گڈریا اور شیر۔۔ طارق بٹ

0
304

شائد ہی کوئی ہو جس نے یہ کہانی بچپن سے نہ سن رکھی ہو۔ اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب یقین ہے کہ سب نے سن رکھی ہے تو پھر تمہیں چول مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ کو یہ کہانی سنائوں بھی اور پڑھائوں بھی۔اب آپ کے سامنے ایک بڑا سا کیوں آ جائے گا۔ تو اس کیوں کا جواب بھی یہ ہے کہ بس میرا دل چاہ رہا ہے اور میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ تیار ہو جائیے کہانی شروع ہونے والی ہے۔ میرے گاؤں جیسا ایک گاؤں تھا۔ اس سے تھوڑا چھوٹا یا شائید اس سے تھوڑا بڑا ہو گا۔ چھوٹا ہو یا بڑا اس سے کہانی پر کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ اس گاؤں میں ایک گڈریا رہتا تھا۔ اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس گاؤں میں صرف ایک ہی گڈریا رہتا تھا اور بھی لوگ اس گاؤں میں بستے تھے جن میں چند گڈریے بھی تھے مگر میں ایک مخصوص گڈریے کو زیر بحث بنا رہا ہوں۔ خیر یہ گڈریا اپنی بھیڑوں اور بکریوں کا ریوڑ لے کر گاؤں سے ذرا فاصلے پر موجود ایک چھوٹے سے جنگل میں چرانے لے جایا کرتا تھا۔

اب اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ باقی گڈریے نہیں جاتے تھے۔ ارے بابا سارے گڈریے اپنی بکریوں اور بھیڑوں کو چرانے اسی جنگل میں جاتے تھے۔ ایک تو آپ بار بار ٹوک دیتے ہیں اس طرح ٹوکتے رہے تو کہانی کبھی مکمل نہیں ہو پائے گی۔ خیر باقی گڈریوں کو چھوڑیں اور بار بار ٹوکنا بند کریں۔ جس گڈریے کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ دوسرے گڈریوں سے مختلف تھا بس یوں سمجھ لیں وہ بڑا زیرک اور سمجھدار تھا یا یوں کہہ لیں کہ سیاستدان قسم کا تھا۔ بالکل ویسا ہی جیسے ہمارے کچھ سیاستدان ہیں۔ گڈریا کرتا یوں کہ ہر ہفتہ دس دن بعد جب وہ اپنی بکریوں کے ساتھ جنگل میں موجود ہوتا تو گاؤں کی طرف منہ کر کے زور زور سے آوازیں لگانا شروع کرتا شیر آیا شیر آیا۔ گاؤں والے بے چارے کوئی لاٹھی اٹھائے، کوئی بندوق اٹھائے، کوئی ہاتھ میں ٹوکا پکڑے جنگل کی طرف بھاگتے کہ اپنے بھائی کی مدد کو پہنچیں مگر جب وہ وہاں پہنچتے تو شیر کا نام ونشان تک نہ ہوتا اور شرارتی گڈریا بتیسی نکالے ان کا تمسغر اڑا رہا ہوتا۔ گاؤں والے سادہ لوح پوچھتے اس بار تم نے پھر وہی حرکت کی جو ہمیشہ کرتا ہے۔ تو وہ بڑی ڈھٹائی سے جواب دیتا۔ آپ کو تکلیف ہوئی معذرت مگر میں تو اپنی مقبولیت کا اندازہ لگا رہا تھا کہ دیکھوں کتنے لوگ میری آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ اس گاؤں میں کتنے ہیں جو میری مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔ کتنوں کے دل میں میری چاہت ہے۔

گاؤں کے بزرگوں نے سمجھایا کہ بیٹا ایسا نہیں کرتے پورا گاوں تمہارا بہت خیال رکھتا ہے تمہاری وجہ سے نہیں تمہارے بڑوں کی وجہ سے لیکن اگر تم بار بار گاؤں والوں کو امتحان میں ڈالو گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پکارتے رہ جاؤ اور تمہاری پکار پر تمہاری طرف لپکنے والا کوئی نہ ہو۔ خوش فہمیوں میں مبتلا ایسی بات پر کہاں دھیان دیتے ہیں وہ تو سوچ بیٹھے ہوتے ہیں کہ سب میرا ہے۔ سب میری وجہ سے ہے۔ سب کو میرا خیال رکھنا ہے۔ ایسا ہی ہوا گڈریے نے بزرگوں کے کہے کو ایک کان سے سن کر دوسرسے اڑا دیا۔ اپنی حرکات جاری رکھیں۔ اور پھر وہ وقت بھی آ گیا جب اسے خمیازہ بھگتنا تھا۔ قدرت خدا کی کرنی کہ اس بار سچ مچ شیر آ گیا۔ لگا چیخنے چلانے شیر آیا شیر آیا۔ اب کی بار شیر تو ضرور آیا مگر گاؤں سے کوئی نہ آیا۔ اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ سنا ہو گا نا آپ نے کہ شکاری بڑے غرور سے اپنے شکار کے قصے بیان کرتا تھا۔ اس کے ساتھ جانے والے دوست بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے آخری قصہ دوست کو سنانا پڑا تھا۔ ادھر سے ہم جا رہے تھے ادھر سے شیر آ رہا تھا۔ ہم بھی دبے قدموں اور شیر بھی دبے قدموں آگے بڑھ رہا تھا۔ مصالحے لگا لگا کر بیان کرنے والا سننے والوں کے تجسس کو بڑھاوا دے رہا تھا۔ جب ان میں برداشت نہ رہی تو پوچھ ہی بیٹھے کہ جب شیر اتنے قریب آگیا تو پھر کیا ہوا۔ سنانے والے نے کہا پھر وہی ہوا جو شیر نے چاہا۔ شیر تو رہا پر ہمارا دوست نہ رہا۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ ریوڑ تو رہا پر گڈریا نہ رہا۔ اب آپ میری مانیں تو گڈریے کو گولی ماریں۔ بلکہ ایک بار پھر میری مانیں تو گولی مارنے سے اجتناب برتیں۔ کیا ضرورت ہے۔ گولی مارنے کی گڈریے کا بندوبست شیر نے کر دیا ہم اس کہانی سے آگے بڑھتے ہیں۔

لیکن ایک درخواست ہے کہانی کو ذہن سے نکلنے نہ دیجئے گا اسے ذہن میں محفوظ رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں اور اب ذکر کرتے ہیں اپنے محبوب لیڈر جناب چودھری نثار علی خان کا۔ موصوف بھی اس گڈریے کی مانند جو ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہے آئے روز اپنے چاہنے والوں کو آزمائش میں مبتلا کرتے رہتے ہیں۔گو کہ آج کل ان کی کمر کا درد اللہ کے فضل سے کافی بہتر ہو چکا ہے مگر ان کا ایک موقف اپنا لینا اور پھر اس پر ڈٹ جانا اور پھر دس پندرہ روز بعد ایک نئی پریس کانفرنس کا اعلان کر دینا اور پھر تقریباً ایک گھنٹہ اور تیرہ منٹ کی پریس کانفرنس کے بعد بھی اپنا پورا مؤقف بیان نہ کرنا ۔ عجب قصے اور غضب کہانی کو جنم دیتا ہے۔ ادھر پریس کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچتی ہے ادھر الیکٹرانک میڈیا کہ جس کی اب یلغار ہے۔ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بھانت بھانت کی بولیاں بولنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ یہ کہنا چاہتے تھے مگر کہہ نہ سکے انہیں یہ کہنا چاہیے تھے مگر انہوں نے نہیں کہا۔ ارے بابا انہوں نے جو کہنا تھا کہہ دیا اور جو نہیں کہا وہ آپ ان کے منہ میں ٹھونسنے والے کون ہوتے ہیں؟ کیا وہ آپ سے پوچھ کہ آپ سے مشاورت کر کے پریس کانفرنس کیا کریں۔

اس مشاورت سے اب یہ بھی ذہن میں آگیا کہ جناب چودھری نثار کو بہت دکھ ہے کہ ان کی جماعت مسلم لیگ ن میں مشاورت نہیں ہوتی اگر ہوتی بھی ہے تو کم از کم چودھری نثار علی خان کے ساتھ نہیں ہوتی یاں یوں کہہ لیں کہ کبھی ہوا کرتی تھی مگر اب نہیں ہوتی اور یہ ان کے لیے قابل برداشت نہیں۔ چلیں مان لیا کہ آپ کے لیے بھی قابل برداشت نہیں اس لیے کہ آپ ان کے ووٹر اور سپورٹر ہیں اور گزشتہ تقریباً پندرہ سالوں سے لگاتار چوہدری صآحب کو ووٹ دیتے چلے آ رہے ہیں۔ مگر مشاورت موصوف چوہدری صاحب نے آپ سے بھی کبھی نہیں کی مگر آپ کا شکوہ بنتا نہیں اس لیے کہ آپ کے اور چودھری صاحب کے مقام میں بہت فرق ہے۔ آپ اور میں تو فقط ایک ووٹر ہیں ناچیز سے ووٹر جن کی اہمیت صرف پولنگ والے دن ہوتی ہے کہ اس روز میں اور آپ VIPہوتے ہیں۔ ہمارے لیے گاڑیاں ہمارے دروازوں پر آتی ہیں ڈرائیور دروازہ کھول کر گاڑی میں بٹھاتا ہے اور پولنگ بوتھ تک لے جاتا ہے۔ ووٹ ڈالیے پولنگ کیمپ میں تشریف لائیے انواح واقسام کے کھانے تناول فرمائیے ۔شوفر والی گاڑی میں تشریف رکھے اور واپس اپنے گھر تشریف لے آئیے۔ اس کے بعد میری اور آپ کی وقعت ختم۔ زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں اپنی اوقات میں رہنا چاہیے میں تو اپنی اوقات میں رہتا ہوں مشورہ آپ کے لیے بھی یہی ہے۔ ہاں البتہ چودھری صاحب کو مشاورت کے سلسلے میں نظر انداز کر کے پارٹی نے از حد زیادتی کی ہے۔ اسی لیے تو وہ بہت خفا ہیں۔ بہت کچھ تشت ازبام کرنا چاہتے ہیں مگر پھر پتا نہیں کیوں کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے کے مصداق بہت کچھ ان کہا رہ جاتا ہے۔ چند دن سوچنے کے بعد پھر انہیں یاد آتا ہے کہ مزید کچھ کہناچائیے۔ پھر پریس کانفرنس کا اعلان ہو جاتا ہے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ چھوڑیئے رہنے دیجئے۔ واپس گڈریے کی طرف چلتے ہیں۔ وہ جس شیر کو بار بار بلاتاتھا آخر ایک دن وہ آ ہی گیا تھا۔ چودھری صاحب کے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ وہ بھی بار بار جس شیر کو بلاتے ہیں۔ اب اس نے آجانا ہے۔ اس لیے کہ اس نے چودھری صاحب کی پکار سن لی ہے۔ یقین جانیے میں آپ کو اندر کی بات بتا رہا ہوں۔ اور جب شیر آ جائے گا تو پھر ہونا وہی ہے جو ہوتا آیا ہے یعنی وہی ہو گا جو شیر چاہے گا اور شیر تو ہر گز وہ نہیں چاہتا جو چودھری نثار علی خان چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY