امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے وائس آف امریکا کی بندش کے فیصلے کو معطل کردیا

0
827

نیو یارک کی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وائس آف امریکا کی بندش کے فیصلے کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔

امریکی اخبار کے مطابق نیو یارک کی عدالت کے فیصلے کے تحت وائس آف امریکا کے 1200 سے زائد صحافیوں اور ملازمین کی نوکریاں بحال ہو گئی ہیں۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ جج نے حکومت کو وائس آف امریکا کو تحلیل کرنے یا اس کے عملے کو برطرف کرنے سے روک دیا ہے تاہم جج نے وائس آف امریکا کی بحالی کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے 7 وفاقی ادارے ختم کرنے کا حکم دیا تھا جس میں وائس آف امریکا بھی شامل تھا۔

عدالتی فیصلے نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو غیر معقول قرار دیتے ہوئے روک دیا ہے۔

……………………………….

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے وائس آف امریکہ (VOA) سمیت سات وفاقی اداروں کے سائز کو کم کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کے کئی ملازمین کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

یہ ادارہ کانگریس کے فنڈنگ سے چلتا ہے اور بین الاقوامی نشریاتی نیٹ ورکس کی نگرانی کرتا ہے، جن میں ریڈیو فری یورپ، ریڈیو فری ایشیا، مشرق وسطیٰ براڈکاسٹنگ نیٹ ورکس اور اوپن ٹیکنالوجی فنڈ شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کے مطابق، ٹرمپ حکومت غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ’اینٹی امریکن پروپیگنڈا’ کی مالی مدد نہیں کرے گی۔

ایجنسی کے ملازمین کو بھیجے گئے سرکاری ای میل میں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ، پریس پاس اور دیگر سرکاری املاک واپس کریں اور جب تک مزید اطلاع نہ دی جائے، دفاتر میں داخل نہ ہوں۔

مزید برآں، ارب پتی ایلون مسک کی سربراہی میں ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی نے ان اداروں کی نشاندہی کی، جنہیں غیر ضروری سمجھا گیا۔ مسک نے اس سے قبل یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا پر ’لیفٹ ونگ پروپیگنڈا’ پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔

یہ ایگزیکٹو آرڈر وائس آف امریکہ سمیت دیگر امریکی بین الاقوامی نشریاتی اداروں پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے، جو 50 زبانوں میں خبریں فراہم کرتے ہیں اور دنیا بھر میں 354 ملین سے زائد سامعین تک رسائی رکھتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY