ستون ۔ از۔ زرقامفتی

0
205

آج تمہاری سالگرہ ہے

یاد کی گھٹری کھول کے بیٹھی

تواک اک کر کے

 رنگ برنگے کھٹے میٹھے

کتنے ہی انمول خزانے جگمگ کرتے

میری آنکھوں میں چمکے ہیں

یاد ہے اک دن تم جب  اپنے

لوٹے تھے مدرسے سے

تو میں گھر موجود نہیں تھی

روٹھ گئے تھے مجھ سے تم

آنکھ میں اپنی بھر کے  آنسو

یہ بولے تھے غصے میں تم

آخر آپ گئی کہاں تھیں

آپ کو یہ معلوم تو تھا

وقت ہوا ہے میری چھٹی کا

تو میں ہنس کر بولی تھی

 کیا سمجھتے ہوتم بیٹا جی

ماں گھر کا ستون ہے کوئی

کہ تم جب بھی گھر  لوٹ کے آؤ

اس کو ایک جگہ ہی پاؤ

سٹپٹا کر تم نے کہا تھا

 چاہتا ہوں میں ایسا ہی

سوچتی ہوں کہ فون ملا کر

تم سے آج کہوں میں بھی

وقت کے دھارے میں بہہ کر

تم سمندر پار گئے ہو

اور میں اک ستون کی مانند

گھر کے آنگن میں گڑی ہوں

SHARE

LEAVE A REPLY