یہ لکھ کے رکھ دے قلم کو بلال اب اپنے

0
135

نوحہ
ریئس شہر مدینہ نہ لوٹ کر آیا
شہہ عرب کا نواسہ نہ لوٹ کر آیا

پناہ گاہ تھا گھر جس کا ہر بشر کے لیے
وہ ابن حیدر و زہرہ نہ لو ٹ کر آیا

گھروں میں آل پیمبر کے ہے یہی گریہ
ابولحسن کا اثاثہ نہ لوٹ کر آیا

پیاس علم بجھائے گا کون امت کی
نبی کے فیض کا چشمہ نہ لوٹ کر آیا

لعین زادوں کے تیروں میں اپنے بھائی کا
اٹھانے والا جنازہ نہ لوٹ کر آیا

ملی تھی جس کو وراثت میں ذولفقار علی
وہ ناز جعفر و حمزہ نہ لوٹ کر آیا

یہ لکھ کے رکھ دے قلم کو بلال اب اپنے
حبیب و جون کا مولا نہ لوٹ کر آیا
بلال رشید

SHARE

LEAVE A REPLY