قومی کتاب میلہ میں سٹیج سے گرنے والی شاعرہ فرزانہ ناز کی تدفین

0
1138

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ۔ )نیشنل بک فاونڈیشن ،اسلام آباد کے زیراہتمام قومی کتاب میلہ کی اختتامی تقریب کے دوران، راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی شاعرہ فرزانہ ناز پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر کے آڈیٹوریم میں سٹیج سے گرنے کے بعد نجی ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں ۔گزشتہ رات انہیں شدید زخمی حالت میں شفا ء انٹرنیشنل ہسپتال میں لے جایاگیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق سر کی شدید چوٹ سے فرزانہ ناز کا آدھا دماغ ختم ہو چکا تھا اور ریڑھ کی ہڈیاں بھی ٹوٹ چکی تھیں ۔اس حالت میں ان کا آپریشن کرنا ممکن نہیں تھا ۔ ان کے تمام ٹیسٹ منفی آ رہے تھے ۔

ڈاکٹروں نے گزشتہ شام ان کی موت کی تصدیق کر دی تھی ۔ ان کے لواحقین میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے ۔ جنکی عمریں بالترتیب چار اور چھ سال ہیں۔ بعدازاں مرحومہ فرزانہ ناز کو رات گئے راولپنڈی کے قبرستان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردخاک کردیا گیا۔

اس حادثے کے حوالے سے شاعروں و ادیبوں کا موقف تھا کہ پاک چائنہ سنٹر میں قائم یہ سٹیج بارہ فٹ اونچا ہے۔ جو انتہائی غیر مناسب ہے۔اس سٹیج پر رونما ہونے والا یہ چھٹا حادثہ ہے۔جس پر سے گر کر مختلف تقریبات کے دوران دو بچے اورایک فوگرافر بھی زخمی ہو چکے ہیں ۔

دوسری جانب اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کا موقف ہے کہ یہ سنٹر دوست ملک چین نے تحفے میں بنا کردیاہے۔ اس لئے وہ سنٹر میں قائم اس سٹیج کو ختم نہیں کر سکتے ہیں ۔اسی طرح نیشنل بک فاونڈیشن کی انتظامیہ اپنا سالانہ میلہ ہرسال اسی سینٹر میں کروانے پر بضد ہے۔ اہل قلم کا کہنا ہے کہ آئندہ اس ناقص سٹیج والے ہال کو اس مقصد کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔

علاوہ ازیں شفا ء ہسپتال کی انتظامیہ نے مرحومہ کے علاج کی مد میں تین لاکھ روپے کا بل جاری کیا،جس کی ادائیگی بھی ایک مسئلہ بنی رہی ۔ شاعرہ کے خاوند کا کہنا تھا کہ لوگوں نے انکی بڑی مدد کی ہے اور تمام شعبوں سے متعلق عوام نے تعاون کیا ہے۔ جبکہ شفاہسپتال نے اس ضمن میں کوئی موقف دینے سے انکار کر دیاہے۔

اس حوالے سے قومی کمیشن برائے ثقافتی ورثہ کے نگران اعلی عرفان صدیقی نے فرزانہ نازکی حادثاتی موت پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ کمیشن مرحومہ کے بچوں کی کفالت اور انکی مالی اعانت کا خیال رکھے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY