نو مئی 1907ء پہلی آسٹریلوی پارلیمنٹ کا میلبورن میں افتتاح ہوا

0
111

آسٹریلیا میں چھ ریاستیں اور دو بڑی اور کئی چھوٹی مملکتیں ہیں۔ ریاستوں میں نیو ساؤتھ ویلز، کوئینز لینڈ، ساوتھ آسٹریلیا، تسمانیہ، وکٹوریا اور ویسٹرن آسٹریلیا شامل ہیں۔ بڑی مملکتیں شمالی مملکت اور آسٹریلوی دارلحکومت کی مملکت ہیں۔ عموماً ریاستیں اور مملکتیں ایک ہی کام کرتی ہیں لیکن ان کے قوانین کچھ فرق ہوتے ہیں۔
سٹریلیا کی مقامی آبادی جس کا اندازا یورپی لوگوں کی آمد کے وقت 350000 کے قریب لگایا جاتا ہے، 150 سال کے بعد ڈرامائی حد تک کم ہو گئی۔ اس کی وجوہات میں بیماریاں، یورپی لوگوں کی زبردستی آمد اور ثقافتی تفریق تھیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں سے ان کے بچے چھیننا بھی ان کی نسل کشی کے مترادف سمجھاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان قدیمی باشندوں کی تاریخ میں سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے تحاریف بھی کی گئی تھیں۔ آسٹریلوی اسے تاریخی جنگ کا نام دیتے ہیں۔ 1967ء کے ریفرنڈم کے بعد حکومت نے مقامی لوگوں ان کے حقوق دینے شروع کیے جن میں زمین کا حق ملکیت، آبائی اعزازات وغیرہ کو 1992ء میں جا کر تسلیم کیا گیا۔ اب بھی جو اراضی مقامی لوگوں کے پاس ہے اسے آسٹریلیا کی حکومت ہتھیانے کی کوشش میں رہتی ہے۔[1] آسٹریلیا ان سات ممالک میں شامل ہے جو بیس سال سے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی مخالفت کرتے رہے ہیں جس میں اصلی مقامی آبادیوں کے حقوق کا اعلان کیا گیا ہے۔[2]
سونے کی تلاش کے لیے آسٹریلیا میں 1850ء کے اوائل میں دوڑ شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے پیمانے پر بغاوتیں بھی ہوئیں۔ ویسٹ منسٹر کے 1931ء کے قانون نے آسٹریلیا اور برطانیہ کے آئینی تعلقات کو زیادہ تر ختم کر دیا جب آسٹریلیا نے اس کو 1942ء میں قبول کیا۔ 1942ء میں ایشیا میں برطانیہ کی شکست اور پھر جاپان کے حملے کے اندیشے کے باعث آسٹریلیا نے امریکہ کو اپنا نیا حامی و مددگار بنایا۔ 1951ء سے اب تک آسٹریلیا امریکہ کا باقاعدہ فوجی حلیف شمار ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد آسٹریلیا نے یورپ سے تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کی۔ 1970ء میں سفید آسٹریلیا کی پالیسی کے اختتام پر ایشیا اور دیگر غیر یورپی علاقوں سے افراد نے آسٹریلیا کی طرف جانا شروع کر دیا۔ اس سے آسٹریلیا کی اپنی آبادی، ثقافت اور تشخص پر بہت گہرا اثر پڑا۔
آسٹریلیا کا مرکزی حصہ 42000 سال سے قدیمی آسٹریلین لوگوں سے آباد رہا ہے۔ شمال سے آنے والے اکا دکا ماہی گیروں اور یورپی مہم جوؤں اور تاجروں نے 17ویں صدی میں ادھر آنا شروع کر دیا تھا۔1770ء میں آسٹریلیا کے مشرقی نصف حصہ پر برطانیہ نے دعویٰ کیا۔ اسے پھر 26 جنوری 1788ء میں نیو ساؤتھ ویلز کی کالونی کا حصہ بنا دیا گیا۔ جونہی آبادی بڑھتی گئی اور نئے علاقے دریافت ہوتے گئے، 19ویں صدی تک ادھر مزید پانچ کالونیاں بھی بنا دی گئیں۔
یکم جنوری1901ء کو ان 6 کالونیوں نے مل کر ایک فیڈریشن بنائی اور اس طرح دولت مشترکہ آسٹریلیا وجود میں آئی۔ فیڈریشن سے لے کر اب تک، آسٹریلیا میں معتدل جمہوری سیاسی نظام موجود ہے اور یہ ابھی تک دولت مشترکہ ہے۔ اس کا دارلحکومت کینبرا ہے۔ اس کی آبادی 2 کروڑ 10 لاکھ ہے اور یہ مین لینڈ کے دارلحکومتوں سڈنی، میلبورن، برسبن، پرتھ اور ایڈیلیڈ میں پھیلا ہوا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY