ہماری پارٹیاں اپنے پیادوں کو بھینٹ چڑھا دیتی ہیں۔عالم آرا

0
70

مشرق وسطیٰ کے ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے انتہائی تشویش کا باعث ہے ۔ایران میں خود کش حملہ ،۔قطر کا بائیکاٹ ،ایک دوسرے پر الزامات افغانستان کا کردار اور روس کی موجودگی سب ہی باتیں عجیب سی محسوس ہو رہی ہیں ،جو عالمی امن اور دنیا کے معاملات کو کسی نئی نہج کی طرف کھینچ رہی ہیں ،ہماری تو ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ مسلم امہ ایک رہے سب مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دیں ،کوئی کسی کو تنہا نہ کرے کہ یہ دوسری قوتیں بس ہمیں کمزور ہی دیکھنا چاہتی ہیں اس لئے ہمیں خود بھی اپنے برے بھلے کو سوچنا سمجھنا چاہئے یہ سُپر پاورز اپنے مفاد میں کوم کرتی ہیں اس لئے ہمیں بہت سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اپنی طاقت میں کمی نہیں اآنے دینا چاہئے ۔

ملک میں تبدیلی آرہی ہے اچھی تبدیلی جو شاید کچھ سوچیں بدل دے وہ بری سوچیں جنہوں نے ہمارے کردار ،ہماری اقدار ،ہماری تہذیب اور ہماری شخصیت کو داغدار کر دیا ہے ۔ہم نے سیاست میں جو کلچر روشناس کرایا وہ عجیب وغریب بلکہ انتہائی نا مناسب اور غیر زمے دارانہ ہے ،جس نے سب کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،نہ پڑھے لکھوں کی کوئی حٰثیت ہے نہ اَن پڑھ اور جاہل ہی مختلف ہیں ،ایسا لگتا ہے سب ہی ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں ،جنہوں نے صرف اور صرف اپنی پارٹی کے مفادات اور پارٹی لیڈر کو جواب دینا ہے باقی سب کچھ دھُندلا جاتا ہے ان وفاداریوں کے پیچھے ۔یہ ایک سانحہ ہے کسی بھی قوم کے ساتھ کہ پارٹی کادکُن کی ذات کسی بھی شخصیت کے لئے ہو جائے بجائے ملک کے ؟وہ یہ بھی نہ سوچے کہ کیا کہہ رہا ہے اور اس کا اثر کیا ہوگا ،
جب سے پاناما کا کیس آیا ہم نے سب کو ہی ہر ادارے اور ہر اُس شخص کو زبانوں کے گھیرے میں آتے دیکھا جو کسی بھی صورت اپنا کردار مثبت نبھا رہا ہے ۔جو ملک اور قوم کے مفاد میں کام کر رہا ہے جو جھوٹ اور سچ کی تمیز بتا رہا ہے ۔یہ ملک میں شاید پہلی دفعہ ہے کہ بڑے پہاڑ کے نیچے آئے ہیں وہ بڑے جنہوں نے اس قوم کو گونگی ،بہری اور اندھی سمجھ لیا تھا کہ جیسا چاہے کئے جاؤ کوئی پوچھ نہیں ہوگی اسی زُعم نے انہیں اُس کٹہرے میں لا کھڑا کیا جس کا تصور بھی شاید ان میں سے کسی نے نہیں کیا تھا ،کہتے ہیں اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ،یہ جب برستی ہے تو راہِ فرار نہیں ملتی ۔ہم ڈُکھی ،اندر سے کہیں بہت دُکھی ہیں کہ یہ ہمارے ہیں جنہوں نے ہمیں لوٹا اور پھر سینہ زوری یہ کہ جو کچھ ہم نے کیا وہ ہمارا حق تھا ۔عجیب سی کیفیت ہے ہماری کبھی لگتا ہے سب بہت اچھا ہورہا ہے کبھی لگتا ہے اس سے بُرا کیا ہوتا ؟؟

ایک کارکُن نے کھڑے ہو کر سب کو لتاڑ دیا کہ تم پر پاکستان کی زمین تنگ کر دیں گے کیونکہ تم نے ہم سے حساب لیا ہے ،سُبحان اللہ کیا خوبصورت سوچ ہے ،بچوں کو بھی نہیں بخشینگے وہ تو آپ نے پہلے ہی اُن کی ذندگیوں میں اپنے اعمال سے مُشکلیں کھڑی کر دی ہیں ۔وہ پاکستانی جو فخریہ خود کو پاکستانی کہتا تھا اب ڈرتے ڈرتے اپنے کو پاکستانی کہتا ہے کہ کہیں کوئی مشکل نہ کھڑی ہوجائے ،وہ شرمندہ ہے لیکن کچھ اداروں نے کمر باندھی ہے کہ نکالینگے ہمیں اس طوفانِ کرپشن اور بے حسی سے ۔تو آپ انہیں بچوں کا ڈر دکھا رہے ہو، کہاں ہے آپ کی تعلیم کہاں ہے آپ کی وکالت ۔شاید نہیں جانتے کہ جن کا ایمان اللہ پر ہو کہ سب کچھ اُس کے ہاتھ میں ہے وہ خوفزدہ نہیں ہوتے ۔اور یہ ہی بات شاید آپ جیسی زہنیتوں کو ہضم نہیں ہورہی ۔ہم حیران ہیں کہ ملک اور اُس کی محبت کس طرح ایک شخصیت کی نظرِ التفات پر قُربان ہے ۔آپ جیسے پڑھے لکھوں کو تو کُھل کر اس بات کا ساتھ دینا چاہئے تھا کہ مُلک کی جو دولت باہر گئی اُس کا حساب دو ؟ نہ کہ اآپ دھمکیاں دیتے ہیں حساب لینے والوں کو جو شاید اب پورا ملک ہی چاہتا ہے کہ ہماری قسمتوں سے کھیلنے والے اب سامنے آئیں ۔کہتے ہیں میں روزے سے تھا ہم صرف استغفار پڑھ سکتے ہیں ۔

ہمارے سامنے دنیا کی وہ قومیں ہیں جنہوں نے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے خود کو منوایا ہے ۔اور عدل و انصاف تو ہمارا شیوہ ہے جسے ہم نے قُربان کر دیا ہے مفادات پر جس کو ہم نے کبھی اُبھرنے نہیں دیا ۔ہم نے اُسے کمزور بنائے رکھا اسی طرح دھمکیاں دے دے کر یا کمزوروں کو خرید خرید کر، جو نہیں بِکتے انہیں ہم ڈراتے ہیں ،جو نہیں جھکتے اُنہیں ہم خوفزدہ کرتے ہیں ،جو حق پر رہنے کا عِندیہ دیتے ہیں اُنہیں ہم کمزور بنانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں ۔اب شاید یہ ملک ان تمام باتوں کا مُتَحَمل نہیں ہوسکتا ،اگر انصاف کی ہوا چلی ہے تو اَسے چلنے دیں خدا را اس پر قد غنیں نہ لگائیں ۔اگر آگے بڑھنا ہے تو اَن ناسوروں سے جان چھڑانی ہوگی ۔ورنہ روتوں کا ساتھ کوئی نہیں دیتا اور ہمارے ساتھ تو ایمان کی قوت ہے کہ کوئی کچھ بھی کہتا رہے ہوگا وہ ہی جو اللہ رب العزت چاہے گا ،اس لئے ہماری استدعا ہے کہ جج پریشان نہ ہوں اور ان جیسی باتوں پر کان نہ دھریں بلکہ ان جیسے لوگوں سے سیاست کو پاک کریں تاکہ تاریخ رقم ہو ۔
یہ وہ جونکیں ہیں جو نظر بھی نہیں آتیں اور خون چوس لیتی ہیں ۔ہمیں کسی سے کوئی پرخاش نہیں نہ ہی ہم اس بات پر خوش ہیں کہ ہمارا ہی ایک طبقہ جسے ہم اتنا کرپٹ اور ظالم نہیں سمجھتے تھے کہ ملک اور قوم کی تقدیر سے کھیلے گا وہ کس طرح ہماری قسمتوں سے کھیلا اور ہمیں دھوکے پر دھوکے دیتا رہا ۔اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوگی کہ یہ سب بھی ہمارے ہی ہیں لیکن کہتے ہیں کہ اگر زخم پرانا ہوجائے اور بھرے نہیں تو ناسور بِن جاتا ہے اُسےکاٹ دینا چاہئے ہمیں لگتا ہے کہ اب ان ناسوروں کو جنہوں نے ملک کے جسم میں زہر بھر دیا ہے اب کاٹ ڈالنا چاہئے ۔کہ پاناما بقول صدرِ محترم کے اللہ کی طرف سے ہے اور اُس کا عزاب ہے ۔اب بھی اگر ان پیادوں کو نہ مارا تو شاہ تک نہ پہنچ سکوگے بازی بچھی ہے جو چال سچی چلے گا وہ ہی جیتے گا عوام کی جیت ہونی چاہئے کہ بہت پِٹ چکی عوام اب اور نہیں ۔

ہماری تمام ہی پارٹیوں کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ اپنے پیادوں کو بھینٹ چڑھا دیتے ہیں ۔اور وہ بھی خوشی خوشی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفا دار بنے قربانی دے دیتے ہیں کاش کوئی تو ہمت پکڑے اور کھولے یہ راز کہ کیوں اتنا ساتھ دیتے ہیں غلط باتوں کا ۔کسی کا تو ضمیر جاگے جسے نہ جانے کون سی افیم پلا کر سُلا دیا ہے کہ جاگتا ہی نہیں ۔ ہم تو کہتے ہیں کہ اگر چند پیادے ہی بغاوت کردیں کہ نہیں ساتھ دیتے ہم جھوٹ اور غلط بیانی کا چاہے کسی بھی صرت میں ہو ،تو شاید وہ نہ صرف اپنا بلکہ ساری قوم کا بھلا کرینگے ۔
اللہ وطنِ عزیز کو عدل و انصاف سے منور کردے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY