چمن میں کشیدگی جاری، باب دوستی آج بھی بند ہے

0
211

چمن میں افغان سیکورٹی فورسز کی اشتعال انگیزی اور دس گھنٹے تک گولہ باری کے بعد باب دوستی آج بھی بند ہے۔ آمدورفت اورتعلیمی بند ہیں جبکہ افغان فورسزکی شیلنگ سےمتاثرہ علاقوں میں پاک فوج اورایف سی اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔

بلوچستان کے علاقے چمن میں افغان بارڈر فورسز کی بلا اشتعال کارروائی کے بعد زیروپوائنٹ سے ملحقہ علاقے خالی کرالیے گئے ہیں ۔ سرحدی دیہات سے آبادی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرگئی ہے۔

چمن میں تعلیمی ادارے غیرمعینہ مدت کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاک افغان سرحد پر باب دوستی ہرقسم کی آمد و رفت کے لیے بند، تجارتی سرگرمیاں اور نیٹو سپلائی معطل ہیں ۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان نے چمن میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی سیل قائم کردیا ہے جہاں پانچ ایمبولینس،طبی عملہ اور دوائیں موجود ہیں ۔

ان علاقوں میں رات گئے تک پی ڈی ایم اے کے اٹھائیس ٹرک راشن ،خیمے اور دوائیں لے کر پہنچے ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق چمن سرحد پرمنقسم دیہات کلی لقمان اور کلی جہانگیرمیں پاکستان کی حدود میں افغان فورسز نے مردم شماری ٹیموں پر اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کی ۔

اس حملے میں ایف سی اہلکاروں اور شہریوں کی اموات ہوئیں۔ واقعے کے بعد پاک افغان ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزنے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا ۔ اس دوران مقامی کمانڈروں کی فلیگ میٹنگ بھی ہوئی ۔

ڈی جی ایم او پاکستان، میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاکستانی علاقوں اور سیکورٹی فورسز پر بلا اشتعال افغان فائرنگ و گولہ باری کی مذمت کی ۔

انہوں نے افغان ہم منصب کو باور کرایا کہ کلی لقمان اور کلی جہانگیر سرحد پر منقسم دیہات ہیں، پاکستانی فورسز اور شہری اپنے علاقوں میں کام جاری رکھیں گے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سےامدادی سامان کے 19 ٹرک چمن پہنچ گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی سامان میں خیمے،ادویات اور کھانے پینے کا سامان شامل ہے اور ہر متاثرہ خاندان کےلیے الگ الگ پیکٹ بنائے گئے ہیں۔ امداد ی سامان کی تقسیم شروع نہیں ہوسکی

پاک افغان سرحد طورخم معمول کے مطابق کھلی رہی۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق طورخم سرحد پر دونوں جانب حالات معمول کے مطابق ہیں۔

پولیٹیکل انتظامیہ نے گزشتہ روز سرحد غیر معینہ مدت کیلیے بند کرنے اور کرفیو کا اعلان کیا تھا۔ چمن سرحد پر مردم شماری ٹیم پر افغان فورسز نے جمعرات کی صبح بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی تھی۔

فائرنگ سے ایف سی اہلکاروں، بچوں اور خواتین سمیت 11 پاکستانی شہید اور40 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ افغان بارڈر پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے سپاہی حسن علی کی نماز جنازہ کوئٹہ گیریژن میں ادا کردی گئی ہے۔

اس صورتحال پر پاکستان نے چمن بارڈر ہرقسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیاہے۔ افغان فورسز کی اشتعال انگیزی کے بعد بارڈر فلیگ میٹنگ اور پاک افغان ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن پر رابطہ بھی ہوا۔

ڈی جی ایم او پاکستان میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے افغان ہم منصب کو بتا یا کہ اپنے علاقے میں مردم شماری سمیت سب کام کرتے رہیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY