اداروں کے خلاف تقریر کے معاملے پر سینیٹر نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا۔
نہال ہاشمی کےجواب کے متن میں کہا گیا کہ میری تقریر سےتوہین عدالت نہیں ہوئی، میں نے ایک بار تقریر کی جبکہ میڈیا نے بار بار چلا کر میرے خلاف فضا بنائی۔ میں عدلیہ کی تضحیک کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کا ورکر ہوں، 200 مربع گز کے گھر میں رہتا ہوں۔ قانون کی حاکمیت کیلئے جیل تک کاٹی۔میں وفادار پاکستانی ہوں ،30 سال سے وکالت سے وابستہ ہوں۔کراچی بار کا ممبر ہونے کے باعث عدلیہ کی بحالی میں کردار ادا کیا۔
جواب میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نےتھانہ بہادر آباد کراچی میں میرےخلاف مقدمہ درج کرایا۔ میرے خلاف بعض سیاسی مخالفین نے منفی مہم چلائی، عمران خان نے میری تقریر کو سیاق وسباق سےہٹ کر پیش کیا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر سینیٹر نہال ہاشمی کے ایک تقریب سے خطاب کی متنازع ویڈیو سامنے آئی تھی ، جس کے مسلم لیگ ن نے کی پارٹی رکنیت معطل اور سینیٹر شپ سے استعفیٰ طلب کرلیا گیا تھا۔
چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے نہال ہاشمی کا استعفیٰ قبول نہیں کیا تھا اور رولنگ دی تھی کہ نہال ہاشمی نے خود پیش ہو کر رضا کارانہ استعفیٰ دینے کی تردید کر دی تھی











