یہ 25اگست کی سہ پہر تھی۔ساڑھے چار بجے آنکھ کھلی تو سرہانے ایک پیکٹ دھرا دیکھا۔تھاما تو کتاب جان پڑی۔یاد آیا تسنیم منٹو نے عابد حسن منٹو کی بک کارنر جہلم سے حال ہی میں چھپنے والی کتاب ”قصّہ پون صدی کا“بھیجی ہوگی کہ میں نے اِسے بھیجنے کو کہا تھا۔ساتھ ہی ہونٹوں پر ہنسی بھی بکھر گئی۔میں نے جب مبارکباد دی تو تسنیم نے ہنستے ہوئے بڑے شگفتہ سے لہجے میں کہا تھا ”دیکھو کتاب میں کہیں میرا ذکر نہیں ہے۔“
”ارے یہ کیسی فضول بات کررہی ہو۔عابدصاحب فیملی کو میٹڈ انسان ہیں تمہارا ذکر نہیں ہوگا تو کس کا ذکر ہوگا۔“؟
شام کی چائے سے فارغ ہوکر پیکٹ سے کتاب نکالی۔پہلا صفحہ کھولا منٹو صاحب کی تحریر میں لکھا تھا۔
عزیزی سلمیٰ اعوان کے لیے۔
عابد حسن منٹو
25اگست 2023
آنکھیں گیلی سی ہوگئیں۔بڑے ماموں کا گلگت سے بھیجا گیا پارسل اور خط عزیزی سلمیٰ کے تخاطب سے یاد آیا تھا۔آج منٹو صاحب نے اِسے لکھ کر اپنایت اور محبت کا جو اظہار کیا وہ میرے لیے باعث افتخار تھا۔
منٹو صاحب سے تسنیم کے حوالے سے تو جو تعلق بنا وہ اپنی جگہ۔ مگر ان سے تو ایک گہرا واسطہ اُس عقیدت اور محبت کا بھی تھا جو اُن کی فکری و نظریاتی وابستگی سے جڑا ہوا تھا،جس میں ہم جیسے لوگوں نے اُن کی سیاسی اور فلاحی سرگرمیوں،بے ریا سیاسی وابستگیوں اور اپنے موقف اور اصولوں پر سچائی اور استقامت سے کھڑے رہنے کی خوبیوں پر انہیں اپنا رول ماڈل کا درجہ دے رکھا تھا۔ ہماری جوانی میں وہ ہر دل عزیزی،مقبولیت،انفرادی شخصی اوصاف کے جس پیڈسٹل پر کھڑے تھے وہ باعث مثال تھا۔فوجی حکومتوں میں مزاحمتی تنظیموں کے معزول و معتوب کارکن،عدالتوں میں ذلیل ہوتے اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کرتے لوگ وہ تھے جن کے زخموں کو ممکنہ حد تک سینے والا بندہ منٹو صاحب کے سوا کون تھا؟عام لوگ ان کی اصول پسندی کے معترف ہی نہ تھے۔اُن سے ایک عقیدت کا تعلق بھی رکھتے تھے۔پرنٹ اور الیکڑونک میڈیا پر ان حوالوں سے ان کا موقف ہمیشہ بڑا واضح اور دو ٹوک ہوتا۔اور یقینا میری مرعوبیت بھی اسی وجہ سے بہت زیادہ تھی۔
پہلی ملاقات آج بھی یاد ہے۔نوائے وقت کی سیڑھیوں سے منٹو صاحب اُتر رہے تھے اور میں چڑھ رہی تھی۔ٹی وی پر اکثر نظر آنے والی شخصیت حقیقت میں کتنی وجیہہ تھی اس کا احساس تو اس وقت انہیں اپنے سامنے دیکھ کر ہوا تھا۔
میں منہ پھٹ قسم کی لڑکی تھی۔فوراً انہیں اُن کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے بولی تھی۔
”آپ تسنیم منٹو کو میرا پیغام دے دیں کہ اُن کا فنون میں چھپنے والا افسانہ خواتین ڈائجسٹ میں کسی لڑکی نے اپنے نام سے چھپوایا ہے۔“ان کی آنکھیں مسکرائی تھیں۔ان کے ہونٹ بھی خفیف سا مسکرائے تھے اور سچی بات ہے اس مسکراہٹ میں ایک مشفقانہ سا احساس تھا۔
انہوں نے میرا نام پتہ پوچھا اور کہا ”میں آپ کا پیغام پہنچا دوں گا۔“
یہ تسنیم سے میری دوستی کا آغاز تھا۔وہ بہت اچھی افسانہ نگار تھی مگر من موجی قسم کی لکھاری تھی۔یونس جاوید،اظہر جاوید،ندرت الطاف اور اس وقت کے سرکردہ لکھاریوں کا فنون اور تخلیق گروپ سے ہمارا جورشتہ شروع ہوا اس میں ہم سب کی دوستیاں اور تعلق بنتے چلے گئے۔
اب آتی ہوں “قصّہ پون صدی کا”کی طرف۔سچی بات ہے میں نے اب موٹی موٹی کتابیں پڑھنی چھوڑدی ہیں۔ہاتھ اٹھاتے نہیں ہیں کتاب کو۔
مگر یہ”قصّہ پون صدی کا“ تھا جسے لکھنے والی میری محبوب شخصیت تھی۔سو چھوٹی میز گھیسٹی، اس پر کتاب رکھی اور اُسے کھول لیا۔
کتاب میں کل آٹھ ابواب ہیں۔ میں اور میرا خاندان،وکلا کی جمہوری جدوجہد اور قیادت،کچھ مشہور اور اہم مقدمے،سوشلزم اور انقلاب،پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست اور میری سیاسی زندگی، ادب اور ترقی پسند ادب، پاکستان کی نظریاتی تعمیراورپاکستان کا سیاسی ارتقا۔
پہلا باب “میں اور میرا خاندان” ہے۔قارئین یہ باب دلچسپی سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں کہیں بھی نہ خاندان کی امارت،نہ ان کے علم کی بڑھکیں اور نہ ہی قصیدے ہیں۔پاکستان سے پہلے کا دور اپنے سیاسی،ثقافتی اور تہذیبی سرگرمیوں سے سامنے آتا ہے۔روس،انقلاب،لینن کا ہر پڑھے لکھے گھر میں گھسنے کے منظرایک رو میں قاری کو پڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ روایتی خاندان جس میں مسئلے مسائل، مشترکہ خاندانی نظام کی خوبیاں، خامیاں سبھوں کا ذکر بڑے حقیقت پسندانہ اور رواں انداز میں ہوتا ہے۔تاہم اِس نظام کی ایک تلخ اور بُری صورت کا اُن کے ہاں اظہار بہت شدت سے ہوا ہے کہ ان کی والدہ جو اِس لمبے چوڑے گھرانے کی بڑی بہو تھیں اور جن کا زیادہ وقت باورچی خانے میں صبح دوپہر شام کے کھانے بنانے،کھلانے اور برتنوں کی صفائی ستھرائی میں گزرتاتھا۔ پورے خاندان کی بے مثال خدمت گزار خاتون کے اِس کردار نے منٹو صاحب میں اِس نظام سے متعلق گہرا منفی اثر مرتب کیا۔
اپنے بارے بہت حقیقت پسندی کا اظہار ہے۔ایف ایس سی میں اپنی ناکامی کا ذکر،منشی فاضل سے بی اے اور لا کالج کا زمانہ جو اُن کی ابتدائی سٹوڈنٹ سیاسی سرگرمیوں کا بھی آغاز ہے۔یہاں سعادت حسن منٹو سے ملاقات کا ذکر بھی بڑے دلچسپ انداز میں ہوتا ہے۔
تسنیم سے ملنا اور شادی کی مختصر تفصیل مزے کی ہے۔
تسنیم کے وجود سے منٹو صاحب کا جو کنبہ بنا اس میں تین بچے سائرہ،صالحہ اور بلال شامل ہوئے۔خاندان کے معاشی مسائل کا ذکر اور یہ اعتراف بھی کہ وہ اپنے نظریات کی وجہ سے کبھی امراء کے وکیل نہیں رہے۔ تو پیسے کا ہمیشہ ہی مسئلہ رہا۔تاہم اصولوں پر سمجھوتہ کبھی نہیں ہوا۔اسی باب میں گاڑی کے چوری ہونے اور قبائلی علاقے میں جانے اور ناکام لوٹنے کی تفصیلات بہت دلچسپ ہیں جنہیں پڑھ کر لطف آتا ہے۔
بقیہ سات ابواب جوکہ عنوانات سے ہی واضح ہیں۔ ان میں پاکستان کی سیاسی زندگی کے اندرونی اور بیرونی ہر سطح کے منظر نامے اپنے مکمل اثرات کے ساتھ موجود ہیں۔سماجی زندگی کے بہت اہم ایشو کا بھی ذکر ملتا ہے۔انڈیا اور دیگر ملکوں میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں کا ذکر ہے۔جن میں اُن کا کردار بہت نمایاں ہے۔ذاتی زندگی سے متعلق بہت سے دلچسپ واقعات اور عادات کی باتیں ہیں۔سگریٹ نوشی ایک سال جاری رکھنے اور دوسرے سال بند کرنے کی تفصیل بڑی حیران کن ہے۔
یہاں ان کی جیلوں میں یاترا کی کہانیاں ہیں۔کہیں فیصل آباد،کہیں بہاول پور، کہیں لاہور۔ان کے اپنے ساتھ ساتھ تسنیم اور بچیاں بھی مظاہروں اور احتجاج کی ڈور میں شامل ہو گئیں۔قانون شہادت کے سلسلے میں ویمنز ایکشن فورم اور انجمن جمہوریت پسند خواتین کے بینر تلے تسنیم کی گرفتاری اور جیل یاترا کابھی تفصیلی ذکر ہے۔
یہاں اِس بات کا ذکر کرنا اشد ضروری ہے کہ ان کا اسلوب اتنا سادہ اور دلچسپی سے بھرا ہوا ہے کہ نہ سیاسی حقائق بورکرتے ہیں اور نہ تاریخی اعدادوشمار۔وہ کہیں اپنا فلسفہ نہیں جھاڑتے ہیں۔ہر بات مدلل انداز میں پیش کرتے ہیں۔جو اصول انہوں نے اپنے لیے وضع کیے تھے وہ ہمیشہ اس پر کاربندرہے۔
اُن کی ریٹائرمنٹ پر ایک آدھ سال پہلے اپنی ایک ملاقات میں،میں نے ان کے انداز میں جو طمانیت اور سکون محسوس کیا تھا وہ قابل رشک تھا۔مجھے محسوس ہوا تھا جیسے ان کے جسم کا ہر عضو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں نے اپنی زندگی کا ہر دن اسی انداز میں گزارا جو اس کا حق تھا،اور اب میرا کام ختم ہوا۔پاکستان تیرا اللہ حافظ۔
ہاں یہاں تسنیم کا ذکر بہت ضروری ہے۔
میری جان تم نے تو کتاب پڑھی ہی نہیں۔تم نے کیسے کہہ دیا کہ میرا تو ذکر ہی نہیں۔
ہر دوسرے صفحے پر تو تم اور بچے موجود ہیں۔منٹو صاحب بہاولپور جیل میں ہیں تو تم بچوں کے ساتھ گاڑی میں اُن سے ملنے جارہی ہو۔گاڑی سائرہ چلاتی ہے۔سڑکوں کی حالت بھی اکثر ناگفتہ بہ۔ اب منٹو صاحب کی فکر مندی کہ سلامتی اور خیر سے سب آجائیں۔
اور اسی طرح جب تسنیم جیل پہنچ جاتی ہے تو منٹوصاحب رہائی کے لیے بھاگے پھرتے ہیں۔
کیسا پیارا جوڑا جس کی ذہنی ہم آہنگی ہر ہر لمحے ایک دوسرے کے موقف کی حمایت میں گزری۔
اگر میں یہاں اپنے بے حد محترم استادوں کے استاد، ان گنت خوبیوں اور لیاقتوں والے ڈاکٹر انوار احمد کا حوالہ دوں تو بات دل کش وزن والی ہوگی۔
کوئی چاردن پہلے میں نے منٹو فیملی کے ساتھ چند تصویریں فیس بک پر لگائیں۔
ماشاء اللہ سے کسی آج کے علم سے بے بہرہ بلال احمد جاوید نامی بچے نے ڈاکٹر انوار صاحب سے سوال کیا۔
”سر یہ عابد حسن منٹو سعادت حسن منٹو کے بیٹے ہیں کیا۔“
”نہیں یار اُنہوں نے جواب دیا۔یہ ہمارے فکری قائد ہیں۔سپریم کورٹ کے صدر رہے۔تب بھی وہ بے روزگار ہونے والے ورکرز کے مفت مقدمے لڑتے تھے۔اچھے جج اور وکیل ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بھٹو کی زرعی اصلاحات کی زد میں آنے والی زمینیں واگزار کرانے کے لیے پی پی پی کے سکریڑی جنرل سردار فاروق لغاری نے ضیا الحق کی قائم کردہ اسلامی شرعی عدالت سے جو فیصلہ اپنے حق میں لیا تھا اس کے خلاف عابدحسن منٹو کی اپیل 35سال سے سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔مگر مولویوں کے ڈر سے سپریم کورٹ فیصلہ کرنے سے خوف زدہ ہے۔“
اور بچے نے بے اختیار کہا تھا تو پھر یہ عظیم اور قیمتی آدمی ہیں۔جاگیر داروں کی آنکھوں میںخار بن کرکھٹکنے والے۔
تو یہ ہیں ہمارے عابد حسن منٹو۔













