ہمیں معلوم نہ تھا ایسا بھی ہو گا کاظم

0
242

تیری خاطر وہ خدائوں سے بھی لڑ جائے گا
تیری فرقت میں تو وہ جاں سے گزر جائے گا

یہ ہی دھوکا مرے ساقی نے دیا تھا مجھ کو
کیا خبر تھی یہ نشہ سر سے اتر جائے گا

میری نبضوں میں وہ رہتا تھا مری جاں بن کر
یہ تو سوچا ہی نہ تھا ایسے مکر جائے گا۔

دل میں اس الفت جاناں کی کسک باقی ہے
کیا خبر تھی وہ سر راہ ہی بچھڑ جائے گا

ہمیں معلوم نہ تھا ایسا بھی ہو گا کاظم
دیکھ کر وہ ہمین بس یونہی گزر جائے گا۔

کاظمیات۔

SHARE

LEAVE A REPLY