امریکہ نے روس میں حزب مخالف کے ایک راہنما سمیت سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی “شدید مذمت” کی ہے۔

اتوار کو روسی حزب مخالف کے راہنما الیکسی نوالنی کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور روس کی اشرافیہ کی مبینہ بدعنوانی کے احتساب کا مطالبہ کیا۔

ماسکو کے پشکن اسکوائر کے قریب جمع ہونے والے مظاہرین میں سے پولیس نے لگ بھگ 500 افراد کو یہ کہہ کر تحویل میں لے لیا کہ یہ لوگ یہاں بغیر اجازت کے مظارہ کر رہے تھے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے قائم مقام ترجمان مارک ٹونر نے ایک بیان میں کہا کہ “پرامن مظاہرین، انسانی حقوق کے مبصرین اور صحافیوں کو حراست میں لیا جانا بنیادی جمہوری اقدار کی توہین ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ 2018ء میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ رکھنے والے نوالنی کی گرفتاری پر امریکہ کو “تشویش” ہے۔

نوالنی کریملن کے ایک بڑے ناقد ہیں، انھیں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ماسکو میں ہونے والی ریلی میں شرکت کے لیے پہنچے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں سیکڑوں مظاہرین موجود تھے۔

یہ 2011، 2012ء میں پارلیمانی انتخابات میں بدعنوانی کی خبروں کے بعد روس میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سب سے زیادہ منظم مظاہرے تصور کیے جا رہے ہیں۔

مظاہرے میں شریک ایک خاتون الینا کا کہنا تھا کہ “یہ ہم سب کے لیے بہت اہم موقع ہے۔ ہم سب یہاں بطور شہری اپنی پوزیشن کا اظہار کرنے آئے ہیں۔”

SHARE

LEAVE A REPLY