عجب دستور ھوتے جارھے ھیں۔ اشرف علی

0
142

عجب دستور ھوتے جارھے ھیں
وہ ھم سے دور ھوتے جارھے ھیں

کوئی بتلا دے ہم کو یہ خدارا
یوں کیوں رنجور ہوتے جا رہے ہیں

قدم پتھر کے جیسے ہو گئے ہیں
تھکن سے چور ہوتے جا رہے ہیں

کبھی پُرنور آتے تھے نظر جو
وہی بے نور ہوتے جا رہے ہیں

یہ چشمِ باوفا کا معجزہ ہے
کہ غم کافور ہوتے جا رہے ہیں

کوئی بتلائے گا یہ راز کیا ہے
عدو مسرور ہوتے جا رہے ہیں

یہ اشرف حُسن کا ہے سب کرشمہ
جو یوں مغرور ہوتے جا رہے ہیں

اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY