خطیب جامع مسجد پاراچنار علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا ہے کہ دہشت گرد ملکی سالمیت کو داو پر لگانے کے لیے قبائلی روایات سے ہٹ کر اب خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں کرم ایجنسی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات سے وطن عزیز کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔
پاراچنار کے مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا کہ حکومت ریاست میں حق حاکمیت کهو چکی ہے اس لیےوہ فوری طور پر مستعفی ہو جائے حکمرانوں کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاراچنار کرم ایجنسی میں یہ دسواں بڑا دھماکہ ہے مگر وہ ابھی تک ایک دھماکے کے ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار نہ کر سکی علامہ فدا حسین نے کہا کہ کرم ایجنسی کے عوام جنازوں پہ جنازے اٹهارہے ہیں مگر دہشت گردوں کو لگام دینے والا کوئی نہیں ایک طرف ہماری نسل کشی ہورہی ہے جبکہ دوسری طرف حکومت نے بے حسی کی انتہا کردی ہے انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد پیدا کرنے والی فیکٹریوں کو مسمار نہ کیا گیا اور جنت کے ٹکٹیں بانٹنے والوں کو لگام نہ دیا گیا تو اس سے پاکستان کی سالمیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے حکومت عوام سے جینے کا حق چھیننے والوں کے خلاف کارروائی کرے
دوسری جانب طوری بنگش کے قبائلی عمائدین کے جرگے نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ پاراچنار میں ابھی تک دس دھماکے ہوگئے ہے اور دھماکوں کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی ہے لیکن ابھی تک کسی کے حلاف کاروائی نہیں ہوئی پاراچنار دھماکوں کی انکوائری بھی ہوگئی ہے لہذا دھماکوں کی انکوئریوں کے رزلٹ سے عوام کو اگاہ کیا جائے پاراچنار کے ارد گرد آرمی اور ایف سی کے چیک پوسٹوں کے باوجود یہ دھماکے کیوں ہوتے ہیں گودر دھماکے کے زخمیوں کو صدہ ہسپتال میں فرسٹ ایڈ بھی مہیا نہیں کیا لہزا ہسپتال انتظامیہ کے خلاف سحت کارروائی کی جائے طوری بنگش قبائل نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ہمارے شہدا کوبھی بیس اور چالیس لاکھ روپے دیا جائے ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہ کیا جائے
مجلس وحدت المسلمین کرم ایجنسی کے رہنماوں نے گودر کرم ایجنسی میں گاڑی پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے شہداء کیلئے تیس لاکھ زخمیوں کیلۓ پانچ لاکھ اور متاثرہ خاندانوں کو سرکاری ملازمت دینے کا مطالبہ کیا ہے
جابر حسین سڈنی













