کینیا میں ٹیکسوں میں اضافے کے متنازع بل کی واپسی کے بعد بھی عوامی مظاہرے جاری ہیں۔
آج بھی دارالحکومت نیروبی اور دیگر شہروں میں سیکڑوں نوجوان مظاہرین سڑکوں پر نکلے، مظاہرین نے صدر ولیم روٹو سے مستعفی ہونے اور ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کو روکنے کے لیے نیروبی میں پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ کینیا کے صدارتی دفتر اور پارلیمنٹ جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں۔












