درج آنکھوں سے جو عبارت کی ۔نقاش عابدی

0
852

درج آنکھوں سے جو عبارت کی
داد دیتا ہوں اس مہارت کی

اب بھی جذبوں کو یاد آتی ہے
سرد راتوں میں اس حرارت کی

دل میں طوفان سا امڈ آیا
اس کی آنکھوں نے جب شرارت کی

میرے احساس کے گھروندے کو
زندگی بخش دی عمارت کی

محفلِ حسن تھی تصور میں
اس نے ماحول کی صدارت کی

درد کو روکنا ہوا مشکل
جب کبھی یاد کی جسارت کی

دونوں جانب اناؤں نے مارا
زندگی فرقتوں میں غارت کی

نقاش عابدی

SHARE

LEAVE A REPLY