بعض مغربی ذرائع ابلاغ نے منگل کے روز اُس مبینہ خود کش حملہ آور کی تصاویر نشر کی ہیں جس نے پیر کے روز روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں زیرِ زمین میٹرو اسٹیشن میں دھماکا کیا تھا۔ حملے میں11 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

روسی پولیس کے مطابق مذکوہ دہشت گرد کی عمر 22 برس ہے اور اس کا تعلق قازقستان سے ہے۔ برطانوی اخبار “ڈیلی میل” کے مطابق سکیورٹی کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر وہ نوجوان نظر آ رہا ہے جس کے بارے میں پولیس کا خیال ہے کہ حملہ آور یہ ہے۔ اس نوجوان نے سرخ رنگ کی جیکٹ اور سر پر گہرے سبز رنگ کا کیپ پہنا ہوا ہے۔ اس نے چشمہ بھی لگا رکھا ہے اور اپنی کمر پر ایک بیگ لٹکایا ہوا ہے۔ ایک دوسرے کیمرے سے حاصل تصاویر میں مذکورہ حملہ آور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے کسا ہوا نظر آ رہا ہے۔

روسی میڈیا نے اس سے قبل سکیورٹی کیمرے کے کلپ جاری کیے تھے جن میں ایک لمبی داڑھی والے شخص کو دکھا کر بتایا گیا تھا کہ پولیس اس کا تعاقب کر رہی ہے۔ تاہم “انٹرفیکس” ایجنسی کے مطابق مذکورہ شخص نے خود کو حوالے کر دیا تھا اور بعد ازاں بے قصور ثابت ہونے کے بعد اس کا نام تحقیقات سے نکال دیا گیا۔

ابھی تک کسی جانب سے دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

اس سے قبل بھی روس کئی دھماکوں کا نشانہ بن چکا ہے جن میں اکثر مرتبہ روس کے شمالی قوقاز سے تعلق رکھنے والے “مسلمان علاحدگی پسندوں” کو ہی ذمے دار ٹھہرایا گیا۔ مذکورہ علاقے میں عسکریت پسندوں کا بڑی حد تک خاتمہ کیا جا چکا ہے تاہم سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ شام میں فوجی مداخلت نے روس کو داعش تنظیم کے حملوں کا ممکنہ ہدف بنا دیا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY