صدام حسین کی لاش پھانسی کے 12 سال بعد کہاں ہے

0
2418

عراق کے سابق صدر صدام حسین کو دسمبر 2006ء میں پھانسی دی گئی تھی اور ا س کے بعد ان کی میت کو ان کے آبائی قصبے العوجہ میں دفن کیا گیا تھا ۔پھر اس پر مقبرہ بنادیا گیا تھا۔

تب امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے خود سابق عراقی صدر کی لاش کو ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بغداد سے شمالی شہر تکریت میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

صدام کے قبیلے البو نصر کے سربراہ شیخ مناف علی الندا کے پاس لاش کی وصولی سے متعلق ایک دستخط شدہ خط موجود ہے۔اس میں انھوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا تھا کہ میت کی بلا تاخیر تدفین کردی جائے گی۔

اس کے بعد سے ہر سال 28 اپریل کو صدام حسین کی قبر پر زائرین کی بڑی تعداد کی آمد ہوتی ہے۔یہ ان کی سالگرہ کا دن ہے اور اس روز وہاں آنے والوں میں اسکول کے بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔

لیکن حال ہی میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان کے مقبرے کو شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے ایک فضائی حملے میں مسمار کردیا ہے۔ الحشد الشعبی کو اس علاقے کو داعش سے پاک کرنے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ صدام حسین کا مقبرہ کھلا ہوا تھا ۔بعض کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی ہالا ایک نجی طیارے میں سوار ہوکر تکریت آئی تھیں اور وہ اپنے والد کی باقیات کو وہاں سے اردن ساتھ لی گئی تھیں ۔

ڈیلی مانیٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق جامعہ کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ یہ ناممکن ہے ۔انھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’ ہالا کبھی عراق واپس نہیں آئی ہیں ۔یہ ہوسکتا ہے کہ (صدام حسین کی) باقیات کو کسی خفیہ جگہ پر منتقل کردیا گیا ہو لیکن کوئی نہیں جانتا کہ کس نے یہ کام کیا ہے اور لاش کو کہاں منتقل کیا گیا ہے‘‘۔

یہ بھی ممکن ہے کہ صدام حسین کے مقبرے کے ساتھ وہی معاملہ پیش آیا ہو جو ان کے والد کی قبر کے ساتھ پیش آیا تھا۔ان کے والد کی قبر کو نامعلوم افراد نے دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ عراق میں بعض لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو اب تک یہ یقین رکھتے ہیں کہ صدام حسین زندہ ہیں اور وہ مصلوب نہیں ہوئے تھے۔ان میں بغداد کے ایک مکین ابو ثمر بھی ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ ’’صدام مرا نہیں تھا بلکہ ان کے کسی ہم شکل کو پھانسی دی گئی تھی ‘‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY