حیدر جاوید جیسے نوجوان — ہمارا اصل سرمایہ ، صفدر ھمدانی

0
1234

 حیدر جاوید جیسے نوجوان — ہمارا اصل سرمایہ
صفدر ھمدانی

پاکستان میں یہ شکوہ عام ہے کہ “کام کرنے والے لوگ نہیں ملتے”۔ سچ یہ ہے کہ اہل، بااخلاق اور مدد کرنے والے نوجوانوں کی کمی نہیں، کمی صرف ان کی حوصلہ افزائی اور پہچان کی ہے۔ جب ہم اچھے لوگوں کو سامنے نہیں لاتے تو معاشرہ یہی سمجھتا ہے کہ اچھائی ناپید ہو گئی۔
میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر یہ بات کہہ رہا ہوں۔ 2021 سے مجھے حبیب بینک، ڈیفنس برانچ لاہور میں لائف سرٹیفکیٹ جمع کروانے کے سلسلے میں مسلسل مشکلات کا سامنا تھا۔  غیر واضح طریقہ کار نے ایک سادہ کام کو اذیت بنا دیا تھا۔
جب میں نے ہمت کر کے بینک کی اعلیٰ انتظامیہ کو صورتحال سے آگاہ کیا تو جواب میں حیدر جاوید سے رابطہ ہوا۔ اور یہیں سے کہانی بدل گئی۔
حیدر جاوید نے کیا مختلف کیا؟
اس نے مسئلہ سنا، سمجھا اور پہلی کال پر حل کی طرف قدم بڑھایا۔ “سسٹم ایسا ہی ہے” کہہ کر جان نہیں چھڑائی۔
تہذیب: لہجے میں وہ تحمل اور شائستگی تھی جو کسی بھی ادارے کا اصل چہرہ ہوتی ہے۔ کسٹمر کو بوجھ نہیں، ذمہ داری سمجھا۔
حسن سلوک: فالو اپ خود لیا۔ جب تک لائف سرٹیفکیٹ کا عمل مکمل نہ ہوا، رابطے میں رہا۔
حیدر جاوید نے ثابت کیا کہ ایک فرد بھی پورے ادارے کا تاثر بدل سکتا ہے۔ بینک کی عمارت، اے سی اور مشینیں نہیں،اہل ملازمین ہوتے ہیں

اصل رکاوٹ کیا ہے؟
المیہ یہ ہے کہ حیدر جاوید جیسے لوگ خود اپنی تعریف سے گھبراتے ہیں۔ ان کے دل میں ایک انجانا خوف ہوتا ہے کہ اگر ان کی تشہیر ہو گئی، نام اخبار میں آ گیا، تو کہیں سینئر افسران یا ساتھ کام کرنے والے ساتھی ان کے مخالف نہ ہو جائیں۔ کہیں حسد یا “ٹیم سے آگے نکلنے” کا طعنہ نہ مل جائے۔ اسی ڈر سے وہ ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں: “سر، نام نہ لکھیں، بس دعا کریں”۔
یہ خوف ہمارے دفتری کلچر کا وہ زہر ہے جو اہلیت کو گمنامی کی قبر میں دفنا دیتا ہے۔ جب اچھا کام کرنے والا خود سامنے آنے سے ڈرے گا تو نئی پود کو رول ماڈل کہاں سے ملیں گے؟

ہمیں “شکایت کلچر” سے نکل کر “تعریف کلچر” کو فروغ دینا ہوگا۔ اور تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی دینا ہوگا۔ جہاں دس لوگ کسی ادارے کی برائی بیان کر رہے ہوں، وہاں ایک شخص کھڑے ہو کر حیدر جاوید جیسے لوگوں کی مثال دے۔ اور ادارے کا فرض ہے کہ وہ اپنے ایسے ملازمین کی پیٹھ تھپتھپائے تاکہ باقی ساتھی حسد کے بجائے تقلید کریں۔

اداروں کی اعلیٰ انتظامیہ سے گزارش ہے کہ سالانہ رپورٹس میں صرف منافع نہ گنیں۔ ایسے افراد کو نمایاں کریں اور واضح پیغام دیں کہ “اچھا کام کرنے پر عزت ملے گی، مخالفت نہیں”۔ جب یہ یقین ہوگا تو ہر برانچ میں ایک حیدر جاوید پیدا ہوگا۔

پاکستان کو کسی اور ملک سے افرادی قوت منگوانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے۔ بس ہمیںایسے افراد پہچاننے ہیں، ان کو شاباش دینی ہے اور انہیں مثال بنانا ہے۔ کیونکہ قومیں تنقید سے نہیں، تحسین سے بنتی ہیں۔

حیدر جاوید جیسے نوجوان بینکاری کے شعبے میں قابل تقلید ہیں۔ اور یہ کالم ان تمام گمنام ہیروز کے نام جو روزانہ کسی نہ کسی کا مسئلہ اپنی مسکراہٹ اور اہلیت سے حل کرتے ہیں، مگر تعریف کے ڈر سے پردے میں رہتے ہیں۔ آپ ہمارا فخر ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم آپ کا پردہ نہیں، آپ کا خوف ہٹائیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY