خون میں ڈوب کے ائی ہے خوشی غم کی طرخ
عید اس بار منائیں گے محرم کی طرح
پاراچنارشیعہ کمیونٹی کا بڑی تعداد میں پاکستان ہائی کمیشن اف آسٹریلیا کے سامنے پاراچنار بم دھماکوں اور دھماکے کے بعد پرامن احتجاج پر کرنل عمراور ایف سی کی فائرنگ کے حلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جسمیں سڈنی اور میلبرن سے پاراچنار کی شیعہ کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی
پیر کے دن چھبیس جون کو مظاہرین جلوس کی شکل میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے اس وقت پہنچے جب ہائی کمیشن اف پاکستان نے غیر ملکی سفارت کاروں اور پاکستان کے چیدہ چیدہ افراد کے لیے عید ملن پارٹی کا اہتمام کیا تھا جس پر مظاہرین نےشدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کینبرا کی فضائیں شیم شیم کی نعروں سے گونج اٹھی غم سے نڈھال مظاہرین نے کہا
نہایت شرم کی بات ہے بے حسی کی انتہا ہے کہ ہمارے گھروں میں صف ماتم برپا ہے ہمارے بچے ہمارے جوان ہمارے بزرگ شہید ہوگئے ہیں روز زخموں سے چور زخمی زحموں کے تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہورہے ہیں جنازے ہمارے گھروں میں جاتے ہیں پاراچنار میں کربلا کا سماں ہے
بجائے اسکے کہ پاکستانی ہائی کمشنر باہر آکے ہمارے زخموں پر مرہم رکھیں
وہ عید ملن پارٹی میں مصروف ہیں عید کی حوشیاں منائی جارہی ہے جس پر مظاہرین کی منہ پہ شیم شیم کی نعروں سے کینبرا کی فضائیں گونج اٹھتی تھی اور مظاہرین نے یہ بھی کہا ابھی خالی مذمتوں سے کام نہیں چلے گاکہ اگر پاراچنار دھرنے میں بیٹھے مظلوم پاراچناریوں کے مطالبات منظور نہ کئے گئے اور دہشتگردی کو دوام نہ دی گئی تو چودہ اگست کو پوری دنیا میں پاکستانی سفارتخانوں کے سامنے صبح سے لیکر شام تک بھرپور احتجاجی مظاہرے کئے جائنگے اور آسٹریلیا کے ہر شہر سے لوگ جلوسوں کی شکل میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے بھر پور احتجاج کرینگے
مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بے گناہ شہید ہونے والے بچوں جوانوں بزرگوں اور حکومت کی نااہلی اور کرنل عمر کے حلاف نعروں اور تصویروں کے بینرز اٹھائے ہوئےتھے

پرامن احتجاج تلاوت کلام پاک سے شروع کی گئی
تلاوت کلام پاک کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ گایا گیا اس کے بعد مظاہرین نے حکومت کو محاطب کرکے کہا کہ ہم محب وطن پاکستانی ہے ہم پاکستان سے دل وجان سے پیار کرتے ہے
لیکن دو دن پہلے پاراچنار شہر میں اس وقت دھماکہ ہوا جب لوگ عید کی حریداری میں مصروف تھے ایک دھماکے کے بعد جب وہاں کی عوام زحمیوں اور لاشوں کو اٹھانے میں مصروف تھے دوسرا دھماکہ ہوگیا جسمیں اطلاعات کے مطابق ابھی تک سو سے زیادہ شہید اور دو سوسے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہیں مظاہرین چیح چیح کر فریاد کررہے تھے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی غمخوار نہیں سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی زمہ داری ہے لیکن افسوس ہمارا وزیراعظم لندن میں عید منانے میں مصروف ہے جبکہ پاراچنار میں کربلا کا سماں ہے کوئی پوچھنے والا نہیں اخر کیوں کیا ہم پاکستانی نہیں کیوں ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ملک کے دوسرے حصوں میں حادثے ہوجائے سب وہاں جاتے ہیں لیکن ہمیں نظر انداز کیا جاتا ہے ملک کے دوسرے شہروں میں حادثات ہوتے ہے تو انکو فی شہیدبیس لاکھ اور اسے بھی زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے لیکن ہمارے شہدا کو صرف تین تین لاکھ دیا جاتا ہے اخر کیوں
ہمارا حون اتنا سستا کیوں ہے ہم میں اور پاکستان کے دوسرے شہری میں کیا فرق ہے اخر حکومت کا ہمارے ساتھ ایسا رویہ کیوں ہے پاکستان بنایا تھا پاکستان بچائینگے
جس پر غم سے نڈھال مظاہرین نے گونواز گو نواز شریف مردہ باد شیم شیم کے نعروں سے کینبرا کی فضائیں گونج اٹھتی تھی
مظاہرین نے کہا کہ ہماری حکومت ہمیں تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے 2007 سے لیکر اج تک کبھی جنگ مسلط کی جاتی ہے کبھی پشاور جاتے راستے میں پکڑ کر ہمیں کاٹ کاٹ کر ٹکڑوں ٹکڑوں میں کبھی گاڑیوں پر فائرنگ کی جاتی ہے تو کبھی روڈ سائیڈ بم سے ہمیں اڑایا جاتا ہے کبھی ایمبولینس پر فائرنگ تو کبھی اغواء برائے تاوان جسمیں بہت سے ابھی تک گھروں کو واپس نہیں ائیے ہے
دہشت گرد کبھی جنگ مسلط کرکے ہم کو پانچ سالوں تک پاکستان سے کاٹ کر تو ہم افغانستان کے راستےکابل پھر کابل سے طورخم کے راستے پیشاور جاتے ہیں 2007 سے 2012 پاراچنار میں میڈسن نہ ہونے کیوجہ بہت سے عورتیں ڈیلیوری کیسیز میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی اور بہت سے اپنے بچوں سے۔نہ کوئی پوچھنے والا تھا نہ ہے۔اخر کیوں ہمارے ساتھ ایسا ظلم کیوں ہورہا ہے۔ظلم ظلم ہے بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔حون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائیگا
ہمارا ایک کشمیری بھائی شہید ہوتا ہے تو پورا پارلیمنٹ چیخ اٹھتی ہے جبکہ پاراچنار میں سو سے زیادہ لاشیں گرتی ہیں کوئی ٹھس سے مس نہیں ہوا
پاکستانی حکومت میں اوراسٹبلشمنٹ میں کچھ عناصر سعودی ریجیم کے ایجنڈے پر کام کررہے ہے۔جو پاکستان میں شیعہ قتل عام میں مصروف ہے جسمیں پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور کرنل عمر بھی شامل ہے چوہدری نثار کی کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ اور لشکری جهنگوی کے ساتھ ملاقاتیں کیوں ہورہی ہے جو شیعوں کو کافر سمجھتی ہے اور شیعوں کا قتل جائز سمجھتی ہے اور دہشتگردی میں ملوث جماعتیں ہے ان کے حلاف کاروائی کی بجائے مہمان کس لئے بناتی ہے
جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا القرآن
مظاہرین نے یہاں کچھ اشعار میں حکومت اور کالعدم جماعتوں کو کچھ اسطرح محاطب کیا
نت نئے ظلم پے چپ چاپ مسلمان پے حاک
اور ہر ظلم پے ہنستے ہوئے انسان پے حاک
دن دہاڑے جہاں انصاف خریدا جائے
ایسے منصف کی عدالت پہ تھو میزان پے خاک
ملک مل بانٹ کے کھانے کے جہاں فیصلے ہوں
ایسے ایوان اور اسکے سبھی ارکان پے خاک
کالعدم تنظیموں کے نام
جس کا مزہب دے سدا لاشیں گرانے کا درس
ایسے دین اور یہ دیں دار مسلمان پے حاک
نفرتیں بغض عداوت جو سکھائے باقر
شیخ کے روپ میں ائے ہوئے شیطان پے خاک
جہاں پر غم سے نڈھال مظاہرین نے چوہدری نثار کو اڑے ہاتھوں لیا گو نثار گو مردہ باد مردہ باد چوہدری نثار مردہ باد مردہ مردہ طالبان مردہ باد ائی ایس ایس مردہ باد نے پھر کینرا کی فضائیں گونج اٹھی
مظاہرین نے کہا ہم کل بھی دہشتگرد طالبان ائی ایس ایس اور سپاہ صخابہ لشکری جهنگوی کے خلاف تھے اج بھی ہے اور انشاء اللہ کل بھی رہینگے
ہم حیدر کرار کے ماننے والے ہے ہم ڈرنے والے نہیں پہلے بھی سبق سیکھایا ہے دہشت گرد اپنا ماضی نہ بھولے
مظاہرین نے گورنر خیبرپختونخوا کی خاموشی اور پشاور میں زخمیوں کی عیادت نہ کرنے پولیٹکل ایجنٹ کرم کے ناکامی کے خلاف شدید الفاظ میں مذمت کی اور مردہ باد گورنر مردہ باد پولیٹکل ایجنٹ شیم شیم کے نعروں سےکینرا کی فضائیں گونج اٹھی
مظاہرین نے آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کو مخاطب کرکے کہا ہمیں اپنے ارمی سے پیار ہے ہماری ارمی دنیا کی نمبرون ارمی ہے اور ہمارا ملک ایٹمی ملک ہے 2007 سے 2012 تک جب طالبان نے پاراچنار پر جنگ مسلط کی تھی تو پاراچنار کے مخب وطن شیعوں نے اپنی وطن کی مٹی کے ساتھ ساتھ اپنی ارمی ایف سی اور لوکل پولیٹکل اور انتظامیہ کی بھی خفاظت کی ابھی تک پاراچنار کے مخب وطن پاکستانیوں نے اپنے ارمی اور ایف سی پر کوئی انچ نہیں انے دیا اور ہمیشہ شانہ بشانہ لڑنے یقین دہانی کرائی 2007 سے 2012 تک مسلط جنگ میں اپنی مدد اپ کے تخت لڑے لیکن ارمی اور ایف سی پر کوئی انچ نہیں انےدیا
پاراچنار کے چاروں طرف ارمی اور ایف سی کی پوسٹیں ہے جو بغیر چیکنگ ایک بندے کی شناختی کارڈ اور گاڑی کو بغیر چیکنگ کے اندر جانے نہیں دیتی اور پاراچنار کے اردگرد خندقیں کھودی گئی پاراچنار شہرکے بازاروں کو پچھلے دھماکےکے بعد ریڈزون قرار دیا اسکے باوجود پاراچنار میں دھماکے کیوں ہورہے ہیں اور اتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود دھماکے ہوتے ہےجس پر پرامن مظاہرین جب اختجاج کرتے ہے تو ہماری ٹیکس کے پیسوں سے ملک کی دشمن طالبان کیلئے خریدی گئی گولی سے ایک 19 گریڈ کا کرنل عمر ابن سعد اتنا بڑا ہوگیا۔ اپنی ناکامی کی بجائے مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہیں۔یہ تیسری مرتبہ ہے جو بے گناہ مخب وطن پاراچناریو کا خون اس کرنل عمر نے بہایا کوئی پوچھنے والا نہیں باجوہ صاحب ہم اپ سے پرزورمطالبہ کرتے ہے کہ اپ کرنل عمر کا کورٹ مارشل کرکے پاراچنار کے مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھے اور ہونے والے دھماکوں کا نوٹس لیں سب کی نظریں اپ کی طرف ہے
مظاہرین نے چند اشعار کرنل عمر کے نام
جس کے ہوتے ہوئے سرحد کو پھلانگ ائے عدو
ایسے سرحد پہ وہ سوئے ہوئے دربان پے خاک
کون پھولوں کے مہکنے سے بھی بھی جل جاتا ہے
ڈال جاتا ہے جو تاریکی میں گلدان پے خاک
غم سے نڈھال مظاہرین نے آسٹریلیا میڈیا کو اور انٹرنیشنل حقوق کی تنظیمیں بین الاقوامی کمیونٹی کو محاطب کرکےکہا کہ لندن پیرس اور دنیا کے دوسرے ملکوں جب دہشت گردی کے واقعات ہوجائے تو تم اسمان سرپر اٹھاتے ہو پاراچنار میں سو سے زائدشہید اور دو سو سے زائد زخمیوں پر تم سب خاموش ہو کیا پاراچنار کے لوگ انسان نہیں کیا پاراچنار کے انسان دوسرے ملکوں کے انسانوں سے مختلف ہے شیم شیم شیم کے نعروں سےکینرا کے فضائیں گونج اٹھی۔
پرامن مظاہرین نے پاکستانی حاموش میڈیا کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کا باپ معصوموں پاکستانیوں کاقاتل بچوں کا قاتل جوانوان کا قاتل اخسان اللہ اخسان جوخوشی سے معصوم پاکستانیوں کے قتل کا جرم قبول کرتے تھے میڈیا دن رات ان کے گن گاتے تھے پاراچنار میں سینکڑوں شہید اور زخمی ہوجاتے ہے جمعے کے دن سے ہزاروں افراد کا پاراچنار میں دھرنا جاری ہے ۔لیکن ہمارا لفافہ میڈیا کو پاراچنار کے مظلوموں کا کوئی حیال نہیں شیم شیم کے نعروں سے پھر کینبرا کی فضائیں گونج اٹھی
میڈیا کی خاموشی پر مظاہرین نے کچھ اسطرح کہا
جس کا مظلوم کی اہوں پہ قلم بھی نہ اٹھے
ایسے شاعر کے قلم پہ سبھی دیوان پے لنعت
پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے شہدا کے غم میں عزاداری بھی کی گئی اور زخمیوں کودعا دی گئی
مظاہرین نے اخر میں ایک بار پھر کہا ابھی خالی مذمتوں سے کام نہیں چلے گا اگرپاراچنار میں بیٹھے دھرنے کے مطالبات نہیں مانے گئے ہم پھر ایئنگے پھر ائینگے چودہ اگست کوپوری دنیا سمیت آسٹریلیا کے ہر شہر سے جلوسوں کی شکل میں صبح سے شام تک ہزاروں کی تعداد میں پرامن مظاہرہ کیا جائے گامظاہرین نے آسٹریلیا پولیس کا شکریہ ادا کیا اور اپنے ایف سی کو دعا دی اللہ ہماری ایف سی کو بھی اس طرخ پرامن بنائے
مظاہرے کا اختتام دعائے امام زمانہ وعجل فرجا سے کیا گیا۔۔
جابر حسین۔ سڈنی













