پیارے نبی ﷺ کی پیاری باتیں (2)شمس جیلانی

0
1493

یہ مشہور حدیث ہے جس کے بہت سے صحابہ کرام (رض) راوی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرما یا کہ وہ ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش نہ آئے؟ یہ ایک ایسا کلیہ ہے جس پر تمام معاشرہ گھوم رہاہے؟ جس معاشرے اور جن گھرانوں میں ان دوباتوں کا خیال رکھا جاتا ہے وہاں تو امن اور چین ہے اور جہاں نہیں رکھا جاتا ہے وہاں برائیاں ہی برا ئیاں ہیں! کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ“ انسان بغیر کھانا کھا ئے تو زندہ رہ سکتا ہے مگر وہ بغیر انصاف نہیں رہ سکتا؟ یہ دوسری زندہ حقیقت ہے؟ کہ اگر آپ ان دو باتوں کا احترام کرینگے تو دنیا آپ کا احترام کریگی اور وہ جبھی ہوسکتا ہے کہ پورا معاشرہ اپنوں سے چھوٹوں کا احترام کرے اور اس کے بڑے اپنوں سے چھوٹوں کا احترام کریں ۔مگر عموماً یہ ہوتا نہیں ہے ہر بڑا کمزور کو دبا نے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح اپنے سے کمزورکے حقوق ادا کرنے کے بجا ئے غصب کرنے کو ترجیح دیتا ہے اور پھر صورت ِ حال وہ ہو جاتی ہے کہ وہی چھوٹا یا بڑا بھائی جو کبھی ایک دوسرے پر جان دیتے تھے اب وہی ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جا تے ہیں؟حضورﷺ نے اس رویہ کو اتنا بار بار اجاگر کیا ہے کہ احادیث کی کتابیں بھری ہوئی ہیں جو بچوں سے شروع ہوتی ہیں اور بڑوں تک جاتی ہیں؟ انہوں ﷺ نے بچوں تک پر بھی کبھی اپنی بڑائی نہیں جتا ئی حالانکہ اللہ سبحانہ کے بعد سب سے زیادہ بزرگ تر وہی تھےﷺ اور جب بھی وہﷺ بچوں کے درمیان ہوتے تو ان سے نہ صرف برابری کا برتاؤ کرتے بلکہ کچھ زیادہ ہی خیال رکھتے، مثلاً اگر کوئی دونوں شہزادوں ؑ میں سے سجدے کی حالت میں اپنی نا سمجھی کی وجہ سے کاندھے پر سوار ہوجاتے تو وہ اپنے سجدے کو تو طویل کر دیتے تھے کہ وہ جب تک چاہیں کاندھے پر قیام فرما رہیں؟ مگر انہیں اپنے کاندھے کے اوپر سے اتار نے کے لیئے اپنا وہ ایک ہاتھ بھی استعمال نہیں کرتے تھےکہ انہیں نیچے اتاردینے کے لیئے؟ جس کے وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہر طرح مجاز تھے؟ چلیئے یہاں تو آپ کہدیں گے یہ تو ان کے نواسے تھے لاڈلے تھے اس لیئے وہ ان کا احترام کرتے ہوئے انہیں اپنے اوپر کی طرف سے نیچے نہیں اتارتے تھے؟ اب چلیئے دیکھتے ہیں کہ انﷺ کا تمام نئی نسل کے ساتھ رویہ کیا تھا؟ یہ عام بات تھی کہ اگر حضور ﷺ سواری پرتشریف لے جا رہے ہوتے تھے اور سرِ راہ کوئی بھی بچہ پیدل جا رہا ہوتا تھا تو اس کو وہ اپنے آگے کی طرف یا پشت کی طرف جہاں جگہ ہوتی سوار کر لیتے تھے؟ اور جہاں عام بچوں کو کھیلتے دیکھتے تو وہاں رک جا تے اور ان کے ساتھ وہ ﷺ بھی کھیلنا شروع کر دیتے تھے اور تما م بچوں کو دعوت دیتے کہ جو مجھے پہلے آکر چھولے گا میں اسے یہ انعام میں دونگا؟اور اس دوڑ میں بچوں کو جہاں بھی جگہ ملتی وہ سوار ہوجاتا وہﷺ کسی کو کبھی نہیں روکتے تھے؟ حضور ﷺ کی یہ روش پوری امت کو کیا سبق دیتی ہے؟ جواب آپ پر چھوڑ تا ہوں۔اگر آپ واقعی حضور ﷺ کے جانثار ہیں تو یہ ہی رویہ آپکا بھی ہونا چاہیئے کہ تمام بڑے اپنے حقوق سے بھی رضاکارانہ طور پر چھوٹوں کے حق میں دست بردار ہوجائیں تو انعام کیا ہوگا؟ قر آن پاک میں اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کی تعریف فرما رہا ہے کہ ایسا بہت کم لوگ کرتے ہیں اس کے لیئے بہت بڑا دل چاہیئے اور حضور ﷺ نے کمزوروں کو ہر موقعے پر معاف کر کے یہ عملی طور پر ثابت فرمادیا تھا کہ آپﷺ آپ اس میدان میں بھی کامل ترین انسان ہیں؟ جس کا انہوں ﷺ نے عملی ثبوت بار بار عطا فرمایا۔ یاد کیجئے اس دن کو جس دن کہ حضور ﷺ اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جن کے ساتھ کفار مکہ نے ہر قسم کا برا برتا ؤ کیا اس کے باوجوجب فاتحﷺ مکہ کی حیثیت سے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی پوری نصرت کے ساتھ تشریف لارہے ہیں اور دس ہزار جانثار زیرِ کمان ہیں لیکن ان کا سر جھکا ہوا ہے؟ نہ وہﷺ خود ام المونین خدیجہ الکبرایٰ(رض) والا مکان ان کو خالی کر نے کا حکم دیتے ہیں؟ جو ابو سفیان کے قبضے میں ہے، نہ ہی اپنے آبائی مکان کو خالی کرارہے ہیں جوکہ ابو لہب کے وارثوں سے خالی کرانا تھا؟ ہ جو کے انکے اپنے چچازاد بھائیوں کے قبضہ میں تھا۔ اورجب صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ ہمارے مکان تو خالی کرادیجئے جو انہوں نے اس جرم پر چھینے تھے کہ ہم آپکاﷺ ساتھ دیر ہے تھے؟ کبھی حبشہ کو ہجرت کر رہے تھے، تو کبھی مدینہ منورہ کو ہجرت کر رہے تھے؟ آپﷺ نے ان کے اس مطالبہ کا جو جواب عطا فرما یا وہ تھا کہ کیا تم اس کے بدلے میں جنت میں مکان نہیں لینا چاہتے ہو؟ سب ایک زبان ہو کر کہہ دیتے ہیں کہ حضورﷺ ہم اپنے مکان کے بدلے میں جنت میں مکان لینے کو ترجیح دیں گے؟اور سب اپنے مکانوں سے دست بردار ہو جاتے ہیں؟ ہم پر جو رسول ﷺ کا اتباع قرآن میں، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے اس کا تقاضا ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟ اور ہم کر کیا رہے ہیں کہ اگر موقعہ ملے تو پڑوسی کی دیوار بھی ایک بالشت ہی سہی دبا ہی لیں مگر یہاں فتح مکہ کے موقعہ پر جو ایک اعلان نبی ﷺ کی طرف سے جاری ہوا وہ آخری وقت تک قائم رہا کہ ً آج کے دن کسی سے کوئی انقام نہیں ہے؟حتیٰ کہ حضور حج الودا سے فارغ ہو کر منیٰ کے نشیبی نالے میں قیام پذیر ہوتے ہیں!جو کہ اگر بارش ہو جا ئے تو وہ اور ان کے پورے ساتھی بہہ جا ئیں؟ لوگوں کے سوال کے جواب میں صرف ہنس کراور فرما کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ“ فلاں“ نے میرے مکہ معظمہ میں قیام کرنے کے لیئے کوئی جگہ بھی چھوڑی ہے؟ جہاں میں قیام کروں؟ ایسا شخص تاریخ نے دیکھا ہو بتا ؤ کہ جب وہ فاتح ہو کر آئے تو بھی کہے کہ آج کے دن کوئی انتقام نہیں ہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY