کون پوشیدہ ہے اس پردہ زنگاری میں۔ از ۔۔ شمس جیلانی

0
246

پرسوں جب ہم اپنے معمولا ت سے فارغ ہوئے جناب صفدر ھمدانی سے لندن بات کرنا چاہی؟ تو پتہ چلا کہ ابھی چند لمحوں پہلے لندن کی پارلیمان دھماکوں سے گزرچکی ہے۔ خبریں آرہی ہیں مزید تفصیل نہیں معلوم؟ ہمارے منہ سے ہمارا اپنا پرانا شعر جو کہ ہم نے کبھی کراچی کی صورت ِ حال پر کہا تھا بے ساختہ نکل کہ گیا کہ ع “ ناشتہ صبح تو لاشوں سے شروع ہو تا ہے آ ج کتنے ہیں مرے تازہ خبر کو دیکھو “مگر کیا لڑاؤ اور حکومت کرو کہ خالقوں نے کبھی سوچا ہو گا کہ یہ بلا ایک دن لندن تک پہونچ جائے گی؟ اس میں سبق ہے جو برائی کے موجد ہیں کہ “ گر کسی راہ میں کھودے کنواں خود گرےاس میں اور کھو وے اپنی جاں “ یہ جملہِ معترضہ تو یونہیں درمیان میں آگیا۔ لیکن لندن کی میڈیا کا صبر قابل ِ ستائش ہے اور اس کی داد دینا پڑے گی کہ اس دن کے بعدا یک رات بھی گزرگئی، مگر مزید خبریں نہیں ملیں۔ اور ہم دعا مانگتے رہے کہ خدا کرے کہ اس کے پیچھے کوئی دہشت گرد نہ ہو اور اگر ہو تو مسلمان نہ ہو اور اگر مسلمان ہو تو کم از کم پاکستانی باشندہ یا پاکستانی نزادنہ؟ ہو کیونکہ وہ کسی اورملک کا باشندہ ہو گا تو اسے صرف دہشت گرد کہا جائے گا اوراگر وہ پاکستانی ہوا تو اس کے ساتھ مسلمان دہشت گرد لکھا جا ئے گا۔ چاہیں اس کا اسلام سے دور دور کا واسطہ نہ ہومگر جرم اسلامی کہلا ئے گا؟۔ اس تاخیر کی وجہ یہ نہیں تھی کہ حادثہ نہیں ہوا ! ہوا تو،مگر یہ جانے کس مٹی کے بنے لوگ ہیں کہ کسی خبر کی اس وقت تک تشہیر نہیں کرتے جب تک کسی نتیجہ پر نہ پہونچ جائیں ۔ حالانکہ یہ کبھی مسلمانوں کا وطیرہ تھا کیونکہ قرآن میں ایک آیت ہے کہ “ بلا تصدیق خبریں مت پھیلایا کرو پہلے کسی اولامر سے تصدیق کرلیا کرو، ممکن ہے کہ تم اسطرح کسی قوم کو نقصان پہونچانے کا باعث بنو ؟

اور ایک حدیث بھی ہے جس میں حضور (ص) فرمایا کہ آدمی کےجھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھادے “ اور دوسری حدیث میں یہ فرمایا کہ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے،مگر جھوٹا مسلمان نہیں ہوسکتا“ مگر آجکل تمام چیزوں کی طرح یہ سب بھی اوروں کے پاس ہے جو اس پر عمل کرکے فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ اگر یہ واقعہ پاکستان میں ہوا ہوتاتو اب تک اتنی تفصیلات آجاتیں کہ خبر ایک کتاب لکھی جاسکتی تھی، سب سے پہلے خبر دینا کا کریڈٹ لینے کے لیے ، جو کچھ جس کے ذہن میں ہوتا وہ گڑھ لیتا اور پھر خبریں ہی خبریں چاروں طرف بکھری ہوئی ہوتیں؟ لیکن لندن میں افواہیں پھیلانے کو غیر ذمہ دارانہ فعل سمجھا جاتا ہے ۔ نہ نام کاپتہ چلا نہ حملہ آور کی شہریت معلوم ہوئی ۔ جبکہ پاکستان میں تو صرف ایک ہی قسم کی دہشت گردی ہوتی ہے۔ جو کہ اس نے خود ڈالر کے عیوض میں خریدی ہے؟ جبکہ باقی دنیا میں دہشت گرد اور دہشت گردوں کی بہت سی قسمیں ہیں؟ مثلاً یورپ میں آئی ایم ایف کاجہاں اجلااس ہو رہا ہو وہاں جاکر لوگ مظاہرے کرتے ہیں ۔ یا جہاں آٹھ بڑوں کی کانفرنس ہورہی ہو تو وہاں مظاہرے ہورہے ہوتے ہیں اور وہاں دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ ہو تا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں آجکل مذہبی دہشت گردوں کے ہاتھوں صرف ایک ہی قسم کی دہشت گردی کا خطرہ ہے اور اسی کا چرچا بھی،

باقی دنیا میں کیا ہورہا ہے جانے ان کی بلا کہ آئی ایم ایف اور آٹھ بڑوں کے خلاف نفرت کیوں ہے؟ اس لیے کہ ان کی سوچ بہت آگے تک کا سوچتی ہے؟ وہ دراصل سرمادارانہ نظام سے شاکی ہیں جہاں آمدنی میں زمین اور آسمان کافرق ہے کہ ہر روزہوس زر میں کچھ ملازمتیں یہ نظام کھا تاجا رہا ہے؟ جہاں کبھی لاکھوں کلرک گروسری اسٹوروں میں کام کرتے تھے وہاں اب ایک یا دو انسٹرکٹر ان کے بجا ئے کھڑے کمپیوٹر کا استعمال گراہکوں سکھا رہے ہو تے ہیں؟ انہیں سب کو فکر کھا ئے جا رہی ہے کہ اگر یہ ہی لیل ونہار رہے تو وہ دن دور نہیں ہے کہ سارے کام روبوٹ کر رہے ہونگے اور انسان بھوکے مر رہے ہونگے؟۔ لہذا وہاں دوسرے قسم کا فرسٹریشن عام ہے اور اس جھنجھلاہٹ میں وہ لوگوں خوامخواہ گولی مارتے نظر آتے ہیں اور احتجاج کرتے نظر آتے ہیں کہ جس کے پیچھے نہ کوئی منصوبہ ہو تا ہے نہ کوئی مقصد؟ جبکہ ہمارے یہاں جب سوچنے کا رواج ہے جب سر پر آپڑتی ہے؟ تب کہیں جاکر حکومت کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹی بنا تی ہے، جس میں کبھی سالوں فیصلے محفوظ رہتے ہیں ۔ کبھی رپورٹ شائع نہیں ہوتی جبکہ وہاں کے لوگوں کو کوئی اور کام نہیں ہے وہ اپنے یہاںکے درختوں کو کاٹنے والوں کی بھی نگرانی کرتے ہیں کہ جنگلات کا تناسب کم ہونے سے موسم بد دل جا ئیں گے ،بارشیں کم ہو جائیں گی۔لہذ وہ آئے دن درخت کاٹنے والوں کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی میونسپلٹی زرعی زمینوں کو “ سکنی“ کرنے کی اجازت دیدے تو اس کا مئیر اور سارے کاؤنسلر جو کہ برسوں سے اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اس حرکت کی بنا پر اپنی ضمانتیں ضبط کرا بیٹھتے ہیں ۔ جب کہ وہ صحیح سمت میں چلتے رہیں تو کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کون کتنے سال سے ہے؟ جب کہ ہم اسکو اپنی مدت پوری کرنے کا بھی موقعہ نہیں دیتے کہ ہمیں ہر تھوڑے دنوں بعد تبدیلی چاہئے ہوتی ہے۔لیکن وہاں جب تک جی چاہے اس وقت تک وہ کام کریں، لوگ ووٹ دیتے رہیں گے۔ کیونکہ وہاں ووٹ کسی برادری اور رشتہ داری وغیرہ کے نام پر نہیں ملتا ،صرف امید وار کی اپنی کارکردگی کی بنا پر ملتاہے۔ یہاں بات میونسپل کارپوریشن سے شروع ہوتی ہے۔ پھر اس کی اپنی کا رکردگی پر ہے کہ وہ کہاں تک پہونچ سکتا ہے۔اورا کثرا میدواروں کو اپنی کارکردگی بنا پر ووٹ ملتے ہیں ۔ ہم نے وقت گزاری کے لیے موازنہ پیش کردیا کہ دونوں جگہ کے خادم ِ اعلیٰ اور خدمت گزاروں میں کیا فرق کیا ہے۔

اب اصل خبر کی طرف آتے ہیں تنگ آکر ہم نے نے پاکستان کا رخ کیا تو ہماری میڈیا نے ہمیں نا امید نہیں کیا، سب سے موقر اور دیرینہ اخبار کو کھولا تو ہمیں فوراٍتفصیلات مل گئیں ، کہ وہ ایک مسلمان تنظیم کا لیڈر بھی رہا ہے اس کا نام ابو عزالدین تھا۔ کیونکہ اس کی شکل ابو عزالدین سے ملتی ہے ،پہلے بھی وہ چاقو رکھنے کے جرم میں گرفتار ہوا تھا لیکن آجکل اس کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہورہی تھی۔ تھوڑا آگے بڑھے تو معلوم الفاظ سے معلوم ہوا کہ ابھی کچھ اور سنسنی خیز معلومات بھی عطا ہونگی ؟ بڑھے تو نظر نواز ہوا کہ خبر کی تردید بھی وہیں موجود ہے لکھا ہوا تھا کہ اس کے وکیل نے اس کے وہاں ہونے کی تردید کی ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ آجکل جیل میں ہے؟اب بتائیے کہ اس خبر کو لگانے کا فائدہ کیا تھا جس کی تردید بھی خود ہی کرنا تھی۔ یہ کہاں تک اوپر دی ہوئی آیت اور احادیث کی روشنی میں اسلامی صحافت کہلا سکتی ہے فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں؟ کیونکہ مسلمانوں کا تو ہر فعل قرآن اور سنت کے تابع ہونا چاہیے؟ اور یہ مسئلہ ان کے غور کرنے کے لیئے بھی چھوڑتا ہوں جو ہر بات میں اسلام کو موردِ الزام گردانتے ہیں ۔ جبکہ وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں جو مسلمانوں میں شدت پسندوں کے تناسب کو جانتے ہیں جو چند فیصد سے زیادہ نہیں ہے ورنہ مسلمان ایک امن پسند قوم ہیں جنکا کسی قسم کے جنونیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے؟ کہیں کوئی دوسرا یجنڈا تو نہیں ہے جو انہیں اسلام کو بد نام کرنے پر مجبور کر رہا ہے کہ جس میں ہر قسم کے مظلوموں کے مرہم ہے۔ اس راز کو سمجھنے کے لیے تمام دنیا کے دانشوروں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیئے تاکہ دنیا کا امن اورچین واپس آسکے؟ جو اس سے برباد ہورہا ہے۔ اور لوگ مسلسل دباؤ کی وجہ سے ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY