جے آئی ٹی رپورٹ, 5شخصیات سمن کے باوجود پیش نہ ہوئیں

0
749

پاناما کیس کی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق 5شخصیات جے آئی ٹی کے سمن کے باوجود پیش نہ ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیش نہ ہونےوالوں میں قطری شہزادہ حماد بن جاسم بن جابر الثانی اور وزیراعظم کے قریبی ساتھی امریکی شہری شیخ سعید بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شیخ سعید حدیبیہ ملز کیس اور ہل میٹل میں پیسوں کی منتقلی کے معاملے پر مطلوب ہیں۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق جےآئی ٹی میں پیش نہ ہونےوالوں میں اسحاق ڈارکی اہلیہ کابھانجا موسیٰ، حدیبیہ ملز کیس کے مرکزی گواہ کاشف مسعود قاضی اور التوفیق کیس کےشیزی نقوی بھی شامل ہیں۔

پاناما جے آئی ٹی رپورٹ نے شریف خاندان کی برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مزید کئی آف شور کمپنیوں کی ملکیت سے پردہ اٹھادیا۔ رپورٹ کےمطابق شریف خاندان کا کوئی بھی فرد دوران تفتیش تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

پانامہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں شریف خاندان کی ملکیت میں مزید آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں شریف خاندان کی زیر ملکیت جن آف شورکمپنیوں سے پردہ اٹھایا گیا ان کا نیٹ ورک برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پھیلا ہوا ہے۔ سعودی عرب میں قائم ’ہل میٹلز اسٹیبلشمنٹ‘ نامی کمپنی، برطانیہ میں قائم ’فلیگ شپ انوسٹمنٹ‘ نامی کمپنی اور یو اے ای میں قائم ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ نامی کمپنی کے درمیان بڑے پیمانے پر رقوم کی لین دین کیا جاتی ہے۔
رپورٹ میں شریف خاندان کی برطانیہ میں کمپنیوں کے ساتھ منسلک نئی آف شور کمپنیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ جن میں نیسکول لمیٹیڈ، نائلسن انٹرپرائزز لمیٹیڈ، الانا سروسز لمیٹیڈ، لامکن ایس اے، کومبر گروپ اور ہلٹرن انٹرنیشنل لمیٹیڈ شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہی کمپنیوں کے ذریعہ رقم برطانیہ منتقل ہوئیں اور برطانیہ میں مہنگی ترین جائیدادیں خریدیں گئیں۔ رپورٹ میں شریف خاندان کی جانب سے رقوم کی برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای اور پاکستان میں گردش کے ایک وسیع گورکھ دھندے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ انہی کمپنیوں کی جانب سے کمائی گئی رقوم تحفوں کی شکل میں پاکستان بھیجی گئی لیکن جب دوران تفتیش شریف خاندان سے تحفوں سے متعلق پوچھا گیا تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے

SHARE

LEAVE A REPLY