درج آنکھوں سے جو عبارت کی
داد دیتا ہوں اس مہارت کی
اب بھی جذبوں کو یاد آتی ہے
سرد راتوں میں اس حرارت کی
دل میں طوفان سا امڈ آیا
اس کی آنکھوں نے جب شرارت کی
میرے احساس کے گھروندے کو
زندگی بخش دی عمارت کی
محفلِ حسن تھی تصور میں
اس نے ماحول کی صدارت کی
درد کو روکنا ہوا مشکل
جب کبھی یاد کی جسارت کی
دونوں جانب اناؤں نے مارا
زندگی فرقتوں میں غارت کی
نقاش عابدی













