھٹ نہ چھوڑی۔۔۔ پر رحمان نے مجھے حسرت سے بچا لیا تھا۔ پھر بھی رات کے کسی نہ کسی پہر سب کچھ یاد آتا۔
ادھورا گھر ۔۔۔
ادھورا بچپن ۔۔۔
ادھوری محبتیں ۔ ۔۔
جب اتنا کچھ ادھورا رہ جائے تو پورا ہوتے ہوتے عمر بیت جاتی ہے۔ شاید سب کچھ اچھا ہی رہتا جو نانی ماں فوت نہ ہو جاتیں ۔ چند دنوں کی بیماری یہ رنگ لائے گی‘ کسے خبر تھی۔ یوں لگ رہا تھا‘ جیسے ماں اب گئی ہو۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ ’ماں تو چوکیدار ہوتی ہے‘ سو ہمارا چوکیدار چلا گیا۔ یوں لگ رہا تھا‘ جیسے گھر کے بند دروازے کھلے رہ گئے ہوں۔ ان کی باتیں ‘ حکمتیں ‘ محبتیں ‘ قربانیاں کتنا کچھ یاد کرنے کو ۔۔ دہرانے کو رہ گیا تھا۔ اس دفعہ باباجان آ ئے تو رانی کو اپنے ساتھ لندن لے گئے۔ جب ان کا جہاز اُڑا تو ایک لمحے کو یوں لگا جیسے بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی ہوں ۔ کتنے دنوں تک تومجھے ہوش ہی نہ آیا تھا۔ ہمارا گھرانہ دھوپ بارش کی طرح اپنی اپنی جگہ بس رہا تھا ۔ بس بے قراری کو کہیں قرار نہ تھا۔ کچھ مہینے اور گزرے تو میں اسامہ کی ماں بن گئی ۔ ایک نیا تجربہ ۔ ایک نئے خواب نے مجھے چونکا دیا ۔۔ میں بہلنے لگ گئی۔

کام صبح سے شروع ہوتے تو رات پر ختم ہو تے بلکہ ختم کرنے پڑتے ۔ رانی کے خط سے پتا چلا کہ وکالت کے لیے اس نے مختلف یونیورسٹیوں میں اپلائی کر دیاہے۔ اور احتیاطاً کینیڈا میں بھی درخواست جمع کروائی ہے ۔ باباجان کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ ہو بہو سلیم بھائی جیسے ہیں۔ اس لیے مجھے ان کی پرُ اسرار سرگرمیوں سے زیادہ اپنے کیریئر کی فکر ہے۔
’’ دیکھا تم نے ‘ رانی نے جینا سیکھ لیا ہے۔ تم بھی کچھ سیکھ لو ۔‘‘ رحمان نے میرا دھیان اس طرف لگاتے ہوئے کہا۔
’’ سیکھنا کیسا اُس کو لندن کی ہوا لگ گئی ہے۔۔۔ ویسے بابا جان کے ساتھ رہ کر اور سیکھنا بھی کیا تھا۔‘‘ میں دل ہی دل میں اداس ہوگئی تھی۔ جانے اپنی بہن کی دوری پر یا پھر اپنی اس نئی تنہائی پر یاپھر رانی کی بے پروائی پر ۔۔
’’ چھوڑ دو سب کو ان کے حال پر ۔۔ تم بس اپنے گھر اور بچوں کی فکر کیا کرو ‘‘ رحمان کی بات پر میں حیران رہی گئی ، جانے کیسے تہہ در تہہ مجھ تک پہنچ جاتے تھے۔
’’ جی کوشش کروں گی‘‘ میں رو رہی تھی اپنے ادھورے پن پر جس نے مجھے کبھی آزاد نہ رہنے دیا تھا۔۔۔ شوخی سے اڑنے نہ دیا تھا۔۔۔ کھل کر ہنسنے نہ دیا تھا۔ ۔۔وہ سارا وقت جس پررحمان اور اسامہ کا حق تھا‘ وہ لے لیا تھا۔ میں سب کچھ جھٹک کر گھر داری میں مصروف ہو گئی ۔۔
کافی دنوں بعد رانی کا فون آ یا اور اس نے بتا یا کہ اسے کینیڈا میں وکالت میں داخلہ مل گیا ہے اور وہ رہنے کے لئے ہوسٹل جا رہی ہے۔
’’ او ر بابا جان کا کیا ہو گا؟‘‘ میں نے فکرمندی سے پو چھا۔
’’ وہی جو پہلے ہوتا ہوگا۔ ‘‘اس کی لا پروائی پر میں رات رات بھر انگاروں پر رہی ۔ باپ کی خدمت کا خواب جو دن رات میری آنکھوں میں منڈلاتا رہتا تھا، وہ رانی کی قسمت ٹھہرا تھا مگر وہ قدر نہ کر سکی اور شاید یہ میرے باپ کے لیے خدا کی طرف سے سزا تھی جو انہوں نے ماں جی سے بلا وجہ بے اعتنائی برتی تھی۔ ان کی وفا‘ حیا ‘کسی کی بھی تو قد ر نہ کی تھی بلکہ ساری عمر ہر رشتے کو پیسے سے تولتے رہے تھے ۔۔ بیٹی اور بیٹے والے ہوتے ہوئے بھی تنہائی کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ۔۔ یا ایسا صرف مجھے ہی لگ رہا تھا کہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹتے کاٹتے لہولہان ہوتے ہوں گے مگرکہہ نہیں پاتے ہونگے ۔۔۔ جو کچھ بھی تھا پر ابا جان اب بوڑھے ہو چکے تھے ۔۔ سنا ہے کہ باہر کے ملکوں میں نوکر رکھنا بہت مہنگا پڑتا ہے ۔۔ ہائے کیسے کرتے ہونگے گھر اور باہر کے سارے کام ، سوچ سوچ کر آنکھیں بھیگ جاتیں ‘ تصور ختم نہ ہوتے تھے ۔ نوالے اٹک اٹک کر اُترتے تھے لیکن میرے پاگل پن کا علاج کہیں نہ تھا۔ ۔۔ ہاں اب میں اداکاری کرتے کرتے کریکٹر ایکٹر ہو گئی تھی۔ رحمان کو شبہ ہوتا نہ اسامہ کو۔ سب مگن ‘سبھی خوش تھے۔

رانی کے خط سے پتہ لگا کہ سلیم بھائی اس سے ملنے آتے ہیں اور خاموشی سے جس جگہ بیٹھتے ہیں وہیں سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔نا کچھ کہتے ہیں۔۔ نا کچھ پوچھتے ہیں بس چُپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں ۔ وہ ان کے آ نے سے ڈسٹرب ہو جاتی ہے اس لیے بہانہ بنا کر اکثر انہیں ٹال دیتی ہے ۔ یہ سب پڑھ کر میں بہت روئی تھی۔ یہ رانی کا مزاج کب سے ایسا بے حس ہو گیاتھا۔ اپنے پرائے کا فرق ہی بھول گیا ۔ پھر نصیحتوں سے بھرا پانچ صفحات کا خط اسے بھیج ڈالا ۔۔ میں نے اسے وہ سب کچھ کرنے کو لکھا تھا جو مجھے اپنے بھائی کے لئے کرنے کی حسرت تھی ۔۔ خواہش تھی۔ ۔۔ خدمت ، جاں نثار ی ، بے لوث پیارمیرے اندر سرتا پیر بہتا تھا اور میرا باپ اکیلا ‘ میرا بھائی تنہا تھا اور میری بہن جس کو شاید ہم سب نے مل کر بے حس بنا ڈالا تھا کتنے مزے سے رہ رہی تھی۔ خود سے کئی بار پوچھ بیٹھی ہوں کیا واقعی رانی خوش اور مگن ہے یا خود کو سزادے رہی ہے ۔۔ میں فیصلہ نہ کر پائی تھی!

سلیم بھائی کو دیکھے مجھے تیس برس سے بھی زیادہ ہو چکے تھے لیکن وہ روزاول کی طرح مجھے ازبر تھے ۔ چھ فٹ تین انچ قد۔ چھریرا بدن ۔ سلیقے سے بنے مال۔ جب وہ سفید کرتا پاجامہ پہن کر نکلتے تو ماشاء اللہ کہنا پڑتا ۔ وہ اپنے حسن سے لاپرواہ ہوکر بھی بے حد و جیہہ اور شکیل تھے۔ جانے اب کیسے ہو گئے ہوں گے۔ یقینا گریس فل سے ہوں گے۔ بال سفید ہو چکے ہوں گے یا کھچڑی پک رہی ہو گی لیکن پھر بھی اچھے لگتے ہوں گے۔ ان کے ہاں بچے نہیں ہوئے‘ کبھی کبھی غم ہوتا ہوگا۔۔۔ بیوی کوبھی بہلاتے ہوں گے۔۔۔ یار دوست بھی اپنے اتنے پیارے اور ذہین دوست کی دوستی پر نازاں ہوتے ہوں گے۔ کبھی تو انہیں نانی ماں ‘ ماں جی اورمیری یاد آ تی ہوں گی۔۔۔ دل تو کرتا ہو گا مجھ سے ملنے کو۔۔۔ خاندان کے واحد بچے اسامہ کو دیکھنے کی خواہش بھی ہوتی ہو گی۔۔۔ جو ہو بہو اُن کے نقش اور قد لے کر آیا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا جیسے سلیم بھائی اپنی نوجوانی میں گھوم رہے ہوں ۔ زندگی کو جیسے پر لگ گئے تھے۔ وقت تیزی سے بدل رہا تھا لیکن میں پہروں ‘ گھنٹوں اپنی اسی دنیا میں گھومتی پھرتی ۔ روز صبح ہوتی اور یونہی تانے بانے بُنتے شام ہو جاتی اور یونہی رات بھی گزر جاتی ۔

یادوں کو جیسے میرے ساتھ رہنے کی عادت سی ہو گئی تھی ۔ ایک جیسے دن رات تھے پر ایک دن رانی کا فون بڑا بے وقت آگیا ۔
’’ خیر تو ہے نا !‘‘ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
’’ہاں ‘ سلیم بھائی آپ کے پاس رہنے آ رہے ہیں۔ ‘‘
’’ کیا! ‘‘ مجھ پر ایسی کیفیت تھی کہ اگر رحمان مجھے تھام نہ لیتے تو میں شاید گر جاتی۔
’’ آج یہاں سے روانہ ہو رہے ہیں۔‘‘
’’ میری بات کرواؤ بھائی سے ۔‘‘ میرا اشتیاق قابل دید تھا۔
’’اب ان سے کوئی بات نہیں کر سکتا گڈی باجی!‘‘ رانی کی سسکیاں مجھے وہ سب کچھ بتا رہی تھیں جو میں خواب میں بھی سننا نہیں چاہتی تھی۔ بتیس برس بعد میرا بھائی گھر آ ئے گا۔ جسے میں صرف دیکھ سکوں گی ۔ وہ نا مجھ سے کچھ کہے گااور نہ میں اسے بتا پاؤنگی ۔۔ ہائے وہ وہ شیشے کے گھر میں ہو گا اور میں اسے چھو بھی نہ سکو ں گی ۔۔۔ اس کے جسم اور منہ پر کیمیکل ہو ں گے اور میں ان کے ماتھے اور ہاتھوں پر بوسہ بھی نا دے پاؤں گی ۔۔۔ کیمیکل جو سلیم بھائی نے اپنے جسم پر صرف میرے لیے لگوائے تھے کہ وہ اپنا آخری سفر میرے سامنے کر نا چاہتے تھے ۔
’’کیوں کی ایسی خواہش انہوں نے ؟‘‘ میں سکتے میں تھی۔۔۔

رحمان مجھے کندھے سے لگائے آ ہستہ آہستہ بتا رہے تھے کہ سلیم بھائی نے میرا پانچ صفحوں کا وہ خط جو رانی کو لکھا تھا ۔۔ وہ رانی نے انہیں پکڑا دیا تھا ، جسے پڑھ کر وہ بہت روئے تھے اور پھر اکثر روتے رہتے تھے۔ بالآ خر بیمار پڑ گئے ۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ کہ سگریٹ نوشی کی کثرت نے انہیں کینسر میں مبتلا کر دیا ہے ۔ جب انہیں پتا چلا تو انہوں نے خواہش ظاہر کی ‘ وہ وطن جانا چاہتے ہیں۔ آ خری وقت وہ میری محبت کی چھاؤں میں گزارنا چاہتے ہیں اور مرنے کے بعد ماں جی کے ساتھ سونا چاہتے ہیں ۔۔ پر زندگی نے مہلت نا دی ۔۔ وہ آئے اور ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے ۔۔ ان سے ملنے کا ‘ ان کو دیکھنے کا ‘ ان کے ساتھ رہنے کا خواب ۔۔۔ میری خواہشیں ایک ایک کر کے ان کے ساتھ ہی دفن ہو گئیں ۔ میری آنکھوں میں آخری لمحہ ٹھہر گیا ۔۔ یاد تھا تو بس اتنا “ میرا برف جیسا سفید اور سرد بھائی اندر سے بڑا گرم تھا۔ وہ تنہائی کی آ گ میں تپ تپ کر کندن ہو گیا تھا۔ اس نے میرے سارے ملال‘ سارے دکھ‘ سارے گلے ایک چُپ میں چُھپالیے تھے اور اس بار اپنوں کی طرح اپنوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر ہم سب کوزیرکر گئے تھے ۔ اپنے ساتھ وہ سب کو واپس لے آئے تھے۔ باباجان اور رانی پھر کبھی واپس نہ جاسکے ۔ میں ہر رات پچھلے پہر تک یہی کہانی دہراتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ اگر ہم سب ساتھ مل کر رہتے اور دکھ سکھ بانٹ لیتے تو کسی کو بھی تنہائی کا کینسر نا ہوتا اور نا ہی کسی کو ایک دن میں ایک عمر جینے کی تھکن ہوتی۔

افسانہ ؛ خواہشوں کا سفر
افسانہ نگار ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
سڈنی ، آسٹریلیا

SHARE

1 COMMENT

  1. اپ کا ہر افسانہ تہہ در تہہ احسساسات کی ایسی باریک پرتیں لئے ہوتا ہے جو دل اور دماغ ہر تار کی چھوتا جاتا ہےِ۔ کاری اپ کی کہانی کے طلسم سے باہر نہیں نکلنے دیتا،۔۔۔۔سدا سلامت رہیں

LEAVE A REPLY