ستون ۔ از۔ زرقامفتی

0
88

آج تمہاری سالگرہ ہے

یاد کی گھٹری کھول کے بیٹھی

تواک اک کر کے

 رنگ برنگے کھٹے میٹھے

کتنے ہی انمول خزانے جگمگ کرتے

میری آنکھوں میں چمکے ہیں

یاد ہے اک دن تم جب  اپنے

لوٹے تھے مدرسے سے

تو میں گھر موجود نہیں تھی

روٹھ گئے تھے مجھ سے تم

آنکھ میں اپنی بھر کے  آنسو

یہ بولے تھے غصے میں تم

آخر آپ گئی کہاں تھیں

آپ کو یہ معلوم تو تھا

وقت ہوا ہے میری چھٹی کا

تو میں ہنس کر بولی تھی

 کیا سمجھتے ہوتم بیٹا جی

ماں گھر کا ستون ہے کوئی

کہ تم جب بھی گھر  لوٹ کے آؤ

اس کو ایک جگہ ہی پاؤ

سٹپٹا کر تم نے کہا تھا

 چاہتا ہوں میں ایسا ہی

سوچتی ہوں کہ فون ملا کر

تم سے آج کہوں میں بھی

وقت کے دھارے میں بہہ کر

تم سمندر پار گئے ہو

اور میں اک ستون کی مانند

گھر کے آنگن میں گڑی ہوں

SHARE

LEAVE A REPLY